بھئی یہاں سوال کرنا منع ہے

(محمد جمیل اختر)

صاحبو ، ایک بہت دور کے چھوٹے سے گاﺅں کا قصہ ہے کہ جہاں طلبا درختوں کے نیچے، تپتی دوپہر میں اپنا اپنا ٹاٹ بچھائے پڑھ رہے تھے۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد استاد صاحب اخبار کے پیچھے سے سر نکالتے اور کہتے ’ اوئے نالائقو اونچا اونچا پڑھو‘ اور بچے اونچا اونچا پڑھنا شروع کر دیتے۔ یونہی ایک لڑکے کو خیال آیا اور اس نے سوال پوچھ لیا ’استاد جی درآمدات اور برآمدات کیا ہوتی ہیں؟‘۔ استاد صاحب نے پہلے تو اس لڑکے کو گھور کر دیکھا کہ جس نے انہیں ڈسٹرب کیا تھا پھر کہا ’ ہاں بھئی کیا مسئلہ ہے تمہارا؟‘۔’ استاد جی وہ برآمدات اور درآمدات کیا ہوتی ہیں؟‘۔
’ کیوں تو نے کیا کرنی ہیں برآمدات درآمدات ‘۔
’جی وہ کتاب میں لکھا ہے‘۔
’پڑھنا کیا آگیا ہے اب سوال پوچھو گے ، اپنی عمر سے بڑے سوال، چل بیٹھ ، ٹیم آئے گی تو سب پتا چل جائے گا، ابھی اونچا اونچا یاد کرو‘۔ پھر اس کے بعد وہ بچہ ساری عمر اونچا اونچا یاد کرتا رہا۔

پاکستان کے بیشتر گاوں دیہات میں رٹے لگوا کر چیزیں یاد کرائی جاتی ہیں اور بچوں کو سوال پوچھنے کا اعتماد ہی نہیں دیا جاتا اس طرح کے حوصلہ شکن ماحول میں ڈرے ہوئے دماغ بنائے جاتے ہیں جو ساری عمر اونچی اونچی آواز میں سبق دہرائے جاتے ہیں اور یہ سمجھتے رہتے ہیں کہ وہ علم حاصل کررہے ہیں اور یہی ٹھیک طریقہ ہے۔ ایک تو ملک میں چار طرح کا نظام تعلیم ہے جو چار مختلف طرح کے طالب علم پیدا کر رہا ہے کہ جن میں کسی کی سوچ ایک دوسرے سے نہیں ملتی کیونکہ چاروں کو مختلف طرح کی اور مختلف انداز کی تعلیم دی گئی ہے۔ مہنگے پرائیویٹ سکولوں میں سہولیات سے لے کر نصاب تک سب کچھ جدید ہے، بچوں کو اعتماد دیا جاتا ہے دوسری جانب صورتحال یکسر مختلف ہے۔ ایسے میں سرکاری سکولوں اور مدارس کے بچوں کو سہولیات تو میسر نہیں ہوتیں لیکن انہیں کم از کم سوال پوچھنے اور سیکھنے کا حق تو دینا چاہیے لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words