فروٹ بائیکاٹ مت کرو ۔۔۔۔۔۔


ہمارے بزرگ پرلے درجے کے خوش طبعیت لوگ تھے، ان کا کوئی بچہ کبھی بھول چوک کر اپنے کسی ہم جماعت کو لے کر باغ آ جاتا تو مہمان کے گن کر پانچ اور اپنے منڈے کے دو یا تین چپیڑں اور کافی ساری لاتیں رسید کرتے تھے

وہ نیک لوگ سوچتے کہ یہ جو مہمان ہے باغ سے امرود مالٹا امب یا کینو توڑ کر کھا مر لے گا۔ ایک ایک دانے کی حفاظت کرتے تھے کہ اس کے ساتھ کتنے گھروں کا رزق وابسطہ تھا

یہ تو خیر پرانی بات ہے، اک کزن نے خربوزے کاشت کیے ایک بار اس نے خربوزے توڑنے کے لیے آنے والے کچھ لڑکے پکڑ لیے وسی بابا بروقت نہ پہنچ جاتا تو ان لڑکوں بیچاروں پر اس نے ایسا جادو کرنا تھا کہ بنوں میں بھی کیا ہوتا تھا اس کی تفصیل عارف خٹک ہی بتا سکتا۔

وسی بابے کا نوجوانی کا دوست رانا پری اپنے کھوتا ریڑھے پر جب فروٹ بیچنے منڈی ماہیے گاتا جاتا تھا تو اس کے دل میں بس یہی ہوتا تھا کہ اج اخیر نوٹ ملیں گے عیاشی کریں گے۔ ایک نئی گیند خرید لیں گے اس پر ٹیپ چڑھا کر پھرمیچ کھیلیں گے۔

چھوٹے چھوٹے کتنے ہی کام زمینداروں کے فروٹ بیچنے کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں کتنے لوگوں کا چولہا جلتا ہے اس خریدو و فروخت سے۔ رمضان کے مہینے میں فروٹ بائکاٹ مہم۔ او ظالمو یہ آئیڈیا کس ۔۔۔۔۔۔۔۔ کا تھا

روزہ کیا اس لیے نہیں ہوتا کہ جو سوکھے ہیں خوشحال ہیں ان سب کو بھی پتہ لگ جائے کہ بھوک کیسی ہوتی ہے غریبی کیا ہوتی ہے ان کا دن کیسا ہوتا

خوراک کی اہمیت ضرورت بھی تو بتاتا ہے روزہ یہ اپنے سے کمزروں کے ساتھ محبت بھی تو کرنے کا درس دیتا ہے

ان دنوں میں بائکاٹ نہیں کھانا تو نہ کھاؤ توا کیوں لگاتے ہو مہم کیوں چلاتے ہو


وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 407 posts and counting.See all posts by wisi