انسان تو مرتے ہی رہتے ہیں، ایمان سلامت رہے

رمضان شریف کے ماہ میں ہم جن برکتوں کا ذکر کرتے ہیں وہ تو اپنی جگہ مگر ہم سے جو گناہ اس ماہ میں سرزد ہوتے ہیں وہ کسی خاطر میں نہیں لاتے ہیں۔ کچھ روز قبل سندھ کے شہر عمر کوٹ میں تین خاکروب گٹر صاف کرنے کے لیے گٹر میں اترے اور دم گھٹنے کی وجہ سے بے ہوش ہو گئے۔ جنہیں وہاں کے سرکاری ہسپتال میں لایا گیا۔
ہسپتال انتظامیہ نے انہیں داخل نہیں کیا اور تینوں خاکروبوں کے جسم ہسپتال کے باہر ہی گاڑی میں پڑے رہے، مگر کوئی ڈاکٹر ان کا علاج کرنے کو تیار نہ تھا۔ ڈاکٹر جسے مسیحا سمجھا جاتا ہے، جس کے پاس لوگ اس یقین سے جاتے ہیں کہ اس کے ہاتھ سے شفا ملے گی، ان کا کہنا تھا کہ وہ روزے سے ہیں اور وہ ان خاکروبوں کو علاج کرکے نہ تو خود کو ناپاک کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی اپنا روزہ توڑنا چاہتے ہیں۔
ایک روزے دار کا ایمان کیا اتنا ناتواں ہے کہ وہ کسی غیر مسلم کا علاج کرنے سے متزلزل ہو جائے گا؟ اگر وہ کسی گٹر صاف کرنے والے مریض کو چھوئے گا تو روزہ ٹوٹ جائے گا؟ کیا کسی ڈاکٹر کا ہپو کریٹک اوتھ کہیں یہ بیان کرتا ہے کہ کسی بھی ایسے مریض کا علاج کرنے سے وہ نا پاک ہو سکتا ہے جو کہ ہمارے شہر کی گندگی صاف کرنے کے لیے فضلے کے اس کوئیں میں روز اترتا ہے، جس کے پاس سے گزرتے ہوئے بھی ہم ناک پر رومال رکھتے ہیں۔ طبی امداد بروقت نہ ملنے پر ان میں سے ایک خاکروب عرفان چل بسا، مگر ڈاکٹروں کا ایمان بھی سلامت رہا اور ان کا روزہ بھی برقرار رہا۔ کیا ہوا اگر ایک ایسا وجود اپنی جان گنواں بیٹھا جو ان ڈاکٹروں کے ایمان کے لیے خطرہ بن چکا تھا۔ جس نے نہ جانے کتنے بند گٹر کھولے ہوں گے اور شہر کو مزید گندا ہونے سے بچایا ہو گا۔

جب تمام امیدیں مایوسیوں میں تبدیل ہوگئیں اور کوئی بھی ڈاکٹر مریضوں کی جانب آگے نہ بڑھا تو اسی خاکروب کے رشتے دار نے اس کی جان بچانے کے لیے منہ کے ذریعے سانس فراہم کی، مگر ڈاکٹروں نے اس کا چیک اپ تک کرنے کی زحمت نہیں کی۔ ایمان کی تازگی اور پائیداری نہ تو کسی غیر مسلم کا علاج کرنے سے کم ہوتی ہے اور نہ ہی انسانی اقدار اس عمل سے کسی کو روک سکتی ہیں۔
سندھ میں اس قسم کو رجحانات حال ہی میں بڑھتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ جبکہ یہ تو وہ سندھ ہے جہاں مولوی عبدالرحمان جمالی جیسے لوگوں نے کسی غیر مسلم کے گلاس میں پانی پی کر یہ ثابت کیا تھا کہ سندھ میں مذہبی رواداری کی مثالیں اب بھی قائم و دائم ہیں مگر ایک ڈاکٹر کا ایمان صرف اس لیے لرز جاتا ہے کہ مریض گٹر میں اتر کر اس پانی میں بھیگ گیا ہے جو ڈاکٹر صاحب جیسوں ہی کی بدولت گندہ ہوا ہے۔
کیا ہم نے کبھی یہ سوچا کہ اگر یہ خاکروب ان گٹروں میں اتر کر غوطے لگا کر، اپنی جان کا رسک اٹھا کر صفائی نہ کریں تو شاید ہمارا سڑکوں پر چلنا تو مشکل ہو ہی جائے بلکہ گھروں میں بھی بیٹھنا محال ہو جائے۔ مگر ہمارے ذہن بھی ان کوڑے دانوں کی مانند بن چکے ہیں جس میں کوئی خرد کی بات اب سما نہیں پاتی ہے۔
عرفان مسیح کی موت کی ذمہ دار اس گٹر میں پیدا ہونے والی گیس نہیں ہے بلکہ ڈاکٹروں کا وہ رویہ ہے جس میں بے حسی ہے، جس میں 
کیا عمر کوٹ کے ڈاکٹروں کے پاس ان مریضوں کا ریکارڈ ہے جنہوں نے اپنا علاج کروانے سے پہلے غسل کیا ہو اور ڈاکٹر نے اپنے نسخے والی پرچی میں یہ لکھا ہو کہ آئیندہ چیک اپ کے لیے نہا کر آنا اور ہو سکے تو باوضو ہو کر آنا کیون کہ یہ میرے ایمان اور پاکیزگی کا مسئلہ ہے۔
یہ ان خاکروبوں کا ہم سب پر احسان نہیں ہے کہ وہ ان بچوں کو بھی گٹروں سے نکالتے ہیں جو ان میں گر جاتے ہیں۔ مگر پھر بھی ہماری نفرت اور تضحیک انہی کے لیے ہے۔ سمجھنا چاہیے کہ کسی بھی ڈاکٹر کی ریاکاری انسانیت سے بڑھ کر محترم نہیں ہے۔

