عرب اسلامک امریکن سمٹ اور کالم نگار امیر حمزہ کو سلام


سعودی عرب میں عرب اسلامک امریکن سمٹ کیا ہوئی کہ ہر جانب سے میزبان اسلامی ملک پرطنز و تنقید کے نشتر برسنے لگے- دل بہت پریشان تھا کہ یکایک روز نامہ دنیا میں 2 جون کو جناب امیر حمزہ مد ظلّہ کا ایک کالم شایع ہوا – کالم کیا تھا، دلائل و براہین کا ایک ایسا مضبوط قلعہ تھا کہ جس نے تمام نشتر توڑ دیے اور تلواریں کند کر دیں – ایسے ایسے دندان شکن دلائل کہ عقل دنگ رہ گئی – یہ کالم اس فکری تاریکی کی فضا میں سورج کی طرح طلوع ہوا جو دوستوں کو حقائق دیکھنے کی روشنی عطا کرتا ہے اور دشمنوں کو اپنی حدت سے جلاتا ہے – آئیے امیر حمزہ صاحب کو خراج عقیدت پیش کریں-

امیر حمزہ صاحب کے کالم کا لنک  یہ ہے

امیر حمزہ نے تحریر کیا اور آپکے علاوہ ولی عھد محمّد بن سلمان کی کرشمہ ساز شخصیت کی تاثیر کو بھلا کون محسوس کر سکتا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ جس کی تاب نہ لا سکا – شہزادے کے ساتھ واشنگٹن میں ہونے والی ایک ہی ملاقات میں اسلام کے بارے میں اپنے نظریات سے فوری دست بردار ہو گیا اور بقول آپکے "اسلام دشمنی کا اپنا ایجنڈا فائل میں بند کر کے ریکارڈ روم میں رکھ دیا” اور انہی پیروں پر والہانہ مملکت سعودی عرب آن پہنچا -اور آتے ہی اعلان کیا کہ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں –

اب چونکہ حاسدین کی کمی نہیں،ان سے جب جواب نہ بن پڑا تو کج بحثی پر اترتے ہوے کہتے ہیں کہ اگر شہزادہ محمّد بن سلمان ماہیت قلب کرنے پراتنی مہارت رکھتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ جیسا اسلام دشمن کافر ایک ملاقات میں رام ہو جاتا ہے تویہ ہنر وہ یمنی باغیوں پر کیوں نہیں آزماتا کہ وہ جنگ کو ترک کر دیں- نہ سعودی مملکت کو فوجی اتحاد کا تردد کرنا پڑے، نہ کفّار سے ہتھیار خریدنے پڑیں – اور شامی بشار الاسد، ایرانی حسن روحانی، سوڈانی عمرالبشر وغیرہ سے ایک ایک ملاقات کیوں نہیں کرتا کہ وہ اسلام کے حقیقی رخ سے آشنا ہوں اوراچھے بچوں کی طرح سعودی عرب کو مسلم امّہ کا قائد تسلیم کر لیں-اور یہ کہ اس دورے سے واپس امریکہ پہنچتے ہی ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام دشمن فائل ریکارڈ روم سے پھر سے کیوں نکال لی اور چھ اسلامی ممالک کی سفری پابندیوں کے نفاذ کے لیے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹا دیا –

اب یہ حقیقت جسے فقط امیر حمزہ نے طشت ازبام کیا کہ کس طرح شاہ سلمان نے سنت نبوی کا احیا کرتے ہوے ڈونلڈ ٹرمپ اور انکی اہلیہ کو دائیں ہاتھ سے قہوہ پینے پر آمادہ کیا کہ موصوف اب ہر ‘پینے ‘ والی چیز دائیں ہاتھ سے پیتے ہیں – مگر ناقدین کا زور ہے توفقط اس بات پر کہ قہوہ تھامنے والے یہی ہاتھ اتنے طوطا چشم نکلے کہ دورے سے واپسی پر اسرائیل میں مفت امریکی فوجی امداد کی دستاویز پر دستخط کرتے وقت ان میں ذرا لغزش نہ آئی- جسے اسرائیل پڑوسی اسلامی ممالک کی تعمیرو ترقی اور خطّے میں امن کے قیام پرخرچ کرے گا –

آپ نے خوب یاد دلایا کے یہ شاہ سلمان ہی تھے کہ "جنہوں نے اوبامہ کو ریاض ائیرپورٹ پر اس وقت چھوڑ دیا جب موزن نے اللہ اکبر کی صدا بلند کی”- بجاۓ اس کے کہ اس عمل صالح کی تحسین کرتے، حاسدین بھڑک اٹھے کہ آذان کی آواز سننے والے شاہ کے کان فلسطین، یمن، بحرین اور اپنے صوبے قطیف کے مظلوم مسلمانوں کے آہیں سننے سے کیوں قاصر ہیں؟ ان بد خواہوں کو یاد ہے تو شاہ سلمان کا تفریحی دورہ فرانس اور انڈونیشا کہ جہاں کے ساحلوں پر آپ نے امت مسلمہ کے مسائل پر غور کے لیے خلوت میں کچھ وقت گزرا – کیا ہوا کہ اس پر چند سو ملین ڈالر خرچ ہو گۓ – لیکن یہ ہٹ دھرم کہتے ہیں کہ اس رقم کا بہتر جاۓ مصرف سعودی مملکت کے محروم طبقے، قحط زدہ افریقی اسلامی ممالک اور یمن کی عوام تھے –

اور رقص والی بات پر تو آپ نے قلم توڑ دیا کہ اے کور چشمو! یہ رقص نہ تھا بلکہ شاہ سلمان جو ایک ہاتھ میں تلوار اور دوسرے میں ڈونلڈ ٹرمپ کا ہاتھ تھامے بقول آپ کے جو” معمولی اچھل کود” کر رہے تھے "در اصل یہ اس طرح کی صف بندی کر کے کھڑے تھے جس طرح اسلامی فوجیں صف بندی کیا کرتی تھیں-"- آپ نے حقیقت بیان کرنا تھی سو کر دی- اب ہماری بلا سے کوئی کہتا رہے کہ قرآن نے تو حکم دیا تھا کہ یہود و نصاریٰ مسلمانوں کے دشمن ہیں، ان کے ساتھ ملکر صف بندی نہ کرنا با لخصوص مسلمان ملکوں کے خلاف – اور حسد و کینہ پر مبنی یہ واویلا کہ مملکت سعودیہ کے مفتیان کرام کے فتاویٰ جس میں غیر اللہ سے مدد مانگنا کفر ہے اور ہر کافر واجب القتل، کیا ان فتاویٰ کا اطلاق سعودی بادشاہوں پر نہیں ہوتا یا ان کے لیے احکام شریعت مختلف ہیں؟ چھوڑیں جی ان کے منہ کیا لگنا-

اب آپ سے کیا عرض کریں ؟ کچھ اہل علم حضرات بھی دبے لفظوں میں پوچھتے ہیں کہ جشن آمد رسول کو تو سعودی مفتیان حرام قرار دیتے ہیں اور مملکت سعودیہ اور اس کے زیر اثر ممالک میں اس پر پابندی ہے جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی آمد پر اتنا جشن؟ میرے خیال میں امیر حمزہ صاحب! ان علما کو اپنے ساتھ سعودی حکومت کی خصوصی دعوت پر عمرہ و حج کروائیں تا کہ یہ بھی وہ حقائق دیکھنےکے قابل ہو سکیں جو آپ کو نظر آتے ہیں –

جانے کیوں اس کانفرنس کے حوالے سے حقائق تک پہنچنے میں حامد میر، ایاز امیر، خورشید ندیم، وسعت اللہ خان اور سلیم صافی قبیل کے لوگ ناکام رہے اور تنقید کے نشتر برساتے رہے- یہ ایاز امیر جو برادر اسلامی ملک پر تنقید کرنے والوں کا سرخیل ہے، ہمیں ایک آنکھ نہیں بھاتا – اس میں خوبی ہے تو فقط ایک کہ یہ آپکا آدھا ہمنام ہے – اپنے فسق و فجور یعنی مے خوری کا کئی بار اعتراف اپنے کالموں میں کر چکا ہے- ہم نے جب اس عمل پر تنقید کی تو ان کے ایک بہی خواہ نے جواب دیا کہ واہ! اگر سعودی شہزادہ مجد بن عبدللہ بن عبدلعزیز السعود مے کدے سے سیراب ہو کر جوا خانہ جا پہنچے اور350 ملین ڈالر اور اہل خانہ سے ہاتھ دھو بیٹھے اس کے باوجود آل سعود کا معزز فرد رہے اور ہم اگرصرف پی لیں تو فسق و فجور؟

 آخر میں محترم امیر حمزہ سے درخواست ہے کہ مجھ جیسوں کو تو آپ کا کالم پڑھ کر شرح صدر حاصل ہو گئی لیکن عام عوام جوسعودی حکمرانوں کو وطن عزیز میں جاری دہشت گردی کی فکری ومالی پشت پناہ سمجھتی ہے نیز حج و عمرہ کے موقع پر سعودی حکام کے رویے کو غیر انسانی قرار دیتے ہیں، ان کے لیے آپ اپنا قلمی جہاد جاری رکھیں تاکہ آپ سعودی سخاوت کا حق ادا کر سکیں – باقی رہی خدا کے ہاں جواب دہی، تو اس کی فکر نہ کریں کہ جو مقام شاہ سلمان حاصل کریں گے، آپ کو بھی ان کے جوار میں جگہ مل ہی جاۓ گی – واسلام !

Facebook Comments HS