مذہب مخالف افراد اصل خطرہ غامدی جیسوں کو سمجھتے ہیں


بڑھتی ہوئی شدت پسندی پر ہم ایک ڈائلاگ کرا رہے تھے۔ اس ڈائلاگ کے لیے مختلف مکاتب فکر کے نمائندہ لوگوں کو دعوت دی گئی تھی۔ کالعدم تنظیم کے نمائندے بھی اس میں موجود تھے۔ دس بارہ لوگ تھے سب ہی اپنی جماعتوں تنظیموں کے نظریاتی اثاثہ سمجھے جانے والے لوگ تھے۔ ایک پروفیسر صاحب بھی اس اجلاس میں شریک تھے۔

شدت پسندی کے حوالے سے بات چیت کافی معلوماتی رہی۔ شرکا نے کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انسانی حقوق مذہبی رجحنات شدت پسندی میں ریاستوں تنظیموں کے کردار پر بات ہوئی۔ کافی تاریخی حوالے دیے گئے بہت سی غلط العام باتوں کی حقیقت بھی سامنے آئی۔

اس سارے ڈائلاگ کے انتظامات وسی بابے کی ماڑی جان کے ذمے تھے۔ ظاہر ہے کوئی نہ کوئی الٹا کام تو ہونا تھا۔ وہ پھر ہوا پروفیسر صاحب کی پشاور سے فلائیٹ مس ہو گئی۔ اب انہیں اسلام آباد سے رخصت کرنے کے علاوہ کوئی فوری طریقہ نہیں تھا۔ پروفیسر صاحب کی منت کی انہیں گاڑی میں بٹھایا اور اسلام آباد کی جانب روانہ ہو گئے۔ یہ ایک یادگار سفر رہا۔

پروفیسر صاحب نان بی لیور تھے یعنی خدا پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ مذاہب پر تاریخ پر ان کے کام کا اعتراف کیا جاتا ہے۔ پروفیسر صاحب نے گاڑی میں بیٹھتے ہی سب سے پہلے تو اپنےگھر فون کر کے شکایت لگائی۔ انہوں نے کہا کہ اک اناڑی کے ہتھے چڑھا ہوا ہوں۔ ایک فلائٹ پشاور سے مس ہو گئی ہے دوسری کے اسلام آباد سے مس ہونے کا پورا خدشہ ہے۔ لگا یہی کہ اب پروفیسر صاحب سارے راستے عزت افزائی کریں گے۔ گاڑی موٹر وے پر چڑھی تو وہ اردگرد کے نظاروں میں کھو گئے۔ چارسدہ کے پاس پہنچے تو انہوں نے پشکلاوتی چارسدہ کے پرانے نام کا ذکر کیا۔ صوابی مردان سے گزرتے سکندر یونانی کا منگولوں کا ذکر ہوتا رہا۔ پاکستان کے لوگوں کی ناقدری کا ذکر ہوا کہ انہیں معلوم ہی نہیں کہ یہ کیسے تاریخی خزانوں کے مالک ہیں۔

مسلسل خارش تھی کہ اگر پروفیسر صاحب سے مذہب پر اور ان کے خدا کو نہ ماننے پر بات نہ کی تو زندگی بس بیکار ہی گزرے گی پھر۔ پروفیسر صاحب کو چھیڑ ہی لیا کہ سر یہ بامیان کے بت تباہ کر دیے طالبان نے تو مذہب کے بارے میں ہماری سمجھ بوجھ نے ہی ہمیں اپنے تاریخی آثار سے لاتعلق نہیں کر رکھا۔ پروفیسر صاحب بولے کہ بھائی مذہب کا کیا قصور یہ تو تشریحات کا مزاج کا قصور ہے۔ پروفیسر صاحب نے الٹا سوال کیا کہ آپ کو کیا لگتا ہے کہ طالبان سے پہلے یہاں ہزار سال میں کوئی مذہبی حکمران نہیں گزرا یا لوگوں میں مذہبی جذبے کی کمی تھی؟

پروفیسر صاحب کہ جواب سے لگا کہ وہ مذہب کے حوالے سے متعصب نہیں ہیں۔ حوصلہ پا کر ان سے پوچھا کہ سر آپ تو خدا کو نہیں مانتے۔ انہوں نے کہا بھئی میں تو بہت سوچ بچار کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں۔ پروفیسر صاحب نے پھر مذہب کی تاریخ بیان کرنا شروع کر دی ہم سنتے رہے۔ اسلامی تاریخ مقامی تحریکیں دیوبند عرب مزاج بہت کچھ پر بات ہوتی رہی۔ پروفیسر صاحب نے بہت سے علمی سوال اٹھائے جس کا کم از کم وسی بابے کے پاس کوئی جواب نہیں تھا، سو سنتے رہے چپ کر کے۔

آپ زیادہ جذباتی نہ ہوں میں ہرگز کچھ بتانے والا نہیں کہ پروفیسر صاحب سے کیا باتیں ہوئیں۔ البتہ ان کی ایک بات بتائی جا سکتی ہے شاید ۔ انہوں نے کہا کہ پچھلی دو تین صدیوں میں بہت بڑے لوگ پیدا ہوئے۔ ان کے پیش کردہ خیالات نے دنیا کو بدل کر رکھ دیا۔ کچھ کے خیالات وقت نے غلط ثابت کر دیے لیکن وہ بھی سوچ بدلنے میں اپنا حصہ ادا کر گئے۔ ان لوگوں میں سے کسی ایک نے بھی یہ دعوی نہیں کیا کہ اس کے کہے پر ایمان لایا جائے۔ لوگ اب جان گئے ہیں کہ انسان کو اپنی بات منوانے کے لیے اسے خدائی حوالہ بتانے سے زیادہ اسے سائینسی اصولوں پر ثابت کرنا ہو گا۔

پروفیسر صاحب سے پوچھا کہ کیا پاکستان ترقی کر سکے گا۔ انہوں نے کہا بالکل کر سکے گا اگر مذہبی خیالات کو لوگ اپنے دل اور اپنے گھر تک محدود کر لیں۔ یہ کہہ کر پروفیسر صاحب نے افسوس کا اظہار کیا کہ سارے مذاہب ریاستی علمی معاملات سے لاتعلق ہو گئے۔ وقت کے ساتھ ان کی عمر پوری ہو گئی۔ لوگوں نے پبلک میں اپنے مذہبی خیالات کا اظہار کرنا کم کر دیا۔ لیکن اسلام کی شیلف لائف بہت زیادہ ہے۔ یہ بڑا سخت جان مذہب ثابت ہوا ہے اور کمزور نہیں پڑ رہا۔

پروفیسر صاحب کا دکھ محسوس کر کے دلی مسرت ہوئی۔ ان سے پوچھا سر اس کی کیا وجہ ہے۔ پروفیسر صاحب نے اپنے ملحدانہ جوش و جذبے سے کہا ”مصیبت یہ غامدی جیسے لوگ ہیں۔ اسلام کو آؤٹ ڈیٹڈ ہونے ہی نہیں دیتے۔ ہر صدی میں ایک آدھ کوئی ایسا پیدا ہو جاتا ہے۔ وہ اسلامی تشریحات کو زمانے کے مطابق اپ ڈیٹ کر دیتا ہے۔ مذہب بطور مسئلہ پھر قائم دائم ہو جاتا ہے“۔

Facebook Comments HS

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 407 posts and counting.See all posts by wisi

Comments are closed.