ویکسین کا فتور

آج کل میں راولپنڈی میں ہوں اور میاں جی کراچی میں۔ لاک ڈاؤن میں میاں کے پاس نا ہونا، زندگی کو خاصا مشکل بنا دیتا ہے۔ لیلیٰ مجنوں تو نہیں، ہاں مگر قرب سے خالی لمحے خاصا بے چین رکھتے ہیں۔ ساتھ ہی رمضان۔ مجال ہے کوئی افطاری پہ بلا لے، اکیلا پن ہی دور ہو جائے کچھ دیر۔

سو اس اکیلے پن میں بڑے دنوں سے لوگوں کے تجربات رقم کر رہی تھی۔ سعودی عرب کے رشتے داروں میں ویکسین کے نتیجے میں ذرا سی بوجھل طبیعت کا احساس ہوا۔ امریکہ کے رشتے داروں میں ویکسین ماڈرنا/فائزر  کے نتیجے میں کسی کسی کو بخار اور سر درد ہوا۔ کراچی میں آکسفورڈ ویکسین  سے سارے جسم میں درد اور بخار ہوا۔ جبکہ سائنوفورم ویکسین سے زیادہ تر پاکستانیوں کو صرف تھکن کا احساس ہوا جو کہ ہماری قوم کو ویسے بھی نوے فیصد رہتا ہے۔

Read more

روڈ از ہلی، ڈونٹ بی سلی

کورونا کے بعد جاب شروع ہوئی تو دو نئے چیلنجز کا سامنا تھا۔ نئی باس اور میاں کی ضد۔ باس کو تو ہر صورت سنبھالنا میرا فرض تھا کہ یہ میرے کام کا حصہ تھا مگر میاں کی ضد کچھ اچھوتی تھی۔ دور جوانی کے کچھ ادھورے سپنے پورے کرنے چلے تھے۔ ناران کاغان۔ ناران کاغان، میرے دو بھتیجے طلحہ اور حسیب کی طرح ہیں۔ ان کا نام الگ لیا ہی نہیں جاتا۔ میرے میاں کو ناران کاغان سترہ سال

Read more

اسکول کھلیں گے پرماسک پہ لگی گندگی کو کون چیک کرے گا؟

شام کے وقت لان میں بیٹھی ساون کی پہلی رم جھم کی منتظر تھی جو بس برسنے کو تھی۔ سوچ رہی تھی کہ تیز آندھی اور ہوا سے کیا جراثیم بھی اڑ کے آ رہے ہوں گے۔ کیا مجھے ہٹ جانا چاہیے؟ مگر جب بوندیں برسیں، رم جھم رم جھم تو سکون کی سرحد کسی اور رخ لے گئی۔ یقیناً وہ کوئی پر سکون جزیرہ نہیں تھا اور پھر اچانک، ماہ جون کی تنخواہ یاد آ گئی۔ مئی کی تنخواہ

Read more

لاک ڈاؤن میں تنخواہ لینے کی سزا

نجانے لاک ڈاؤن میں عشق پہ لکھنے کی اتنی جرات کہاں سے آ گئی کہ مجھ سے آس پاس کے حالات نظر انداز ہو گئے۔ بچپن ہی سے میرا شمار اسکول کے شرارتی بچوں میں ہوا کرتا تھا۔ ہر بات اور ہر معاملے میں شرارت کا عنصر پیدا کر لینے کی ذہانت تھی۔ دسویں جماعت کی بات ہے۔ ہماری کلاس چوتھے فلور پہ واقع تھی۔ بریک کے بعد ہم سب کلاس میں چلے گئے۔ کیونکہ اسکول خاصا بڑا تھا تو

Read more

اوبر اور کریم کے بدتمیز کپتان اور لنڈے کا مال

بھیا آپ نے گاڑی یہاں کیوں روک دی؟ ابھی تو ہماری منزل نہیں آئی۔ بھیا نے انتہائی تڑپ کے اور بد تمیزی سے جواب دیا کہ میرے موبائل میں یہی لو کیشن ہے۔ میں اس سے ایک قدم آگے نہیں جاؤں گا۔ میں نے اپنے اندر کی بدتمیز میڈم کو سلائے رکھنے کا عزم کرتے ہوئے انتہائی عزت سے جواب دیا کہ بھیا یہ دیکھیے میرا موبائل۔ میں نے یہ لکھا ہوا تھا اور میری منزل تو ابھی نہیں آئی اس کے مطابق۔ مگر بھیا کو شاید عزت راس نہیں آ رہی تھی اور انھوں نے اسی ڈھٹائی کو اپنائے رکھنے کا عہد کر رکھا تھا۔

Read more

معصوم بچے، غریب والدین اور طبی شعبے میں کرپشن

راولپنڈی صدر میں شاہین کیمسٹ پہ کھڑی اپنی الرجی کی دوائیاں لے رہی تھی اور اپنی کولیگز کے ساتھ مصروف گفتگو بھی تھی، ا س حادثے کے بارے میں جو کراچی دارالصحت اسپتال میں نشوا علی کے ساتھ پیش آیا اور آج وہ ہمیں چھوڑ گئی۔ میری سہیلی نے اگلا ہی سوال کر ڈالا کہ جب میرا علاج فری ہے تو میں یہ دوائیاں خرید کیوں رہی ہوں۔ میں نے کہا کہ پیسے سے کہیں ز یادہ مجھے اپنی توانائی اور عزت نفس پیاری ہے۔ اس لیے مزید تفصیلی جواب نہیں دے پاؤں گی کہ میاں کو بھی اپنی نوکری اور عزت نفس بہت پیاری ہے۔

ہم وہاں سے روانہ ہوئے کہ ایک کولیگ کو اسپتال چھوڑنا تھا۔ راستے میں جو کہانی اس نے سنائی، مجھے غم و غصے کے باعث جھنجھوڑ کے رکھ دیا۔ میں نے پچھلے آرٹیکل میں بھی یہی کہا تھا کہ شعبہء میڈیسن کا احتساب آخر کب ہو گا۔ جس میں ایک سوئپر سے لے کر ہیڈ آف ڈ یپارٹمنٹ تک سب کرپشن کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ جنا ب میں 6 ماہ سے صرف اس ڈر سے کیلشیم کا ٹیسٹ نہیں کروا رہی کہ پاکستان میں جان بوجھ کر کیلشیم کم کر کے دکھایا جاتا ہے تا کہ اس کی ادویات کو فروغ دیا جا سکے۔ میں نے یہ معلومات متعلقہ بندوں سے حاصل کی ہیں۔ کوئی بھی بات غیر مصدقہ نہیں۔

Read more

اساتذہ بھی والدین ہوتے ہیں

ایک بادشاہ بازار سے گزر ا وہاں ایک کمہار 2 روپے میں گدھا بیچ رہا تھا۔ اگلے دن بادشاہ پھر وہاں سے گزرا وہ پھر وہیں بیٹھا گدھا بیچ رہا تھا۔ بادشاہ رک گیا اور اس سے پوچھا کہ گدھا کتنے کا ہے۔ اس نے دیکھا کہ بادشاہ ہے۔ اس نے قیمت 50 روپے بتا دی۔ بادشاہ بولا کل تو تم 2 روپے کا بیچ رہے تھے۔

اب وہ گھبرا گیا اور گھبراہٹ میں ا س نے کہہ دیا کہ اس پر بیٹھ کر آنکھیں بند کرو تو مدینہ کی زیارت ہوتی ہے۔ اس لیے اس کی قیمت زیادہ ہے۔ بادشاہ نے وزیر کو کہا کہ بیٹھ کر دیکھو کچھ نظر آتا ہے کہ نہیں۔

وزیر بیٹھنے لگا تو کمہار نے فوراً کہہ دیا کہ زیارت صرف نیک ایماندار اور پارسا کو ہوتی ہے۔ اب وزیر بیٹھ گیا اس نے آنکھیں بند کیں کچھ بھی نظر نہ آیا مگر اس نے سوچا میں اگر کہوں گا کہ نظر نہیں آیا تو سب کہیں گے کہ نیک ایماندار اور پر ہیز گار نہیں ہے۔ اس نے کہا کہ ما شاء اللہ مدینہ صاف نظر آ رہا ہے۔ بادشاہ کو تجسس ہوا اس نے کہا کہ میں خود بیٹھ کے دیکھوں گا۔ اب بادشاہ کو کچھ بھی نظر نہ آیا۔ اس نے سوچا وزیر تو بچ گیا اب میں کہوں گا کہ نظر نہیں آتا سب سمجھیں گے بادشاہ نیک اور پرہیز گار نہیں ہے۔

Read more

مما، میں ووٹ کسے دوں

بے خبر سو رہی تھی کہ یکے بعد دیگرے فون لرز اٹھا۔ گھبرا کے اٹھی کہ یا اﷲ سب خیریت ہو۔ فون جو دیکھا تو پانچ عدد فارورڈ میسج تمسخرانہ انداز میں منہ چڑا رہے تھے۔ میری قوم کل اگر کالا باغ ڈیم پہ اتنی متحرک ہوتی تو آج کو یہ بن بھی چکا ہوتا۔ Dunkin Donuts فری ڈونٹ دے رہا ہے اپنی سالگرہ پہ، اور ہر ذی روح اگلے تیس نمبرز کو یہ چیخ چیخ کے بتا رہا تھا

Read more

پرائیویٹ اسکول اور اساتذہ کی حالت زار

گلی میں آواز لگ رہی تھی ’سبزی والا‘۔ میرے ہونٹوں پہ مسکراہٹ پھیل گئی۔ ہر شہر میں نجانے کیوں چھابڑی والوں کی آواز و انداز ملتے جلتے ہوتے ہیں۔ خدا جانے ایسا کیوں ہوا کہ مجھے تعلیم فروش یاد آ گئے۔ ہر شہر میں خوانچہ فروشوں کی طرح ان کے انداز بھی قدر مشترک ہیں۔ اسکول کھلنے کو ہیں۔ ڈرامے شروع ہونے کو ہیں۔ کبھی پیپرز کھو جانے کے ڈرامے و احتجاج تو کبھی فیس بڑھنے پہ احتجاج و جلوس،

Read more

کراچی کے عسکری پارک کا 360 پنڈولم جھولا آخر کار گر گیا

نظر بد برحق ہے۔ مگر یہ سمجھ نہیں آتا کہ صرف کراچی کا خون ہی کیوں ہلکا ہے۔ کوئی اچھی پیش رفت صرف چند ایام کی مہمان ہی کیوں ہوا کرتی ہے؟ کراچی آئے کئی دن ہوئے۔ خوش گوار تبدیلی تھی مگر میرا قلم ٹھہرا طنزیہ۔ اس دفعہ اچھی تبدیلی لگی کراچی میں۔ خاص کر راشد منہاس روڈ پہ۔ لکی ون مال اپنی نوعیت کا ایک جدید اور خوبصورت مال بنایا گیا ہے کہ جس میں جا کے باہر کے

Read more

مجھے زیارت جا کر شدید مایوسی ہوئی

چھٹیوں پہ کوئٹہ آئے کئی دن گزرے۔ بہت آرام ہو چکا۔ سوشل میڈیا پہ جو گندگی اور طوفان بد تمیزی امڈا ہوا ہے آجکل، اسے دیکھ کے کئی بار سوچا کہ اپنے حلقہء احباب کی چھٹائی ہی کر ڈالوں۔ مگر پھر ڈر سا لگا کہ مٹھی بھر دانے بھی نہ رہ جائیں گے لہٰذا سوشل میڈیا سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ سوچا اب تک زیارت بھی نہ دیکھ سکی ہوں۔ لوگ ایسے سوال کرتے ہیں جیسے میرا ایمان لانا

Read more