لکھنے والوں سے چند گزارشات
تحریر ایک ایسا ہنر ہے جس کا فیڈ بیک فوری طور پہ نہیں ملتا لیکن موجودہ دور کیونکہ سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ اب مصنف کو تحریر کا فیڈ بیک فورا ًسے پیشتر مل جاتا ہے۔ دور بدلا ہے تو لکھنے کے اصول بھی بدلنے چاہئیں۔ ذیل میں لکھاریوں کے لیے چند گزارشات ہیں۔ اگر وہ ان پہ عمل کریں گے تو امید کی جا سکتی ہے کہ کامیاب مصنف کہلائیں گے۔
1۔ سب سے پہلا مرحلہ موضوع کے چناو کا ہے۔ اس مد میں یہ بات مد نظر رکھنی چاہیے کہ آپ کے قارئین کیا پڑھنا چاہتے ہیں۔ نئے دور میں وہی تحریر کامیاب ہے جو قارئیں کو مدنظر رکھتے ہوئے لکھی جائے۔ تو اس مقصد کے لیے سب سے پہلے لوگوں کی آرا لینی چاہیے کہ موضوع کون سا ہو۔ اس کے بعد ان پر غور کریں کہ زیادہ لوگ کیا پڑھنا چاہتے ہیں۔ پھر اگر آپ فیصلہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو لکھنا شروع کریں۔ لیکن پھر بھی ذہنی طور پہ تیار رہیں کہ اگر آپ کسی سماجی مسئلے پہ لکھ رہے ہیں یا کوئی اور سنجیدہ نوعیت کا موضوع ہے اور آپ سے سوال کیا جائے کہ فلاں گلی میں فلاں کو کتے نے کاٹا تھا اس پہ کیوں نہیں لکھا تو جواب دینا لازم ہے کیونکہ جو لوگ تحریر پڑھنے کے لیے آنکھیں پھوڑ رہے ہیں ان کی رائے مقدم ہے۔
2۔ اگر آپ طنزیہ تحریر لکھ رہے ہیں تو ایموجیز کا استعمال ضرور کیجئے کیونکہ الفاظ سے زیادہ ان کے ذریعے پیغام بہتر پہنچ سکتا ہے۔ کوئی مزاح کی بات ہے تو لافٹر والا ایموجی ڈالنا مت بھولیں یہ پڑھنے والوں کو ذہنی کوفت سے بچاتا ہے اور مصنف کے پیغام کو واضح پہنچاتا ہے۔
3۔ تحریر میں حتی المقدور عوامی زبان کا استعمال کیجیے اس میں گالم گلوچ بھی شامل ہے اس سے قارئین تحریر سے اپنایت محسوس کرتے ہوئے اسے بہتر انداز سے سمجھ سکتے ہیں۔
4۔ حقائق کو ایک طرف رکھتے ہوئے ہمیشہ جانبدار تحریر لکھئے۔ ایک تو اس سے نقطہ نظر واضح ہوتا ہے دوسرا لوگ الجھن سے بچے رہتے ہیں کہ خود غور کر کے نتیجہ اخذ کریں۔ تیسرا لکھاری کا تاثر بہتر جاتا ہے اسے آسانی سے کسی ایک فریم میں فٹ کر کے تعریف یا گالیوں سے نوازا جا سکتا ہے۔
5۔ تحریر بہرحال تحریر ہی ہوتی ہے اس میں آپ کے چہرے کے تاثرات ،آواز کا اتار چڑھاو کچھ بھی نظر نہیں آتا تو خواہ کتنی ہی وضاحت سے بات کی گئی ہو یہ امکان بہر طور موجود رہتا ہے کہ اسے سیاق و سباق سے ہٹ کر پڑھا جا سکتا ہے۔ ایسی صورت میں اس بات پہ عزت افزائی ہو جانا جس کا ذکر سارے فسانے میں نہ ہو عام سی بات ہے۔اس پہ پریشان ہونے کی بجائے وضاحتیں دیجئے اور اتنی عاجزی سے کہ قاری کو لگے آپ اس کے پاوں میں لپٹے ہوئے ہیں۔غصہ کرنا یا بے وقت کی راگنی پہ کوفت میں مبتلا ہونا آپ کے شایان شان نہیں ہے۔ اگر آپ جھلا جاتے ہیں اور قاری کی رائے کے مقابلے میں اپنی بات کی وضاحت کرنے سے باز نہیں آتے توآپ انتہا پسند ہیں جو اپنی ہی منوانا چاہ رہے ہیں۔
6۔ کسی بھی ایسے موضوع پہ جس میں عقلی دلیل سے بات کی گئی ہو یہ قوی امکان موجود ہوتا ہے کہ محبت کرنے والوں کا ہجوم ہو گا تو ایسے میں ایک ہی کمنٹ کی تکرار، کہیں سے مستعار لی گئی دانش مندی اور بغیر دلیل کی بحث کے لیے ذہنی طور پہ تیار رہیے۔ دماغ کو ٹھنڈا رکھیے اور آئندہ کے لیے خود سے وعدہ کر لیجیے کہ ایسی حماقت جلدی ہر گز نہیں کریں گے۔
7۔ سب سے اہم بات آپ کی ذاتی زندگی عوام کی امانت ہے اس لیے وہ بات کرتے ہوئے خاندان کے باقی افراد کو یاد کر لیں تو کوئی حرج نہیں، نہ اس بات پہ اعتراض ہونا چاہیے کہ آپ کی ذاتیات پہ حملے کیے جائیں اگر کہیں ایسا شدت سے ہو رہا ہو تو ائیر پلین موڈ آن کر لیا کریں۔ اسی میں فائدہ ہے۔
8۔ جرات مندانہ بات کرنے کے لیے آپ کو جو لفافے ملتے ہیں اسے مان لینے میں کوئی حرج نہیں ہوتا۔ یہ الزام نہیں ہے لوگ تحقیق کے بعد ایسی باتیں کرتے ہیں۔ انہیں بتانے میں کوئی مسئلہ ہرگز نہیں ہے، آپ کیوں نہیں چاہتے کہ کسی اور کا بھی بھلا ہو؟اور لوگ بھی ایسی تحریریں لکھ کے کما سکیں۔
اگر آپ ان گزارشات کو مد نظر رکھتے ہوئے لکھیں گے تو آپ کی تحریر کو پہلی ترجیح میں نہ صرف پڑھا جائے گا بلکہ اسے شیئر بھی کیا جائے گا۔

