لندن: دہشت، خوف اور ہراس کی زد میں


 کل رات لندن میں ہونے والے دہشت گرد حملہ سے پوری دنیا میں خوف و ہراس میں اضافہ ہؤا ہے۔ ایک سفید وین رات سوا دس بجے کے لگ بھگ لندن برج پر راہگیروں کو روندتے ہوئے جنگلے سے جا ٹکرائی۔ اس کے بعد وین میں سوار تین افراد نے باہر نکل کر چاقوؤں سے شہریوں پر وار کرنا شروع کردیئے ۔ پولیس نے ان تینوں کو ہلاک کردیا ہے۔ تینوں نے خود کش جیکٹس پہنی ہوئی تھیں لیکن بعد میں پتہ چلا کہ ان میں دھماکہ خیز مواد نہیں تھا۔ اس حملہ میں 7 افراد ہلاک اور 40 زخمی ہوئے ہیں۔ امریکہ کے صدر سمیت دنیا کے اہم ترین لیڈروں نے اس واقعہ کی مذمت کی ہے ۔ برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے نے اس بزدلانہ حملہ کی مذمت کرتے ہوئے اسے مغرب کی آزادی، جمہوریت اور انسانی حقوق پر مشتمل اقدار پر حملہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اسلامی انتہا پسندوں کا کام ہے جو نفرت، تقسیم اور فرقہ واریت عام کرنا چاہتے ہیں۔ یہ مقاصد ہماری بنیادی اقدار سے متصادم ہیں۔

برطانیہ میں جمعرات کو عام انتخابات ہونے والے ہیں اس لئے اس دہشت گرد حملہ کو انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش بھی قرار دیاجا سکتا ہے۔ برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے نے اعلان کیا ہے کہ اب مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ برطانیہ کی انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی پر نظر ثانی کی جائے گی اور ملک کو محفوظ بنانے کے لئے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔ برطانیہ میں دو ہفتے کے دوران یہ دوسرا دہشت گرد حملہ ہے۔ 22 مئی کو مانچسٹر ایرینا میں ایک کنسرٹ کے بعد ایک خود کش حملہ میں 23 افراد ہلاک اور 59 زخمی کردیئے گئے تھے۔ یکے بعد دیگرے حملوں سے برطانیہ کے علاوہ یورپی ملکوں میں تشویش اور بے چینی پیدا ہونا فطری امر ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے ٹویٹ پیغام میں برطانیہ کے ساتھ اظہار یک جہتی کا اعلان کرتے ہوئے اس حملہ کو ایک بار پھر اپنے سیاسی ایجنڈا کو فروغ دینے کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ عدالتوں کو ہماری آزادی واپس کرنی چاہئے اور چھ ملکوں کے شہریوں پر امریکہ داخل ہونے کی پابندی کا صدارتی حکم بحال کرنا چاہئے۔‘ امریکی صدر نے جنوری میں عہدہ سنبھالنے کے بعد سات مسلمان ملکوں کے شہریوں کے امریکہ سفر پر پابندی عائد کی تھی لیکن عدالتوں کی طرف سے اس حکم کو مسترد کرنے کے بعد ایک نیا حکم جاری کیا تھا جس میں چھ ملکوں کے باشندوں پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ تاہم امریکی عدالتوں اور اپیل کورٹ نے اس حکم کو بھی مسترد کردیا ہے۔ اب ٹرمپ حکومت اس فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کررہی ہے۔ صدر ٹرمپ نے لندن حملہ کو بنیاد بنا کر اپنے ان اقدامات کو درست ثابت کرنے اور عوام کے علاوہ امریکی عدالتوں کو باور کروانے کی کوشش کی ہے کہ ان کا فیصلہ حالات کے مطابق اور حقیقت پسندانہ ہے۔ حالانکہ ماہرین اس بارے میں شبہ کا اظہار کرتے رہے ہیں اور انسانی حقوق کے کارکن اس فیصلہ کو مسلمانوں کے خلاف نفرت کو فروغ دینے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔

امریکی صدر کے سیاسی ہتھکنڈوں سے قطع نظر یورپ اور امریکہ میں ہونے والے دہشت گرد حملے خوف وہراس کی فضا پیدا کرنے کے علاوہ مسلمانوں کے خلاف رائے عامہ کو ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ امریکہ میں ٹرمپ کی کامیابی میں اسی نفرت نے کردار ادا کیا ہے۔ نیدر لینڈ اور فرانس کے حالیہ انتخابات میں اگرچہ قوم پرست اور مسلمان دشمن پارٹیاں کامیاب نہیں ہو سکیں لیکن انہوں نے پہلے کے مقابلے میں بہت زیادہ ووٹ حاصل کئے ہیں۔ اب برطانیہ اور جرمنی میں انتخاب ہونے والے ہیں۔ یورپ کی سرزمین پرہونے والا ہر ایسا حملہ جس میں مسلمان عناصر ملوث ہوں سیاسی فضا کو مسلمانوں کے خلاف ہموار کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

اس قسم کے حملوں سے دہشت گردوں کا مقصد بھی خوف اور بے یقینی میں اضافہ کرنا ہے ۔ اس طرح وہ یورپی معاشروں میں انتشار اور بدامنی پیدا کرکے یہاں آباد مسلمان اقلیتوں اور غیر مسلم اکثریت کے درمیان فاصلہ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ ان عناصر کا خیال ہے کہ اس طرح یورپی معاشروں کو ٹوٹ پھوٹ کا شکار کیا جا سکتا ہے۔ وہ یہ مقصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوں یا نہ ہوں لیکن مغربی معاشروں میں آباد مسلمانوں کے لئے حالات ضرور مشکل ہورہے ہیں۔ اس پر طرہ یہ کہ برطانیہ اور دیگر یورپی ملکوں میں مسلمان مذہبی رہنما ایک تو باہمی اختلافات کا شکار رہتے ہیں ، دوسرے وہ بدلتے ہوئے سماجی اور سیاسی حالات کے بارے میں بالکل بے خبر ہیں۔ اگرچہ بعض مذہبی رہنما دہشت گرد حملوں کے بعد کھل کر ان کی مذمت کرتے ہیں اور اکثریت کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرتے ہیں لیکن یہ اقدامات علامتی اور بیان جاری کرنے کی حد تک محدود رہتے ہیں۔ مساجد اور اسلامی مراکز میں دہشت گردی کی روک تھام کے بارے میں کم ہی بات کی جاتی ہے اور نہ ہی مذہبی رہنما اپنے گروہوں کی نگرانی کرنے اور گھروں میں انتہا پسندی کی طرف مائل ہونے والے نوجوانوں کو راہ راست پر لانے کے لئے کسی منظم اور قابل عمل منصوبہ کا حصہ بن سکے ہیں۔

برطانیہ یا یورپ کے دیگر ملکوں میں ہونے والے دہشت گرد حملے اگرچہ کسی عقیدہ کی تخصیص نہیں کرتے اور یہ مسلمانوں کو بھی اسی طرح ہلاک کرنے کا سبب بنتے ہیں جس طرح دوسرے شہری ان کی زد میں آتے ہیں۔ لیکن حملہ آور عناصر چونکہ مسلمان ہوتے ہیں اور ان حملوں کی ذمہ داری عام طور سے ایسے دہشت گرد گروہ قبول کرتے ہیں جو اسلام کا نام لے کر ان حملوں کا جواز فراہم کرتے ہیں ، اس لئے اس قسم کے سانحات کے بعد مسلمانوں کو سماجی اور سیاسی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کی رسومات اور عقائد زیر بحث آتے ہیں اور مسلمانوں کے خلاف شبہات میں اضافہ ہوتا ہے۔ اسی طرح مقبولیت پسند سیاست دان لوگوں کو بے وقوف بنانے اور جذباتی طور پر گمراہ کرکے ووٹ حاصل کرنے کے لئے مسلمانوں پر تنقید کرتے ہیں اور ان کے عقائد کو مغربی روایات اور اقدار سے متصادم قرار دیتے ہیں۔ ایک طرف مغرب کے مین اسٹریم سیاست دان اس بحث میں واضح اور دو ٹوک مؤقف اختیار کرنے میں مشکل محسوس کرتے ہیں تو دوسری طرف مسلمان رہنما بھی اس غلط فہمی کو دور کرنے میں مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔

گاڑیوں کے ذریعے لوگوں کو کچل کر ہلاک کرنے کا ہتھکنڈہ سب سے پہلے گزشتہ برس فرانس کے شہر نیس میں استعمال کیا گیا تھا ۔ جولائی 2016 میں ایک میلہ میں شریک لوگوں پر کئے گئے اس حملہ میں 86 افراد ہلاک اور 434 زخمی ہو گئے تھے۔ اس کے بعد جرمنی کے شہر برلن میں گزشتہ سال دسمبر میں ایک ٹرک کو ایک اوپن مارکیٹ پرچڑھا کر 12 افراد ہلاک کئے گئے۔ اس سال مارچ میں لندن ہی کے ویسٹ منسٹر برج پر ایک گاڑی فٹ پاتھ پر چلنے والے لوگوں کو روندتی ہوئی جنگلے سے جا ٹکرائی اور حملہ آور نے بعد میں چاقو سے ڈیوٹی پر موجود پولیس والوں پر حملہ کردیا۔ اس واقعہ میں بھی چھ افراد ہلاک اور چالیس زخمی ہوئے۔ اپریل میں سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہولم کے وسطی علاقے میں ایک ٹرک فٹ پاتھ پر چڑھا دیا گیا اور پانچ افراد مارے گئے۔ اب لندن برج پر اسی طرز پر حملہ کیا گیا ہے ۔ لندن میں ہی مارچ میں ہونے والے حملہ کی طرح حملہ آوروں نے وین رکنے کے بعد باہر نکل کر چاقوؤں سے شہریوں پر وار کرنا شروع کردیا۔

حملے کرنے کے اس نئے ہتھکنڈے سے اندازہ ہوتا ہے کہ دہشت گرد گروہ لوگوں کو ہلاک کرنے سے زیادہ توجہ حاصل کرنے اور خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں۔ داعش کی طرف سے پہلے بھی توجہ حاصل کرنے اور اپنی سفاکیت کی دھاک بٹھانے کے لئے مختلف ہتھکنڈے اختیار کئے گئے تھے۔ ان میں زیر حراست صحافیوں اور امدادی کام کرنے والے کارکنوں کے سر قلم کرنے کی ویڈیو جاری کرنا ایک مؤثر طریقہ رہا ہے۔ اس کے بعد لوگوں کو بلند عمارتوں سے نیچے گراکر یا زندہ جلا کر ہلاک کرنے کے طریقہ سے توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔ جنوری 2015 میں اردن کے زیر حراست پائلٹ یوسف اکساسبہ کو پنجرے میں بند کرکے زندہ جلانے کی ویڈیو جاری کی گئی تھی۔ اس طرح داعش عالمی سطح پر توجہ حاصل کرنے اور خبروں میں جگہ بنانے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ اب گزشتہ برس سے ٹرکوں یا گاڑیوں کے ذریعے راہگیروں کو کچلنے کے واقعات بھی امکانی طور پر اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ دہشت گردوں کے لئے ہلاک کرنے سے زیادہ توجہ حاصل کرنا اور خبروں میں رہنا ضروری ہے تاکہ وہ مسلسل خوف کی علامت بنے رہیں۔

دنیا کو ان ہتھکنڈوں کو سمجھنے اور دہشت گردوں کی طرف سے نفرت پھیلانے اور خوف عام کرنے کے طریقوں سے باخبر رہنے اور ان کے خلاف کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے بین المذہبی اور بین الثقافتی تعاون اور ہم آہنگی اہم ہے۔ یہ ذمہ داری یورپی ملکوں کی حکومتوں اور سیاسی پارٹیوں پر بھی عائد ہوتی ہے اور مسلمان قائدین اور مذہبی اداروں کو بھی اس تحریک کا بڑھ چڑھ کر حصہ بننا چاہئے۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali