مشال خان : لیجیے جے آئی ٹی رپورٹ بھی آگئی، اور کوئی حکم؟


مشال خان کا قتل ہوا تو بھلے لوگوں نےکہا، تحقیقات توہو لینے دو۔ مطلب؟ مطلب یہ کہ عوام کے پاس قتل کا اختیار تو ہے، بس دیکھنا یہ ہے کہ قتل ٹھیک ہوا کہ غلط ۔ اگلی صبح مشال خان کے ایک کمنٹ کا اسکرین شاٹ گردش کررہا تھا۔ اسکرین شاٹ میں مشال کو رسول اکرم کے لیے نازیبا الفاظ استعمال کرتے دکھایا گیا۔ الفاظ میں شدت بھی مطلوبہ مقدار میں تھی۔ اس اسکرین شاٹ کے تحت سوشل میڈیا کی نجی عدالتوں میں مشال کو مجرم قراردے دیا گیا۔ ہم نے ایک سوال کیا

"یہ بھی بتلا دیجیے کہ مشال نے یہ کمنٹ کہاں کیا تھا”

فقیہانِ بے توفیق نے فیس بک چھان ماری وہ مقام نہیں ملا جہاں مشال نے یہ کمنٹ کیا تھا۔ کم از کم مشال خان کی اپنی وال پر ایسا کوئی کمنٹ موجود نہیں تھا۔ یہ کمنٹ کسی اور کی وال پر کیا گیا تھا تو مدعی نے اس کا ثبوت پیش کرنا تھا۔ لیکن مدعی یہاں اس طرح کے تکلف میں نہیں پڑتا۔ چلن یہ ہے کہ میں نے سرراہ پیچھے سے آواز دے کرآپ پر چوری کا الزام لگانا ہے۔ میرا کام ختم، اب آپ کو ثابت کرنا ہے کہ آپ چور نہیں ہیں۔ ثابت کرتے ہوئے یہ خیال رکھنا ہے کہ ثبوت وشواہد کو سن تو لیا جائے گا، مگر قبول نہیں کیا جائے گا۔ آپ یہ کہنے کا حق نہیں رکھتے کہ مجھ پر لگنے والا الزام غلط ہے۔ کیونکہ میں نے کہہ جو دیا کہ آپ مجرم ہیں۔ کیس عدالت لے جانا ہے تو شوق سے لے جایئے۔ عدالت نے بھی بہر حال میرے کہے کا اعتبار کرنا ہے۔ اگر عدالت نے آپ کو بری کردیا تو میں یہ سمجھنے میں حق بجانب ہوں گا کہ عدالتیں اپنا کام نہیں کررہیں۔ اب جب عدالتیں اپنا کام نہیں کررہیں تو ایمانداری سے بتلایئے پھر سزا کون دے گا۔ لامحالہ اب سزا میں ہی دوں گا۔ مجبوری ہے، کیا کریں۔ نظام ہی ٹھیک نہیں ہے۔

مشال خان کے حوالے سے دو مختلف آرا رکھنے والوں کے بیچ مباحثہ جاری تھا کہ مشال خان کا لیپ ٹاپ اور سیل فون ایف آئی اے نے اپنی تحویل میں لےلیے۔ فورنزک لیب پہنچا دیے گئے۔ تین دن بعد ایف آئی اے نے جو ابتدائی رپورٹ دی وہ یہ تھی

"مشال خان کی فیس بک وال، میسنجر، وٹس ایپ، ایس ایم ایس اور ای میل اکاونٹس سے کوئی قابل اعتراض یا نفرت انگیزمواد برامد نہیں ہوسکا ہے”

ہفتے بعدمشال خان کے دوست عبداللہ اور اور یونیورسٹی فیلو وجاہت خان مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہوئے۔ دونوں نے جو بیان ریکارڈ کروائے وہ درج ذیل ہے

"انتظامیہ نے دفتر طلب کیا۔ کہا کہ مشال خان نے رسالت مآب کی شان میں گستاخی کی ہے، اس کے خلاف گواہی درکارہے”

عبداللہ نے گواہی دینے سے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ میں مشال کو جانتا ہوں وہ ایسا نہیں کرسکتا۔ عبداللہ دفتر سے نکلا تو اس کو آدھے رستے میں علم ہوا کہ حرفِ انکار کی پاداش میں اب وہ خود گستاخ رسول ڈیکلئیر ہوچکا ہے۔ وجاہت خان نے انتظامیہ کے الزام کودرست جان کر گواہی کے لیے آمادگی ظاہر کردی۔ باہر آیا، مشال خان اور عبدااللہ کے خلاف تقریر کر ڈالی۔ ہجوم مشتعل ہوا ،اول عبداللہ پر تشدد کیا، وہ بے ہوشی کی حالت میں شفا خانے پہنچا یا گیا، پھرمشال خان کا گھیراو کیاگیا ، کمرے سے کھینچ کر باہر لایا گیا، سیڑھیوں سے گھسیٹ کر قتل گاہ میں لاکر رکھ دیاگ یا، اس سے آگے پھر سامنے کی خونریز تاریخ ہے۔ جو دیکھ سکو تو دیکھ لو۔

 اب جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کی تفصیلی رپوٹ آگئی ہے۔ اس رپورٹ کا خلاصہ آپ کی جستجو کی نذر ہے

"عبدالولی خان یونیورسٹی کی انتظامیہ کرپٹ عناصر پر مشتمل ہے۔ رشوت اور سفارش کی بنیاد پر بھرتیاں ہوئی ہیں۔ مشال خان اس پرسراپا احتجاج تھا۔ کچھ طلبا اس کے ہم آواز تھے۔ آواز دبانے کے لیے انتظامیہ نے الزامات عائد کیے۔ طلبا کو اس کے خلاف اشتعال دلایا گیا تین طلبا تنظیموں کے کارکنوں اور دیگر طلبا نے مل کر گھیراو کیا۔ مشال کی آخری بات ہاسٹل وارڈن سے ہوئی۔ مسلمان ہونے کا اعتراف کیا اور مدد طلب کی۔ مشال پر عائد کیے گئے الزامات میں سے کوئی بھی درست ثابت نہ ہو سکا”

غور کیجیے۔ مشال خان موت کی دہلیز پر کھڑا ہے۔ پکارپکار کر اپنے مسلمان ہونے کا یقین دلا رہا ہے۔ یقین بڑھانے کے لیے کلمہ پڑھ رہا ہے۔ اور جے آئی ٹی رپورٹ بھی مشال کو بے قصور ثابت کرنے کے لیے یہ بتانا ضروری سمجھتی ہے کہ وہ مسلمان تھا۔ اس صورت حال پر تفصیل سے بات کرنا چاہتا ہوں۔ ابھی نہیں۔ پھر کبھی۔ اس وقت جے یو آئی ایف کے رہنما اور سابق ایم این اے مولانا شجاع الملک کی گفتگو اور اس پر جماعت اسلامی کی تائید میرے سامنے ہے۔ آپ بھی سنیے۔ فرمایا

"ہمیں ولی خان یونیورسٹی کے ان طلبا پر فخر ہے جنہوں نے مشال کو قتل کیا۔ ہم انہیں سلام پیش کرتے ہیں۔ ہم تحقیقات کر رہے ہیں جلد آپ کے سامنے مشال کے خلاف شواہد پیش کردیں گے۔ اگر باالفرض مشال نے ایسی کوئی گستاخانہ بات نہیں کی تھی جو مشال سے منسوب کی جارہی ہے، تو بھی ہم مارنےوالوں کے جذبے کی قدر کرتے ہیں۔ کیونکہ مارنے والوں نے بہرحال نبی اکرم کے عشق و محبت میں اسے مارا ہے”

یہ عین وہی رائے ہے جو ممتاز قادری کے حوالے سے مفتی تقی عثمانی صاحب نے دی تھی۔ کالم کا دامن سکڑ رہا ہے، مگر چلیے حضرت مفتی صاحب کی رائے بھی پیش کیے دیتے ہیں۔ فرمایا

"سلمان تاثیر نے جو الفاظ کہے تھے اس کی وضاحت سلمان تاثیر کو ہی کرنی تھی۔ اگر سلمان تاثیر کہتے ہیں کہ قانون کو میں نے اس لیے کالا کہا ہے کہ اس کا غلط استعمال ہوتا ہے تو سلمان تاثیر گستاخ ِ رسول نہیں کہلائیں گے۔ اگر سلمان تاثیر یہ کہتے ہیں کہ میرے خیال میں غیرمسلم کو اہانت مذہب کی سزا قتل کی صورت نہیں دی جاسکتی تو بھی سلمان تاثیر گستاخ نہیں کہلائے جائیں گے۔ اب مجھے نہیں پتہ کہ سلمان تاثیر نے وضاحت کی کہ نہیں (بیس سے زائد ٹی وی انٹرویوز میں وضاحت کرچکے تھے۔ فرنود) اگر وہ وضاحت کرچکے تھے تو ایسے میں ممتاز قادری کا اقدام غلط ہوگا۔ لیکن چونکہ ممتاز قادری نے جو کیا وہ حبِ رسول میں کیا، لہذا اس کےحوالے سے ہمیں نیک گمان رکھنا چاہیئے کہ اللہ اسے ضرور بخش دے گا”

تمام ثبوت و شواہد کے نتیجے میں مشال خان کی زخمی روح بری ہوچکی ہے۔ منسوب کیا گیا اسکرین شاٹ تک بھی جعلی نکلا۔ اب ایک سوال آپ کے ذہن میں یقینا انگڑائیاں لے رہا ہو گا کہ جس شخص نے جعلی اسکرین شاٹ بنا کرمشال خان سے منسوب کیا، یقینا وہ مسلمان ہو گا۔ جو الفاظ اس نے رسول اکرم سے متعلق اس جعلی کمنٹ میں لکھے ظاہر ہے کہ توہین آمیز الفاظ تھے۔ سوال یہ ہے کہ علمائے کرام و مشائخ عظام کو اس شخص کی تلاش میں کوئی دلچسپی ہوگی جس نے جعلی اسکرین شاٹ بنا کر اہانت رسول کا ارتکاب کیا؟ اچھا سوال ہے۔ جواب یہ ہے کہ اس جعل ساز مسلمان کی تلاش میں کسی کو کوئی دلچسپی نہیں ہوگی۔ کیوں؟ کیونکہ اس نے جو بھی کیا وہ حب رسول میں کیا۔ اصول یہ بتایا گیا ہے حب رسول میں آپ کسی کا ناحق خون کردیں توبھی بخشش کے دروازے بند نہیں ہوتے۔ اس کیس میں جس نے اہانت کا ارتکاب کیا اس کی بخشش کی امید رکھنی ہوگی۔ کیونکہ اس نے جو کیا حب رسول میں کیا۔ مشال خان کتنا ہی بے قصور ہو، اس کی بخشش نہیں ہوگی۔ کیونکہ اس کے غلط ہونے پر تو فقیہ شہراور امیر شہر کا اجماع ہے۔ کیا سمجھے؟ دستار دونوں ہاتھوں سے تھام کر رکھیے۔ کیا معتدل اور کیا غیر معتدل، سب جان کے درپے ہیں۔

Facebook Comments HS