سوشل میڈیا کا خطرہ؟

ایک اور واقعہ پیش خدمت ہے۔ ’ہم سب‘ پر ملالہ یوسف زئی کا انٹرویو شائع ہوا اور میں نے اپنے وال پر پوسٹ کردیا تو ایک دوست نے ملالہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔’ اور اپنی کتاب آئی ایم ملالہ میں تم نے جو بکواس کی ہے کہ داڑھی والوں کو دیکھ کر تجھے فرعون اور برقع دیکھ کر پتھر کا زمانہ یاد آتا ہے‘۔ اس پر میں نے پوچھا یہ بات کتاب میں کس صفحے پر کہی گئی ہے اوریہ کہ کیا انہوں نے یہ کتاب خود پڑھی ہے۔ انہوں نے کتاب خود نہ پڑھنے کا اقرار کر دیا اور ساتھ ہی آئندہ بغیر تصدیق کے ایسی کوئی بات نہ کرنے کا وعدہ بھی۔
ایک تصویر پچھلے دنوں نظر سے گزری۔ ایک سیاستدان کے سامنے انواع اقسام کے کھانے رکھے ہوئے تھے جبکہ دوسرا زمین پر بیٹھا سادہ کھانا کھا رہا تھا۔ ایک کو اصلی قائد جبکہ دوسرے کو عوام دشمن اور کرپٹ قرار دیا گیا تھا۔
’ان کو ختم کرنا ہوگا ،یہ لوگ روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں‘۔ ’سارے دجالی مولویوں کو پھانسی دو‘۔ ’نواز کے پاس دولت ہے اس لیے سارے جرنلسٹ ان سے کچھ ہتھیانے کے چکر میں ان کا ساتھ دے رہے ہیں‘۔ ’توہین رسالت کا قانون جنہیں منظور نہیں ہمیں وہ یہودی ایجنٹ منظور نہیں‘ ۔یہ چند ایک سوشل میڈیا پوسٹوں کی مثالیں ہیں۔
سوشل میڈیا معلومات میں اضافے،رائے کے اظہار، ابلاغ، تنقید اور تفریح کا ایک انتہائی طاقتور عامل بن کر سامنے آیا ہے جس سے کوئی بھی سیاسی، مذہبی اور سماجی گروہ یا شخص بے نیازنہیں ہو سکتا۔ مگرمسئلہ یہ ہے کہ انتہاپسند افراد اور تنظیمیں بھی اپنے پیغام کے ابلاغ کے لیے اس سے بھرپور کام لے رہی ہیں۔
یہ سستا ،فوری اور انتہائی موثر ذریعہ اظہار اگر اس طرح انتہاپسند گروہوں کو آسانی سے میسر رہا تو اس سے معاشرے میں امن، رواداری اور استحکام کو بڑا نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔
حکومت سوشل میڈیا پر توہین رسالت کے خلاف ایکشن لے رہی ہے تاہم اس کے منفی استعمال کے دیگر مظاہر پر اتنی توجہ نہیں دی جارہی جتنی درکار ہے۔
جھوٹا پراپیگنڈہ کرنا، مخالفین پر بلا ثبوت بہتان الزام لگانا، مخالفین کو کافر یا غیروں کا ایجنٹ قرار دینا، بغیر تصدیق کے مواد شیئر کرنا، کمنٹ کرتے ہوئے غلط اور نامناسب الفاط کااستعمال کرنا، مخالفین کے کریکیچر تیار کرکے نازیبا الفاظ کے ساتھ پوسٹ کرنا، گالیاں دینا، لوگوں کے ایمان اور کردار پرشک کرنا اور سازشی نظریات اور اعدادوشمار کے ذریعے کنفیوژن پھیلانا اس کے منفی استعمال کی چند ایک صورتیں ہیں۔
پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے برعکس سوشل میڈیا استعمال کرنے والے بہت بے خوفی سے اپنا کام جاری رکھتے ہیں کیونکہ وہ اپنی شناخت چھپا کر دوسرے نام سے بھی یہ کام کر رہے ہیں۔
حقیقت یہ ہے سوشل میڈیا کے ذریعے انتہا پسندی کا مواد گھر گھر پہنچ رہا اور عدم برداشت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس میں اکثر پوسٹیں دلائل کی بجائے نفرت اور گالیوں سے بھری ہوتی ہیں۔مخالفین کو دلیل سے قائل کرنے کی بجائے ڈرانے دھمکانے، گالی اور الزام تراشی سے کام لیا جاتا ہے۔
سوشل میڈیا پر لوگ فوٹوشاپ ٹیکنالوجی استعمال کرکے مخالف سیاسی و مذہبی رہنماؤں کی ایسی تصویریں شیئرکر دیتے ہیں جن میں ان کے جسم یا سر جانوروں کے ہو تے ہیں جبکہ ساتھ ہی انتہائی نازیبا تبصرے بھی کیے جاتے ہیں۔
مشال خان واقعے پر سوشل میڈیا کے ایسے منفی استعمال کے ذریعے ہی جھوٹا پراپیگنڈہ کرکے وہ ماحول پیدا کیاگیا تھا جس نے باالآخر اس بےگناہ کی جان لے لی۔ مسئلہ یہ ہے کہ صرف ان پڑھ اور کم تعلیم یافتہ لوگ نہیں بلکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ بھی سوشل میڈیا کا یہ منفی استعمال دھڑلے سے کررہے ہیں کیونکہ انہیں کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں ہے۔
سوال یہ ہے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ کیا کیا جائے۔ کیا ان کے ساتھ بحث کی جاتی رہے گی خواہ ان کے سدھرنے کا کوئی امکان ہی نہ ہو؟ یا ان کو دوست لسٹ سے ختم اور بلاک کیا جائے گا؟
میرا خیال ہے جب کوئی مسلسل التجاؤں اور تنبیہات کے باوجود بھی سدھرنے پر مائل نہ ہو تو ایسے جاہلوں اور کٹ حجتی کرنے والوں سے الجھنے کی بجائے ان سے کنارہ کشی ہی بہتر ہے تاہم اس سے معاشرے کو درپیش خطرہ تو پھر بھی ختم نہیں ہو تا۔
یہ بات تو واضح ہے کوئی قوم تب تک معزز نہیں کہلاسکتی جب تک وہ احترام سے دلیل کی زبان مین بات کرنا شروع نہیں کردیتی۔ ہمیں اپنے الفاظ اور انداز دونوں کو مناسب رکھنا ہوگا اس لئے کہ جس طرح یہ بات اہم ہے کہ کونسی بات کی جائے اور کونسی نہیں اس طرح یہ بھی اہم ہے کہ بات کی کیسے جائے۔ ہمیں اور ہماری پوسٹوں کوسچائی، رواداری، احترام، غیر جانبداری، تہذیب اور حکمت کا ترجمان ہو نا چاہئے۔ افراد ہوں، تنظیمیں یا قومیں وہ دوسروں کی تنقیص سے نہیں بلکہ اپنے محاسن سے آگے بڑھتی ہیں۔
کسی شخص اور پارٹی سے اختلاف کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہئے کہ اسے کافر، توہین رسالت کا مرتکب، یہودی ایجنٹ، غدار، اسلام دشمنوں کا آلہ کار اور منافق قرار دیکر اس کو اور اس کے متعلقین کی زندگی کو خوامخواہ خطرے میں ڈال دیا جائے۔
سوشل میڈیا کا مثبت استعمال بھی ہو رہاہے جس میں اضافہ ہونا چاہیے تاہم اس کا منفی استعمال روکنا لازم ہے ورنہ اس سے ملک میں امن، اعتدال اور رواداری کے امکانات کے لیے خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں۔ اس کے غلط استعمال کی روک تھام اور صحیح استعمال کو یقینی بنانا حکومت اور ہم سب کا فرض ہے۔

