آبشار: نئے ناولوں کی صف بندی


 جب ’’آبشار‘‘ کا شمارہ نمبر 4، محض حسنِ اتفاق سے، مجھ تک پہنچا تو اس کے مندرجات کی فہرست پر اس توقع کے ساتھ نظر ڈالی کہ یہ بیشتر ادبی رسائل کی طرح چالیس پچاس غزلوں، بیس تیس نظموں، دس بارہ افسانوں اور ڈھیر سارے خطوط کا پٹارا ہو گا۔

یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ اس میں نظمیں غزلیں سرے سے تھیں ہی نہیں۔ افسانوں کو بھی جگہ نہیں دی گئی تھی۔ یہ ضخیم شمارہ تمام تر نئے اردو ناولوں کے جائزوں پر مشتمل تھا۔ نئے سے مراد وہ ناول ہیں جو پچھلے تقریباً تیس برسوں کے دوران میں لکھے گئے ہیں۔

عام روش اور پٹی ہوئی لکیر سے ہٹ کر کوئی کام کرنے کی جرأت کی جائے تو وہ ہمیشہ توجہ کی مستحق ہوتی ہے اور اگر سلیقے کا ثبوت بھی دیا گیا ہو تو اسے داد بھی ملنی چاہیے۔

اس طرح کے کام جامعاتی رسالوں کو انجام دینے چاہئیں مگر انہیں ایسی باتیں کہاں سوجھتی ہیں۔ اُردو ناولوں کا جائزہ لینے کے لیے کسی رسالے کو مختص کرنے کا خیال بالکل نیا نہیں۔ ’’آبشار‘‘ ہی سے پتا چلا کہ اس موضوع پر ایک دو رسالے بھارت سے شائع ہو چکے ہیں۔ اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا کہ کون سا کام کس نے پہلے کیا۔ ادب میں ویسے بھی پہلے دوسرے پر توجہ دینا کارِ لا حاصل ہے۔ ادب دوڑ میں اوّل رہنے کا مقابلہ یا چیمپئن شپ جیتنے کا معاملہ تو ہے نہیں۔

ناولوں کا فرداً فرداً یا اجتماعی طور پر جائزہ لیا گیا ہے۔ دلچسپی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ بعض اہم ناول نگاروں کے انٹرویو بھی شامل ہیں۔ اس طرح کے انٹرویوز کی افادیت مسلم لیکن یہ ملحوظ رکھنا چاہیے کہ انٹرویو دینے والے بعض باتوں کو چھپا بھی جاتے ہیں یا مغالطہ آمیز انداز میں بیان کرتے ہیں۔ اس کا انہیں حق حاصل ہے۔ وہ کوئی اعتراف نہیں کر رہے۔ دوستانہ بات چیت کے دوران میں اپنے متعلق قارئین کے سامنے جو لانا چاہیں ان کی مرضی اور جو نہ بتانا چاہیں وہ بھی ان کی منشا کے مطابق۔

شمارے میں جو انٹرویوز شامل ہیں، ان میں سے مستنصر حسین تارڑ، محمد الیاس اور مشرف عالم ذوقی سے بات چیت قابلِ ذکر ہے۔ محمد حمید شاہد اور وحید احمد کے انٹرویوز میں بھی کام کی باتیں ہیں۔ مبین مرزا نے انتظار حسین، مستنصر حسین تارڑ اور رضیہ فصیح احمد کے ناولانہ فن کا تفصیل سے جائزہ لیا ہے۔ بلاشبہ جو ناول نگار کسی طور سے اہمیت کے حامل ہیں ان کی خوبیوں اور خامیوں پر جامع نظر ڈالنی ضروری ہے۔ چند صفحات کے تنقیدی محاکموں سے حق ادا نہیں ہوتا۔

افسوس کہ رسالے میں جن ناولوں کا ذکر ہے ان میں سے بہت سے میری نظر سے نہیں گزرے۔ کچھ مشکل پاکستان اور بھارت میں ڈاک کے آزادانہ تبادلے اور واجبی ڈاک خرچ کی عدم موجودگی سے پیدا ہوئی ہے۔ پاکستان میں شائع ہونے والے تمام ناولوں کو پڑھنے کا بھی مجھے موقع نہیں ملا۔ اس کا رشتہ، بہرحال، آپ میری نالائق، بے تعلقی اور سستی سے جوڑ سکتے ہیں۔

یہ کہنا چاہیے کہ اگر مرزا اطہر بیگ، عبدالصمد، مشرف عالم زوقی اور غضنفر کے ناولوں پر بھی مبسوط مضامین شامل ہوتے تو شمارے کی قدر و قیمت میں اضافہ ہو جاتا۔ اس طرح کے مشورے دینا آسان اور ان پر عمل درآمد مشکل ہے۔ یہ کیا کم ہے کہ اتنے لکھنے والوں نے مدیر سے تعاون کیا ہے۔ اس ساری محنت کے بدلے انہیں ملتا ہی کیا ہے! تھوڑی سی شہرت۔ لیکن ادب بیشتر صورتوں میں، کم از کم مالی اعتبار سے، ہے ہی خسارے کا سودا۔

جو مضامین بہتر معلوم ہوئے ان کا ذکر بھی آنا چاہیے۔ خالدہ حسین کے ناول ’’کاغذی گھاٹ‘‘ پر محمد حمید شاہد کا مضمون۔ اقبال خورشید کا مشرف عالم ذوقی کے ناول ’’لے سانس بھی آہستہ‘‘ کا جائزہ۔ مرزا حامد بیگ نے اچھا کیا جو شیخ صلاح الدین کے ناول ’’خوشبو کی ہجرت‘‘ کی طرف توجہ دلائی۔ نجم الدین احمد کے ناول ’’کھوج‘‘ پر خالد فتح محمد اور اختر رضا سلیمی کے ناول ’’جاگے ہیں خواب میں‘‘ پر ممتاز احمد خاں اور قاسم یعقوب کا اظہارِ خیال۔

سب سے کمزور مضمون محمد غالب نشتر کا ہے۔ اتنے بڑے موضوع سے صرف نو صفحوں میں نمٹنا مشکل تھا۔ بھارت میں پچھلی ربع صدی میں بہت سے اُردو ناول لکھے گئے ہیں۔ ان کی احتیاط سے درجہ بندی ضروری تھی۔

’’آبشار‘‘ کندیاں، ضلع میانوالی سے شائع ہوا ہے۔ حالیہ برسوں میں یہ خوش گوار تبدیلی نظر آئی ہے کہ رسائل اور کتب کی نشر و اشاعت کے معاملے میں لاہور اور کراچی کو غلبہ حاصل نہیں رہا۔ چھوٹے شہروں سے بھی رسالے اور کتابیں شائع ہو رہی ہیں۔ بڑے ادبی مراکز سے دور رہنے والوں ادیبوں کو ہمیشہ سے یہ شکوہ رہا ہے کہ ان سے کم اعتنا کیا جاتا ہے۔ یہ شکوہ بالکل بے اصل بھی نہیں۔ تاہم، جب وہ اپنی دنیا آپ پیدا کر نے کے مرحلے میں قدم رکھ چکے ہیں تو انہیں بڑے ادبی مراکز کی بالا دستی اور اپنی زیردستی کی پروا نہ کرنی چاہیے۔

اس رسالے یا کتابی سلسلے کا چوتھا شمارہ 428 صفحات پر مشتمل ہے اور اس کی قیمت صرف چار سو روپے ہے جو فی زمانہ حیرت ناک حد تک معقول ہے۔ امید ہے کہ ’’آبشار‘‘ کے مدیر اعزازی، محمد سلیم فواد کندی، اپنا ادبی سفر اسی توانائی سے جاری رکھیں گے۔

رابطہ: ڈاک خانہ نیوکالونی، کندیاں، چشمہ بیراج، ضلع میانوالی۔

 

 

Facebook Comments HS