ایران اور سعودی آویزش۔۔۔۔ سمندر اور گہری کھائی میں انتخاب

جماعت اسلامی کی تاریخ پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ سعودی عرب سے قریبی مراسم کے باوجود اس کے ایران سے روابط بھی رہے ہیں ،انقلاب ایران کا جماعت نے خیرمقدم کیا تھا۔ سوشل میڈیا کے پھیلاؤ کے بعد بعض جماعت کے حامیوں کے انفرادی موقف کو اس کا آفیشل موقف سمجھ لیا جاتا ہے،جس سے اصل بات سامنے نہیں آتی ۔ سعودی عرب میں مولانا مودودی کی کتابوں پربھی پابندی عائد ہے،جس کا ظاہر ہے جماعت نے برا ہی مانا ہوگا۔ چند سال پہلے ڈاکٹر جاوید اقبال نے خبردی تھی کہ سعودی عرب میں علامہ اقبال کے خطبات بھی’شجر ممنوع‘ ہیں۔ ٹرمپ سے پہلے سعودی عرب میں نریندرمودی کی آؤبھگت پر بھی جماعت اسلامی تنقید کی زد میں آئی۔ طیب اردگان کے دفاع میں بھی جماعت پیش پیش رہتی ہے، یہی وجہ ہے کہ طیب اردگان کے غیرجمہوری اقدامات پر بھی جماعت کو تاویلیں دینی پڑتی ہیں۔ یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں، جن جماعتوں پر تحریک کا رنگ غالب ہوتا ہے اور وہ اپنا کردارملک سے باہر دیکھتی ہیں ان کو ایسی تنقید کا سامنا کرنا ہی پڑتا ہے۔

سعودی عرب میں نواز شریف کو جس سبکی کا سامناکرنا پڑا ، بہت سے تجزیہ کاروں نے اسے خیر مستور ( Blessings in disguise) قرار دے کر تجویز کیا ہے کہ پاکستان اس موقع سے فائدہ اٹھائے اور برادراسلامی ملک کی تابعداری سے جان چھڑا لے۔ سعودی عرب پاکستان سے اس وقت سے خفا ہے جب سے اس نے یمن میں سعودیی عرب کی حوثیوں کے خلاف جنگ کا حصہ بننے سے انکار کیا ،اس سلسلے میں پاکستانی پارلیمان نے قرارداد پاس کی ، جس میں یمن میں فوج بھجوانے کی مخالفت کی گئی تھی۔ اس معاملے میں 
یمن کی جنگ سے دور رہنے پر متحدہ عرب امارات کے وزیرخارجہ نے دوسال پہلے تحقیر آمیز لہجے میں پاکستان کے خوب لتے لیے تھے 
عرب ممالک پاکستان کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرنا چاہتے ہیں جیسا امریکا غریب ملکوں سے کرتا ہے کہ ہمارے ساتھ ہو تو ٹھیک ہے بصورت دیگر مخالف ہو، طاقت کی اپنی منطق ہوتی ہے اور وہ ’کمزور‘ کوغیر جانبدار رہنے کا حق نہیں دیتی۔ سعودی عرب یہ سمجھنے سے قاصرہے کہ وہ جتنی مرضی قیمت لگاتا رہے ہمارے واسطے یہ ممکن نہیں کہ ہم اس کے کہنے پرایران کے خلاف تن کر کھڑے ہوجائیں۔اول تو کسی ملک کے دوسرے ملک سے تعلقات اپنے مفاد میں ہوتے ہیں نہ کہ کسی اور کے لیے، ہم کو کیا پڑی ہے کہ سعودی عرب کی محبت میں ایران کو ناراض کردیں،بعض لوگ دلیل دیتے ہیں کہ دو ہمسایہ ممالک ہندوستان اور افغانستان سے ہمارے تعلقات پہلے سے کشیدہ ہیں ، ایسے میں ایران کی ناراضی سے ہمارے مسائل میں اضافہ ہو گا، یہ سوچ درست نہیں، مذکورہ دونوں ملکوں سے پاکستان کی گہری دوستی ہو، تب بھی 
سعودی عرب کے ہندوستان سے روابط آزادانہ حیثیت میں قائم ہیں، کشمیریوں پر مظالم پر وہ روایتی بیان بازی سے کبھی آگے بڑھا ہے؟ سعودی عرب نے ضیاء دور میں بھی عراق ایران جنگ میں ہمارا وزن عراقی پلڑے میں ڈالنے کے لیے دباؤ ڈالا جو اس وقت کی فوجی حکومت نے سہار لیا تھا، ہرچند کہ امریکی آشیر باد سے جاری افغان جہاد کے باعث سعودی عرب اور پاکستان آپس میں شیروشکر تھے۔ اس زمانے میں ایران عراق جنگ بندی کے لیے چھ اسلامی ملکوں کے سربراہان پرمشتمل کمیٹی کا بھی ہم حصہ تھے۔
زمانے نے ورق پَلٹا اور صدام حسین نے کویت پر حملہ کردیا۔ فوج کی زمام کار اب ضیاء الحق کے بجائے اسلم بیگ کے ہاتھ میں تھی۔ اب کہ سعودی عرب، عراق کے خلاف مدد کا طلب گار ہوا۔نوازشریف کی حکومت اس موقع پرسعودی عرب کے ساتھ کھڑی تھی تو دوسری جانب آرمی چیف جنرل اسلم بیگ حکومتی پالیسی کی سرعام مخالفت کر رہے تھے اور صدام کا ساتھ دینے کی وکالت کررہے تھے لیکن چند دن میں صدام کی چیں بول گئی اورحکومتی فیصلہ درست ثابت ہوگیا۔ صدام کی محبت میں صرف دائیں بازو کے لوگ ہی دیوانے نہ ہوئے تھے بلکہ 
پی سی بی کے موجودہ چیئرمین شہریار خان اس دور میں سیکرٹری خارجہ تھے،کچھ سال پہلے ہم نے ان سے انٹرویو کیا تو خلیج کی جنگ بھی زیربحث آئی،جس کے بارے میں بڑی صراحت سے انھوں نے اپنا نقطہ نظر واضح کیا:
"1991ء کی خلیج جنگ میں پاکستان نے ایک اصول کی بنیاد پر عراق کی مخالفت کی تھی۔ کسی بھی خودمختار ملک پر حملے کی حمایت سے ہمارے اپنے لیے مشکلات پیدا ہو جاتیں۔ یہاں ہم نے ایک اصولی موقف اپنایا جبکہ عراق اور ایران کی جنگ کے دوران ہم نیوٹرل رہے تھے کیونکہ عراق اور ایران کی جنگ میں اصول کی بات نہیں تھی۔ اس وقت سعودی عرب کویت اور گلف کے دوسرے ممالک اور سب سے بڑھ کر امریکا خواہاں تھا کہ ہم صدام کی مدد کریں لیکن ہم نے ایسا نہیں کیا اور دباؤ کا سامنا کیا۔ خلیج کی جنگ میں معاملہ یہ تھا کہ ایک طرف اصولی موقف تھا اور دوسری طرف ہمارے ملک کی جو فضا تھی وہ صدام حسین کے حق میں تھی لیکن ہم نے اصولی موقف اپنایا۔ نواز شریف بھی کہتے تھے کہ ان کو اس پالیسی سے سیاسی اعتبار سے نقصان ہو رہا ہے۔ ان کے قریبی رفقاءکا موقف تھا کہ ہم اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار 
نواز شریف نے سعودی عرب میں فوج بھجوانے، ایکیوپمنٹ اور دوسری جو امداد دینے کا وعدہ کیا تھا، اس کو سعودی عرب پہنچانے کے سلسلے میں اسلم بیگ نے تاخیر پیدا کرنا شروع کی۔ سعودی عرب اس سے ناراض ہوا اور اس نے کہا کہ پاکستان نے جن چیزوں کا ہم سے وعدہ کیا ہے وہ ہمیں نہیں مل رہیں۔ سعودی عرب میں پھر بیگ صاحب کو بلایا گیا اور انہیں وہاں اچھی خاصی باتیں سنائی گئیں۔ مثلاً یہ کہا گیا کہ آپ یہ کیا کر رہے ہیں اور حکومتی پالیسی کے خلاف کیوں جا رہے ہیں۔ اس کے بعد معاملات درست ہو گئے اور جیسے حکومت 
سعودی عرب کے عزیز دوست امریکا نے صدام حسین کاتختہ الٹ کر اور افغانستان میں طالبان حکومت ختم کرکے دہشت گردی کے نہ رکنے والے سلسلے کو جنم دیا، لاکھوں بے گناہ لوگ اس مہم جوئی میں جاں سے گئے،اسی امریکا سے مل کر سعودی اور پاکستانی حکمران جب دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے کی بات کرتے ہیں حیرت ہوتی ہے۔ افغانستان اورعراق میں امریکی حملوں سے آنے والی سیاسی تبدیلی کا سب سے زیادہ فائدہ ایران کو ہوا کیونکہ صدام اور طالبان دونوں سے اس کے تعلقات انتہائی کشیدہ تھے۔
سعودی عرب اور ایران میں سے پاکستان کا قریبی دوست کون رہا ہے؟اس پر بحث ہوتی رہتی ہے۔ میڈیا پر سعودی عرب کے پاکستان پراحسانات گنوانے والے زیادہ ہیں اور وہ لوگ ثابت کرتے ہیں کہ جیسے ایران سدا سے پاکستان کا دشمن ملک رہا ہو۔ تاریخ مگر کوئی اور کہانی سناتی ہے ، ہندوستان سے جنگوں میں ایران نے پاکستان کا ساتھ دیا۔ آرسی ڈی کے پلیٹ فارم سے ترکی، ایران اور پاکستان کا قریبی معاشی وثقافتی اشتراک رہا۔ سعودی عرب کے برعکس ایران پاکستان کے سیاسی معاملات میں براہ راست دخیل نہیں رہا۔صرف دو مثالوں سے بات صاف ہوجائے گی،اول: ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف پاکستان قومی اتحاد کی تحریک کے دوران سعودی سفیر ریاض الخطیب کا فریقین میں ثالثی کے لیے سرگرم کردار۔ دوسرے نواز شریف کی سعودی عرب جلاوطنی کا معاملہ۔ ادھرجنرل مشرف نے کچھ عرصہ قبل اعتراف کیا کہ لندن اور دبئی میں اپارٹمنٹس کے لیے انھیں رقم شاہ عبداللہ نے دی تھی۔ ایسی حرکتوں سے سے سعودی عرب کا کردارمتنازع بنا اور عوام کے ذہنوں پر منفی تاثرمرتب ہوا۔


