قطر کا سفارتی بائیکاٹ اور دہشت گردی سے مقابلہ

امریکی وزیر خارجہ کے اس بیان کو فوری طور پر صورتحال کو کنٹرول کرنے اور درپردہ سفارتی کوششوں کے ذریعے عرب ملکوں کے درمیان مفاہمت کی کوششوں کا نقطہ آغاز کہا جا سکتا ہے۔ لیکن سعودی عرب کی قیادت میں کیا جانے والا یہ فیصلہ دنیا بھر میں دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متاثرہ ملکوں میں تشویش کی نظر سے دیکھا جائے گا۔ دہشت گرد گروہ انتشار ، اختلاف اور بے چینی پیدا کرکے کامیابی حاصل کرتے ہیں۔ خلیجی اتحاد کے ایک اہم رکن کے خلاف دیگر ملکوں کے عملی اقدامات اور الزامات کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں دہشت گردوں کا یہ مقصد احسن طریقے سے پورا ہوا ہے۔ قطر پر اخوان المسلمین ، داعش اور القاعدہ کی حمایت کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ حالانکہ قطر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم رکن کے طور پر شامل رہا ہے اور اس وقت خلیج میں امریکی فوجوں کا اہم مرکز ہے۔ قطر کے العبید ائربیس میں علاقے میں جنگی صورتحال پر نظر رکھنے کےلئے امریکی سینٹرل کمانڈ موجود رہتی ہے اور یہاں دس ہزار امریکی فوجی بھی تعینات ہیں۔
ایک ایسے اتحادی ملک پر اگر دہشت گردی کے الزامات درست ہیں تو یہ قیاس کرنا بھی درست ہوگا کہ امریکہ اور اس کے عرب اتحادی جس دشمن کے خلاف جنگ کر رہے ہیں، وہ تو خود ان کی صفوں میں ہی موجود ہے۔ لیکن اگر قطر کو تنہا کرنے کی کوششوں کو سعودی عرب کے قطر کے ساتھ اختلافات اور کسی حد تک قطری حکمرانوں کی خود مختارانہ رائے کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ حالیہ اقدامات دراصل سعودی عرب کی طرف سے مشرق وسطیٰ میں تسلط بڑھانے اور اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ گزشتہ ماہ کے آخر میں ریاض میں منعقد ہونے والی اسلامی عرب امریکی کانفرنس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کے بعد سعودی عرب کے حوصلے مزید بلند ہوئے ہیں۔ اب اس کا عملی مظاہرہ قطر جیسے چھوٹے مگر بااثر ملک کے خلاف اپنے اثر و رسوخ کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ تاہم اگر علاقے کے ماضی پر نظر رکھی جائے تو یہ اختلافات پیچیدہ اور مشکل صورت اختیار کریں گے اور اس طرح مشرق وسطیٰ میں پروان چڑھنے والے دہشت گرد اور انتپا یسند گروہوں کو طاقت پکڑنے کے مواقع ملیں گے۔ اس کے ساتھ ہی ایران کے ساتھ محاذ آرائی میں اضافہ ہوگا۔ مشرق وسطیٰ میں انتشار ، اختلاف اور تصادم کی کوئی بھی صورتحال عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف جنگ کےلئے نقصان دہ ثابت ہوگی۔ یورپ و امریکہ کے علاوہ پاکستان میں بھی اس کے اثرات محسوس کئے جائیں گے۔
مشرق وسطیٰ کا موجودہ بحران دراصل دو ہفتے قبل قطری نیوز ویب سائٹس پر قطر کے امیر تمیم بن حمد الثانی کے سعودی عرب کے خلاف بیانات کے پس منظر میں سنگین صورت اختیار کر رہا ہے۔ قطر نے ان بیانات کو جعلی قرار دیتے ہوئے شرمناک سائبر جرم قرار دیا تھا۔ تاہم سعودی عرب اور اس کے حامی ممالک میں ان ویب سائٹس کو بلاک کر دیا گیا تھا۔ یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ قطر کے حکمران سعودی شاہی خاندان کی بعض پالیسیوں سے اختلاف رکھتے ہیں۔ لیکن سعودی عرب کی حکومت کسی قسم کے اختلاف رائے کو قبول کرنے کےلئے تیار نہیں ہیں۔ حیرت انگیز طور پر مواصلت ، جمہوریت اور انسانی حقوق کے جدید دور میں باہمی اختلافات کو سمجھنے اور مل جل کر معاملات طے کرنے کا رویہ اختیار کرنے کی بجائے، ان سے قدیم قبائلی اور آمرانہ ذہنیت اور ہتھکنڈوں کے ذریعے نمٹنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کا اظہار سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین کے اس اعلان میں بھی موجود ہے جس میں قطر کے تمام شہریوں کو اپنے ملکوں سے 2 ہفتے کے اندر نکلنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اگر دو ملکوں کی حکومتوں کے درمیان کوئی اختلاف موجود بھی ہے تو قانونی طور سے مقیم اس ملک کے شہریوں کو اس وجہ سے نشانہ بنانا بنیادی انسانی حقوق اور معاملات کی جمہوری تفہیم کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 6 مسلمان ملکوں کے شہریوں پر پابندی کے حکم کو اسی اصول کی بنیادی پر عوامی اور عدالتی سطح پر مسترد کیا گیا ہے۔ کیوں کہ کسی جرم کی سزا کسی بھی علاقے ، عقیدے یا گروہ سے متعلق لوگوں کو اجتماعی طور پر نہیں دی جا سکتی۔ لیکن عرب ممالک خود کو اس بنیادی اصول کا پابند نہیں سمجھتے۔
امریکہ ہو یا دیگر مغربی ممالک وہاں یہ بحث شدت اختیار کر رہی ہے کہ دہشت گردی سے نمٹنے کےلئے کس حد تک ان ملکوں میں آباد مسلمان آبادیوں کو ذمہ دار سمجھتے ہوئے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ برطانیہ میں گزشتہ دو ہفتے کے دوران مانچسٹر اور لندن میں دہشت گردی کے 2 سنگین واقعات رونما ہوئے ہیں۔ دونوں مواقع پر پولیس اور حکام نے الزام عائد کرنے سے پہلے اور دہشت گردوں کی نشاندہی کےلئے نہایت احتیاط سے کام لیا تھا۔ امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے غیر ذمہ دارانہ رویہ کے باوجود یہ شدید تحریک موجود ہے کہ امریکی مسلمان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم حلیف کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہیں اس کی وجہ قرار دے کر معاشرہ کو انتشار اور بے چینی کا شکار کیا جائے گا۔ اس حوالے سے مسلمان گروہ بھی اس جنگ میں حکومت اور عوام کے ساتھ دکھائی دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہفتہ کی رات کو لندن میں ہونے والے سانحہ کے بعد لندن کے مسلمان میئر صادق خان نے قیادت کا حق ادا کیا اور دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کو عقیدہ اور رنگ و نسل سے بالا ہو کر دیکھنے کے رویہ کا مظاہرہ کیا۔ اس کے برعکس امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سطحی سوچ اور مسلمان دشمن رویہ کی وجہ سے صادق خان کے ایک پیغام کو سیاق و سباق سے علیحدہ کرکے پیش کرتے ہوئے ان کے خلاف ایک ٹویٹ جاری کی۔ برطانیہ کے تمام سیاسی و سماجی حلقوں کی طرف سے امریکی صدر کے تبصرے کو مسترد کرکے صادق خان کی حمایت کا اعلان کیا گیا۔ دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کو نیچا دکھانے کےلئے یہ بین الثقافتی یکجہتی کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔
اسی حوالے سے برطانوی قدامت پرست پارٹی کی سابق چیئرپرسن اور کابینہ کی رکن سعیدہ وارثی نے موقف اختیار کیا ہے کہ مسلمان اس ملک کا حصہ ہیں، انہیں اندر کے دشمن قرار دینے کا رویہ غلط اور نقصان دہ ثابت ہوگا۔ انہوں نے بتایا ہے کہ برطانیہ میں لیبر یا ٹوری پارٹی کی حکومتیں یکساں طور سے مسلمانوں کے ساتھ مواصلت کرنے اور انہیں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فریق بنانے میں ناکام ہو رہی ہیں۔ نئے ابھرتے ہوئے خطرہ کی وجہ سے یہ یکجہتی اور ہم آہنگی بے حد ضروری ہے۔ یورپ اور امریکہ کے مسلمان ’’اسلامی انتہا پسندی‘‘ کے موجودہ رجحان میں جمہوری اور انسانی اصولوں کی بنیاد پر اپنے حقوق کے تحفظ کی جہدوجہد کرنے کے علاوہ نئے معاشروں میں دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے میں شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ جیسی ذہنیت کے متعدد سیاستدان تفریق پیدا کرنے اور تنہا کرنے کے ایجنڈے پر عمل کرتے ہوئے اپنے ہی ملکوں کی آبادیوں میں فاصلہ اور افتراق پید اکرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ اب مشرق وسطیٰ میں 6 عرب ملکوں کی طرف سے ایک ملک کو تنہا کرنے کی کوششیں بھی اسی مزاج کی نمائندگی کرتی ہیں۔ جس طرح یورپ و امریکہ میں بعض سیاسی عناصر ذاتی مفاد کےلئے تفریق اور انتشار کو ضروری سمجھتے ہیں، اسی طرح اب سعودی عرب مشرق وسطیٰ میں سیاسی بالا دستی کےلئے ہر اس ملک کے خلاف شدید رویہ اختیار کرنے کا اعلان کر رہا ہے جو اس کی سوچ یا حکمت عملی سے متفق نہیں ہے۔ یہ طرز عمل انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کی ناکامی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس جنگ کو سیاسی مفادات اور ذاتی اقتدار و اثر و رسوخ سے علیحدہ کرکے صرف اس اصول کی بنیاد پر آگے بڑھانے کی ضرورت ہے کہ بے گناہ لوگوں کو ہلاک کرنے کی کوشش کرنے والے عقیدہ یا مسلک سے قطع نظر مسلمانوں اور انسانوں کے یکساں طور سے دشمن ہیں۔
موجودہ صورتحال میں یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ جس طرح مغرب میں دہشت گردی سے نمٹنے کےلئے مسلمان آبادیوں کے کردار کے بارے میں مباحث شدت اختیار کر رہے ہیں، اسی طرح مشرق وسطیٰ میں سیاسی رسوخ اور مسلکی بالا دستی کےلئے اختلافات کو ہوا دی جا رہی ہے۔ اب دنیا بھر کی مطلق العنان حکومتوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ تسلط اور جبر کا زمانہ بیت چکا ہے۔ مواصلت کے جدید ذرائع انسانوں کو نیا شعور اور قوت عطا کر رہے ہیں۔ اس تبدیلی سے بے خبر رہنے والے اور اس کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرنے والے کامیاب نہیں ہو سکتے۔ یہ تصادم جاری رہنے کی صورت میں سب سے بڑا اندیشہ یہ ہے کہ مذہبی شدت پسندی اور اس کے نتیجے میں دہشت گردی میں اضافہ ہوگا اور اس سے نمٹنے کی بین الملکی یا قومی کوششیں ناکام ہو سکتی ہیں۔

