پھل نہ خریدنے کی تین روزہ سوشل میڈیا کال…. ابتدائے عشق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں رمضان میں ناجائز منافع خوری خاص طور پر پھلوں کی قیمتوں میں روایتی حریصانہ اضافے کے خلاف سوشل میڈیا پر 3 روزہ پھل نہ خریدنے کی کال دی جا رہی ہے۔ ملک میں اپنی نوعیت کی اس پہلی غیر سیاسی ہڑتال کی کچھ لوگ مخالفت بھی کر رہے ہیں اور ان کی سب سے بڑی دلیل غریب ریڑھی والا ہے۔ میرے خیال میں یہ ہڑتال بالکل جائز ہے اور اس کا نقصان غریب ریڑھی والے کو کم اورتاجر، آڑھتی کو زیادہ ہوگا۔ غریب پھل فروش کے تو اپنے بچوں کو پھل نصیب نہیں ہوتا۔ فیس بک پر ہی کسی صاحب نے اچھی مثال دی ہے، ریڑھی والے کو سامنے رکھ کر ہڑتال کی مخالفت ایسے ہی ہے جیسے سگریٹ نوشی کے خلاف مہم کو یہ کہہ کر مسترد کیا جائے کہ کھوکھے وا لے کے رزق کا کیا بنے گا؟

میں اس عوامی کال کے دور رس اثرات دیکھ سکتا ہوں۔ جس معاشرے میں حکومت اور ریاست کی رٹ نہ ہونے کے برابر ہو وہاں عوام کو ہی اکٹھا ہونا پڑتا ہے اور اب لوگوں کا اکٹھا کرنے کے لیے سوشل میڈیا جیسا چینل موجود ہے۔ یہ ہڑتال گڈ گورننس کے دعوﺅں اور ہر رمضان میں پرائس کنٹرول کمیٹیوں کے لالی پوپ کے منہ پر طمانچہ ہو گا۔ میں اس ہڑتال کو پاکستان میں ہر طرح کی دھونس، دھاندلی اور بدعنوانی کے خلاف بارش کا پہلا قطرہ خیال کرتا ہوں۔ کنزیومر رائٹس سے لے کر سول رائٹس تک، بڑی تبدیلی کی بنیاد بن سکتی ہے یہ گریز نما پرامن ہڑتال۔ کرپشن کے خلاف دنیا کی قیادتیں اسی لیے سکینڈل آنے پر مستعفی ہو جاتی ہیں کہ ان کہ معلوم ہوتا ہے کہ لوگ موبلائز ہو جائیں گے۔

مجھے لگتا ہے کہ بدعنوانی کے خلاف چیخ چیخ کر 50، 60 ہزار جمع کرنے والے عمران خان کا بوجھ ہلکا ہو جائے گا، معاشرہ از خود جاگنے لگا ہے۔ حکمراں ہوں یا لوٹ مار کرنے والے کاروباری، ان کو یہ ہڑتال باور کرائے گی کہ اگر واشنگٹن میں نئے مینڈیٹ والے صدر کے حلف اٹھانے کے اگلے ہی دن فیس بک گروپوں کی کال پر صرف خواتین 6 لاکھ کی تعداد میں کیپیٹل ہل (پارلیمنٹ) کے سامنے جمع ہو سکتی ہیں تو پاکستان میں مردوزن بھی غیر سیاسی بنیادوں پر لاکھوں کی تعداد میں ڈی چوک پر نیا باب تحریر اور تعمیر کر سکتے ہیں۔ میرے خیال میں یہ ابتدائے عشق ہے، آگے آگ دیکھئے ہوتا ہے کیا۔ پاکستان میں آج تک صرف ’جمہورے‘ دیکھے گئے ہیں پاکستان میں اب پہلی بار’ جمہور نی آواز‘ وج گج کے سنائی دے گی۔ نئی عوامی سیاسی جماعتیں اور قیادتیں بھی سامنے آ سکتی ہیں۔ مجھے معلوم ہے آپ میں سے کئی ایک کہہ رہے ہیں کہ میں بڑی دور کی ہانک رہا ہوں۔ ہو سکتا ہے ٹھیک ہی سوچ رہے ہوں آپ، مگرکیا کیا جائے جب ’امید‘ کا مرض لادوا لاحق ہو تو سرنگ کے دوسرے کنارے ہمیشہ روشنی ہی دکھائی دیتی ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

اسد حسن

اسد احمد وائس آف امریکا کے نشریاتی ادارے سے وابستہ ہیں۔ اور اپنی پیشہ ورانہ سرگرمیوں کے علاوہ کھیلوں بالخصوص کرکٹ کے معاملات پر گہری آنکھ رکھتے ہیں۔غالب امکان ہے کہ آئندہ کرکٹ ورلڈ کپ کے دوران ّہم سبٗ پڑھنے والے اسد احمد کے فوری، تیکھے اور گہرے تجزیوں سے لطف اندوز ہو سکیں گے۔

asad-ahmad has 16 posts and counting.See all posts by asad-ahmad