برلن کی گلیوں میں۔۔۔۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 ایک بار پھر اس زمین نے میرے پائوں پکڑ لیے۔ برلن نوردی کے دن آگئے، میں نے جان لیا۔

مگر بہت مختصر لمحے کے لیے۔

اتنی مہلت بھی بہت ہے۔ اس کا بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کروں گا۔ میں نے دل ہی دل میں طے کیا۔ اور تھوڑی دیر میں اپنے ارادوں کو خاک میں ملتے ہوئے دیکھ لیا۔ خاک پر خاک، وہ بھی برلن کی خاک۔

اس خاک میں جلی ہوئی کتابوں کی راکھ بھی شامل ہے۔ کتابیں جو نصوح نے جلائیں،___ ارے وہی توبہ والے___ پھر ہٹلر نے جلوائیں۔ ان جلی ہوئی کتابوں کے اوراق یادوں میں اڑتے پھرتے ہیں، میرا ذہن راہ سے بھٹک جاتا ہے۔

کرچی میں ہٹلر یاد آتا ہے اور نواحِ برلن میں نصوح۔ میں عجیب مشکل میں ہوں۔

 برلن کا نام سن کر میں جاگتے میں بھی چونک اٹھتا ہوں۔

اصل میں، برلن ذرا بعد میں آیا۔ لیکن سوئی وہاں اٹک گئی۔ لندن کے بعد پیرس اور روم___ یوروپ کے جن شہروں کو پڑھنے یا چشم تصوّر میں دیکھنے کا اتفاق ہوا اس میں ان دونوں کو فوقیت حاصل رہی۔ لیکن اتفاق برلن کی طرف لے گیا۔ اس شہر کو میں نے مختلف حالات اور کیفیت میں دیکھا۔ جب پہلی بار دیکھا تو تقسیم شدہ شہر تھا جس کے چاروں طرف دیوار کھنچی تھی اور شہری بندش کی شکایت کرتے تھے ۔ دیوار گر جانے کے بعد آزادی اور تعمیر نو سے سرشار جو شہر دوسری بار دیکھا، مختلف تھا۔ اب جو دیکھوں گا وہ کیسا ہوگا؟ اس شہر کا سفر اس شخص سے ملاقات کی طرح لگ رہا ہے جسے آپ عمر کی مختلف منزلوں میں دیکھتے ہیں، تبدیلی پربھی نظر ڈالتے ہیں اور اس عمومی مزاج پر بھی جو بہت بدلنے کے باوجود کتنے بہت سے معاملات میں اسی طرح رہتا ہے۔

شہر وہی تھا، شہر کی کیفیت اس بار بدلی ہوئی تھی۔

میں خود بھی تو وہ نہیں رہا تھا۔ برلن تم پہچان رہے ہو میں اب وہ نہیں رہا؟ تم کو وہ نوجوان یاد ہے، حوصلہ مند اور دن میں خواب دیکھنے والا۔ جستجو کا مارا۔ اور وہ شخص جس کے مزاج میں پُختگی نہیں آئی، پُر اعتماد مگر یقین و گمان کی سرحد پر بھٹکتا ہوا۔ میں وہ نہیں ہوں۔

لیکن یہ تو شہر کا تعارف نہ ہوا۔

میرے قدموں کی آواز سڑک سے سناٹے کو گونجنے لگی ہے۔

 چند قدم بعد ہی میں واپس چلا آیا۔

سرشام کا وہ دھوکے باز وقت۔ جھٹ پٹا نہیں ہوا ہے۔ اجالا پھیلا ہے لیکن گھڑی کچھ اور وقت بتا رہی ہے جس کے مطابق دن بیت گیا۔

یہ سڑک شام کے سناٹے میں ڈوبی ہوئی ہے۔

ہوا تیز ہے اور اس کے ساتھ بارش کی بوچھاڑ چلی آرہی ہے۔ سردی اور بارش، میرا جی چاہتا ہے واپس جاکر بستر میں دبک جائوں۔ پھر خیال آتا ہے مئی کا مہینہ ہے جس کے بارے میں انتظار صاحب شعر پڑھا کرتے تھے کہ بہا اڑی سے چوٹی تک پسینہ۔ وہی مئی کا مہینہ اور یہاں پسینہ خُشک ہے۔

ہوٹل میں داخل ہوتا ہوں، پھر رک جاتا ہوں۔ تھوڑی دیر لائونج میں سستا لوں، پھر نکلنے کا ارادہ باندھوں گا۔ مگر میں سوچتا ہی رہ جاتا ہوں سفر کی رات سارے جسم میں طاری ہے۔ میں اپنی پچھلی رات اور رات کے سفر کا ابھی تک اسیر ہوں۔ تھوڑی دیر میں تازہ دم ہو جائوں گا۔ لیکن اس کی نوبت آنے نہیں پائی۔

جس دن آپ پہنچیں گے، اس رات کانفرنس کا ڈنر ہوگا، منتظمین نے پہلے ہی مُطلّع کر دیا تھا۔ ہوٹل کے لائونج میں ساڑھے چھ بجےوہ خاتون آ جائیں گی جو آپ کو ڈنر والے ریستوران تک لے جائیں گی۔ کچھ لوگ ہوائی اڈے سے براہِ راست بھی آرہے ہیں، اس لیے آپ اپنے طور پر آنا چاہیں تو سڑک کا نام یہ ہے، عمارت نمبر فلاں، زیرِ زمین راستہ فلاں اور بس نمبر فلاں۔

اب یہ سب کون تلاش کرتا پھرے، میں نے دل میں سوچا، ان خاتون کی راہ نمائی میں چلتے ہیں۔

تو سمٹا سکڑا سا میں برلن کی اس شام ایک موٹی سی جیکٹ پہن کر اپنے باقی ماندہ ساتھیوں کو ڈھونڈتا ہوا چل پڑا۔

ذرا دیر میں شہر راستہ دینے لگا۔

وہاں پہنچنے کے بعد پہلا نوالہ بھی پھیکا لگا۔

کانفرنس کے منتظمین نے اس شام کے لیے ایک ایرانی ہوٹل کا انتخاب کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہاں کا کھانا بہت پسند کیا جاتا ہے۔ ضرور کیا جاتا ہوگا مگر میں تو کھانے کے معاملے میں بھی سبکِ ہندی کا قائل ہوں۔ یوں لگتا ہے کہ ذائقے کے سارے رنگ مرچ مصالحے کے نام پر سونت لیے گئے ہیں۔ اونچی دکان پھیکا پکوان۔ مگر یہ بھی اس ہوٹل سے زیادہ میرا قصور نکل آیا۔

مینو کارڈ سامنے آیا تو میں گڑ بڑا گیا۔ فارسی نام اور ان کی تفصیل جرمن میں لکھی ہوئی۔ ایسے کارڈ کا کیا کرے کوئی؟ ایک عنوان میں سبزی پنیر دیکھ کر جی خوش ہوا۔ دلّی کے ذائقے یاد آگئے۔ مگر اس نام پر یہاں جو سامنے آیا اس میں پتّے ہی پتّے۔ اس کو کیسے کھائوں، پیاز کی اتنی بڑی گول گٹّھی دیکھ کر میں نے سوچا۔

اس بُرے وقت میں چلو کباب کام آئے اور باقی توجہ میں نے اپنے ساتھیوں سے گفتگو میں مبذول کی۔

یہ رخشندہ جلیل ہیں، ہندوستان کی معروف مصنّف اور اسکالر۔ ایک زمانے کے بعد ملاقات ہورہی ہے۔ مگر ہم سب سے پہلے ایک دوسرے سے انتظار صاحب کی تعزیت کرتے ہیں جو ہمارے درمیان قدر مشترک اور رابطے کا حوالہ تھے۔ اور شاید ہمیشہ رہیں گے۔ یہ صوفیہ صدیقی ہیں، برلن میں ’’پوسٹ ڈاک‘‘ کے لیے آئی ہوئی ہیں اور کانفرنس کا اہتمام انھوں نے کیا ہے۔ ان کے برابر بیٹھی ہوئی خاتون جو بہت لہک کر مل رہی ہیں۔ کرسٹینا ایسٹرہیلڈ ہیں جو ہائیڈل برگ یونیورسٹی سے وابستہ ہیں اور چند ماہ پہلے پاکستان کا پھیرا لگا کر گئی ہیں۔ اچھا تو یہ مارگرٹ پرنائو ہیں، بہت معتبر اور ذی وقار جن کے کام نے تنقید و تحقیق کے نئے راستے بنا دیے ہیں۔ یہ رزاق خان ہیں، کئی برس سے تحقیق میں مصروف ہیں۔ پونی ٹیل والا نوجوان اس میدان میں نوارد ہے، اس کا نام صہیب ہے۔ یہ جو بزرگ میرے برابر بیٹھے نہایت خوش دلی سے مسکرا رہے ہیں، یہی ڈیوڈ لیلی ویلڈ ہیں۔ اوہو، اچھا تو آپ ہیں۔ کئی برس پہلے میں نے ان کی کتاب پڑھی تھی، میں ان سے کہتا ہوں۔ سبھی یہی بات کہتے ہیں، وہ دھیمے لہجے میں مسکراتے ہیں اور بڑے اطمینان سے باتیں کرنے لگتے ہیں۔ وہ ان لوگوں میں سے نہیں ہیں جو اپنے علم اور تجربے سے بوجھوں مارتے ہیں۔ بہت سہولت کے ساتھ دل چسپ باتیں کرتے جاتے ہیں۔

’’ان کو ناول نگار ہونا چاہیے تھا‘‘ اس گروپ میں سے کوئی کہتا ہے۔ سب ہنس پڑتے ہیں۔

ہنسنے کے لیے مشترک باتیں ہوں تو اس کا مطلب ہوا کہ گروپ تشکیل پا چکا ہے۔

گروپ کو لائحہ عمل بھی مل گیا۔ صبح کتنے بجے ہوٹل کی لابی میں ملنا ہے اور اس جگہ جانا ہے جہاں کانفرنس کا انعقاد ہوگا۔

میں ان کے ساتھ ہی جانا چاہتا ہوں تاکہ راستہ نہ ڈھونڈنا پڑے۔ اس شہر کے یہ راستے اب اجنبی معلوم ہوتے ہیں۔

صبح ناشتے کی میز پر اس ٹُکڑی میں ایک نیا کبوتر بھی شامل ہوگیا۔ مسکراتا ہوا، لمبا چوڑا امریکی میکس۔ برکلے میں اردو پڑھاتا ہے۔ اردو میں شاعری کرتا ہے، نادر تخلّص ہے اور خالی خولی تخلّص کا جھمیلا نہیں، مشاعرے بھی پڑھتا ہے اور مشاعرہ نہ بھی ہو تو ذرا سے اشارے پر برپا کرنے کے لیے تیار رہتا ہے۔ کامران اصدر علی کو جانتا ہے۔ عشرت آفریں کا شاگرد ہے اور روائتی احترام کے ساتھ ان کا نام لیتا ہے۔ ملاقات کے پہلے ہی لمحے میں شعر پڑھنا شروع کر دیا۔ جانے کہاں کہاں کے بھولے مصرع یاد میں جگمگا اٹھے۔ برلن میں ملاقات اور وہ بھی اردو شاعری میں سرتاسر ڈوبی ہوئی۔ عجب اتفاق ہے۔۔۔

 ایک ہلکے سے جھٹکے اور گونج دار آواز کے ساتھ ریل چل پڑی۔ پٹڑی کے دونوں طرف اسٹیشن کی دیوار جہاں تک ساتھ چلی، سفید ٹائل آویزاں تھے جن پر پہلی روشنی پڑرہی تھی۔ اسٹیشن کا نام پھر اندھیرے کی تہوں میں گم ہوگیا جب ریل زمین کے نیچے چلنے لگی۔

اپنی خیریت بتانے کے ساتھ ہی میرے دوستوں نے کتابوں کا احوال پوچھنا شروع کر دیا۔ کون سی نئی کتاب، فلاں مصنّف، یہ موضوع۔۔۔ میرے ساتھ کھڑے ہوئے رفیقِ سفر نے دوسرے ہاتھ سے سیٹ کی کگر تھامتے ہوئے پوچھا، اکبر الہٰ آبادی پر کوئی نیا تحقیقی کام ہوا ہے؟

مجھے بیٹھنے کے لیے سیٹ مل گئی تھی۔ میں نے پہلو بدلتے ہوئے جواب دیا، ابھی یاد کرکے بتاتا ہوں۔

میں سوچنے لگا تو ایک لمحے کے لیے پھر یہ سب کچھ غیرحقیقی سا لگا۔ برلن کی ٹرین پر بیٹھا ہوا میں۔ بلند آواز سے اپنے مخصوص لہجے میں سوال پوچھنے والا امریکی۔ ان باتوں کو غور سے سُن کر اپنی رائے بھی ظاہر کررہی تھیں کرسٹینا ایسٹرہیلڈ۔ دوسری سیٹ پر عمر رسیدہ اور باوقار پروفیسر ڈیوڈ لیلی ویلڈ بہت انہماک کے ساتھ رخشندہ جلیل سے گفتگو کررہے تھے۔ باقی لوگ ڈبّے میں ادھر اُدھر بکھر گئے تھے۔

اگر کوئی اور ملک ہوتا تو ریل کے دوسرے مسافر تعجّب کرتے کہ کئی ملکوں، بلکہ نسلوں سے تعلق رکھنے والے یہ لوگ اس قدر زور و شور سے کس اجنبی زبان میں باتیں کررہے ہیں۔ ہم اردو میں اور اردو کے بارے میں باتیں کررہے ہیں۔ برلن کی خوش گوار صبح تھی۔ باہر ہوا سرد اور چُبھتی ہوئی تھی اور ریل کے بند ڈبے میں فضا دوستانہ تھی۔

میکس اب مجھے بتا رہے ہیں کہ اگلی ٹرم ان کا ارادہ ہے کہ ابنِ صفی کے ناولوں کے بارے میں کورس پڑھائیں گے۔ اردو والے مقبول عام ادب پر خواہ مخواہ ناک بھوں چڑھاتے ہیں۔

ابنِ صفی شعر بھی کہتے تھے۔ یہ ان کی غزل ہے، میکس میرے سامنے دہرا رہے ہیں:

راہِ طلب میں کون کسی کا، اپنے بھی بیگانے ہیں

یہ غزل پڑھتے میں نے ابنِ صفی کو سنا ہے۔ میرے والد کی ان سے علیک سلیک تھی۔ ابنِ صفی ذہین آدمی تھے، شعری صلاحیت بھی تھی، میں اپنے والد کی محتاط رائے دہراتا ہوں۔ یہ غزل گائی بھی گئی اور ہمارے حافظے میں سما گئی۔

کرسٹینا ذکر کرہی ہیں کہ ان کی ایک طالب علم عمیرہ احمد کے ناول پر مقالہ لکھ رہی ہیں۔

اس موضوع پر اپنی کم علمی کا اعتراف کرنے سے بچ گیا کیونکہ اتنے میں اسٹیشن آگیا۔ ہم اترے اور سیڑھیاں چڑھنے لگے۔ اس جانب سے نکلیں گے تو سڑک کا صحیح رُخ سامنے آجائے گا۔ جس سمت ہمیں جانا ہے۔ ہم نے اندازہ لگایا اور سڑک پر نکل آئے۔

سامنے گھاس کا سرسبز قطعہ تھا۔ چاروں طرف پروقار خاموشی کا راج۔ درخت پتوں کے تاج اٹھائے مکانوں کے درمیان چپ چاپ کھڑے ہیں۔ اس سناٹے میں دراڑ پڑ جاتی ہے جب ہم باتیں کرتے ہوئے اس منظر سے گزرتے ہیں۔ مگر یہ بھی ایک لمحے کی بات ہے۔

ایک خاموش عمارت کے مزّین کمرے میں بارہ، چودہ آدمی بیٹھ کر گفتگو شروع کر دیتے ہیں۔ نہ تعارف کی ضرورت ہے نہ رسمی مراحل کی۔ یہ کانفرنس کا آغاز ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •