لباس و وجود اہم ہے عورت نہیں
عورت ایک ایسا موضوع ہے جس پہ بے تحاشا لکھا، بولا اور بحث کی جا سکتی ہے۔ ایک ایسا موضوع جس پہ بات کرنے والے نہ کبھی اکتاتے ہیں نہ دامن بچاتے ہیں۔ یہ انسان ہے یا نہیں ایک الگ بحث ہے لیکن تفریح طبع کا ذریعہ ضرور ہے۔ اس کے ہزار رنگ اور ہر رنگ کا ڈھنگ الگ۔ کہیں یہ محض کاروبار خانہ داری چلانے میں ایک سہولت کار ہے تو کہیں جنسی تسکین کا باعث۔ کبھی طاقتور مرد کے عزت کی رکھوالی ہے تو کبھی اسی عزت پہ وار دی جاتی ہے۔ کسی کا خیال ہے چار دیواری میں رہے تو بھیڑیوں سے بچی رہے گی تو کسی کے خیال میں معاشرے کی ہر برائی کی جڑ یہی ہے۔ جہاں اس کا مردوں سے میل جول ہو گا وہیں یہ اخلاقی برائیاں پروان چڑھانے کا باعث بنے گی۔ یہی وہ مخلوق ہے جو پیدا ہوتے ہی اتنی سیکس اپیل لیے ہوتی ہے کہ کسی بھی پارسا آدمی کو بہکا سکتی ہے۔ گھر اور عزت کی رکھوالی کر سکتی ہے کہ اس کے لیے عقل کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس کے علاوہ کچھ کرنا اس کے بس میں کہاں۔ باقی باتیں بر طرف یہ آنکھوں اور دل کے لیے تفریح کا ایسا ذریعہ ہے کہ جس کا بدل اور کوئی نہیں۔
اسی مخلوق میں کچھ سر پھری عورتیں بھی شامل ہیں جو یہ ثابت کرنے پہ تل جاتی ہیں کہ وہ بھی انسان ہیں ،سوچ سکتی ہیں بول سکتی ہیں اپنے حقوق کے لیے لڑ سکتی ہیں۔ ان پاگل عورتوں میں کچھ ایسی بھی ہو تی ہیں جو شہرت پا لیتی ہیں اور یہ بھول جاتی ہیں کہ وہ نوع انسانی میں دوسرے درجے کے شہری کے سلوک کی مستحق ہیں۔ ان کی سوچ سے زیادہ قابل غور ان کا وجود ہے۔ وہ دیکھنے میں کیسی ہیں ،کیا پہنتی ہیں کیسے چلتی ہیں یہ باتیں اہمیت کی حامل ہیں۔ معاشرہ کوئی بھی ہو اس کے سٹیٹس سے زیادہ لباس کو اہم تصور کرتا ہے کہ لباس ہی وہ آفت ہے جو اکساتا ہے یا جذبات کنٹرول رکھنے میں مدد کرتا ہے۔ مانا کہ لباس پہننے کے کچھ آداب ہوتے ہیں لیکن وہ آداب مردوں پہ اس شدت سے لاگو نہیں ہوتے جس شدت سے عورتوں پہ لاگو ہوتے ہیں۔
حال ہی میں پریانکا چوپڑا نے اپنے وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔ پریانکا نے ایسا لباس پہنا تھا جس میں اس کی ٹانگیں برہنہ تھیں۔ سوشل میڈیا پہ اس بات پہ بہت تنقید کی گئی کہ یہ تہذیب کے منافی ہے۔ تمیز کے خلاف ہے۔ گویا تمیز و تہذیب ٹانگیں چھپانے میں پوشیدہ ہے۔ گویایہی ادب کا معیار ہے۔ کیا بات ہوئی ،اہم شخصیت سے ملاقات کی کیا وجہ تھی ؟ یہ باتیں اتنی اہم نہیں ہیں کہ ان پہ توجہ دی جاتی۔ ہاں اتنا ضرور ہوا کہ بات کرنے کو ایک موضوع ہاتھ آگیا۔ یہی اداکارہ جب مختلف تقاریب ، فلموں اور دیگر پروگرامز میں جب اس طرح کا لباس زیب تن کرتی ہیں تب سوال کیوں نہیں اٹھایا جاتا ؟ کیا وہ اس وقت اسی ملک کی نمائندگی نہیں کر رہی ہوتیں جس ملک کے وزیراعظم سے انہوں نے ملاقات کی؟ وہ ایک اداکارہ ہیں ان پہ سوال اٹھانا، نان ایشو کو ایشو بنانا قدرے آسان ہے۔
حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلا سرکاری دورہ کیا جس کا آغاز سعودی عرب سے ہوا اس دورے میں خاتون اول میلانیا اور ان کی بیٹی ایوانیکا بھی ساتھ تھیں۔ جہاز سے اترنے سے لیکر بات چیت اور طعام تک جو بات قابل ذکر اور قابل غور رہی وہ ان دو خواتیں کے لباس ،اٹھنے ،بیٹھنے اور بات کرنے کے ہر انداز کے گرد گھومتی رہی۔ اس دوران انہیں کس نے کیسے دیکھا ،اس کے دل میں کیا ممکنہ خیال ہو سکتا ہے سوشل میڈیا پہ ٹرینڈ بنا رہا۔ دورے کے مقاصد کیا تھے؟ اس کے اثرات کیا ہو سکتے ہیں یہ بات ثانوی حیثیت اختیار کر گئی کہ لوگوں کے ہاتھ آسانی سے توجہ حاصل کرنے کا موضوع آ لگا تھا۔ بات یہ ہے کہ عورت کا سٹیٹس اہم نہیں ،اہم ہے تو اس کا عورت ہونا جس پہ جو جس کا دل چاہے بات کر سکتا ہے۔ پھر خواہ وہ کسی سپر پاور کے صدر کی بیوی اور بیٹی ہو یا معاشرے کے وار سہنے والی عام عورت۔ سوال یہ ہے کہ سماج کی حدود بندی سے قطع نظر ہمیں کتنا وقت لگے گا کہ عورت کو انسان سمجھیں ، اسے ڈیکوریشن پیس، کومودیٹی ،یا عزتوں کا بوجھ اٹھائے ایک بوجھ نہ سمجھا جائے۔ خود کو مہذب سمجھنے والے لوگ ابھی تک اس مقام کو نہیں پہنچے ہیں کہ عورت کو انسان سمجھ سکیں۔ یہ جان سکیں کہ اس کے جسمانی وجود سے زیادہ اہم اس کی سوچ اور کامیابیاں ہیں۔ اس کا ذکر محض زبان کا چسکا اور وقت گزاری نہیں ہے وہ بھی ویسی ہی انسان ہے جیسے آپ ہیں یا شاید آپ سے بھی بہتر کہ وہ تمام تر مشکلات کے باوجود اپنے وجود کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ خود کو ہر ممکنہ انداز میں منوا رہی ہے۔



