مشرق وسطیٰ میں پاکستان کی مصالحتی کوششیں


وزیر اعظم نواز شریف آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ ایک روزہ دورہ پر سعودی عرب گئے ہیں جہاں وہ شاہ سلمان بن عبد العزیز سے قطر کے ساتھ پیدا ہونے والے تنازعہ پر بات چیت کریں گے۔ پاکستانی رہنما قومی اسمبلی کی قرار داد کی روشنی میں مشرق وسطیٰ کے ملکوں کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات کو رفع کروانے کے خواہاں ہیں۔ نواز شریف کے سعودی شاہی خاندان سے ذاتی تعلقات ہیں لیکن یہ قیاس کرنا مشکل ہے کہ قطر کے سفارتی بائیکاٹ کی صورت حال میں پاکستان کیا کردار ادا کرسکتا ہے۔ سعودی عرب نے 2015 میں یمن پر حملہ کے بعد پاکستان سے فوجی مدد طلب کی تھی لیکن پارلیمنٹ کی متفقہ قرارداد کی روشنی میں پاکستان نے فوج فراہم کرنے سے انکار کردیا تھا۔ اس کے بعد سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں سرد مہری موجود ہے لیکن اس کا کھل کر اظہار سامنے نہیں آیا۔ دوسری طرف سعودی عرب کو قطر کے معاملہ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت حاصل ہے۔ ایسے میں پاکستان کا مشورہ یا مصالحتی کوششیں بے سود ہوں گی۔

سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات اور مصر کے ساتھ مل کر گزشتہ ہفتے قطر سے سفارتی تعلقات توڑتے ہوئے اس کا زمینی، فضائی اور بحری بلاکیڈ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ان تینوں ملکوں نے قطر پر دہشت گرد گروہوں کی مدد کرنے کے سنگین الزامات عائد کئے ہیں۔ کویت کے امیر جابر الاحمد الجابر الصباح نے گزشتہ ہفتہ کے دوران سعودی عرب اور قطر کا دورہ کرکے اس تنازعہ کو حل کروانے کی کوشش کی تھی۔ اسی قسم کی خواہش کا اظہار ترک صدر رجب طیب اردوان کی طرف سے بھی کیا گیا تھا۔ کویت کے امیر کے دورہ کے دوران سعودی شاہ سلمان نے قطر کو یہ پیغام بھیجا تھا کہ وہ حماس سے لاتعلقی کا اعلان کرے، اخوان المسلمین کے ساتھ تعلقات ختم کئے جائیں اور شام میں مختلف عسکری گروہوں کی امداد بند کی جائے۔ لیکن درپردہ قطر کو یہ کہا گیا ہے کہ اگر وہ سعودی قیادت کی مرضی کے خلاف ایران کے ساتھ تعلقات بحال رکھے گا تو اس کا بائیکاٹ بھی جاری رہے گا۔ اس کے علاوہ سعودی شاہ اور دیگر عرب رہنما قطر کی ملکیت میں چلنے والے الجزیرہ ٹیلی ویژن نشریات کی خود مختاری سے بھی عاجز ہیں اور وہ انہیں بند کروانے کی خواہش بھی رکھتے ہیں۔ تاہم فی الوقت قطر نے اپنی خارجہ پالیسی تبدیل کرنے اور سعودی مطالبات ماننے سے انکار کیا ہے۔ قطر خود پر عائد الزامات کی سختی سے تردید کرتا ہے لیکن وہ بات چیت کے ذریعے معاملات طے کرنے کے لئے تیار ہے۔ تاہم مشرق وسطیٰ میں جس تیزی سے گروہ بندیاں ہو رہی ہیں ، خطرہ ہے کہ قطر کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے معاملات طے کرنے کا وقت جلد ہی ہاتھ سے نکل جائے گا۔ البتہ سعودی عرب کو جب تک امریکہ کی حمایت حاصل ہے، اسے وقت گزرنے کی زیادہ پرواہ بھی نہیں ہوگی۔

اس صورت حال میں یہ کہنا مشکل ہے کہ پاکستان سعودی عرب کو اپنا مؤقف تبدیل کرنے اور مذاکرات کے ذریعے قطر کے ساتھ معاملات طے کرنے کے حوالے سے کیا کردار ادا کرسکتا ہے۔ اس وقت پاکستان کی اپنی خارجہ پالیسی واضح نہیں ہے۔ اسے سعودی عرب اور ایران دونوں طرف سے دباؤ کا سامنا ہے اور وہ دونوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ ایک تنازعہ میں دونوں فریق درست یا غلط نہیں ہو سکتے۔ لیکن پاکستان کسی بھی فریق کو اپنی غلطی کو سدھارنے کا مشورہ دینے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ ایک تو وہ سعودی عرب اور قطر دونوں ملکوں میں کام کرنے والے پاکستانی تارکین وطن کے روانہ کردہ زر مبادلہ کا محتاج ہے اور کسی بھی ملک کی طرف سے اس کے کارکنوں کو ملک سے نکالنے کا فیصلہ اس کے لئے خطرناک اقتصادی مسائل پیدا کرسکتا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان خود بھارت اور افغانستان کے ساتھ تصادم کی صورت حال کا سامنا کررہا ہے۔ یہ بات بھی ناقابل فہم ہے کہ وزیر اعظم نے تنازعہ کے صرف ایک فریق سعودی عرب ہی جانے کا فیصلہ کیوں کیا اور وہ اس دورہ میں قطر کیوں نہیں گئے تاکہ اس کے امیر تمیم بن حمد الثانی کا مؤقف بھی جان سکتے۔

اس دورہ میں نواز شریف پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو بھی ساتھ لے کر گئے ہیں۔ قطر اور سعودی عرب کا تنازعہ سیاسی اور سفارتی نوعیت کا ہے۔ اس معاملہ پر بات کرنے کے لئے فوج کے سربراہ کا ساتھ جانا ناقابل فہم اور غیر ضروری ہے۔ سعودی عرب کی سرپرستی میں بننے والے اسلامی فوجی اتحاد کی سربراہی پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کررہے ہیں۔ سعودی عرب ان کی مدد سے پاکستان سے اس اتحاد کے لئے فوجی بھی بھرتی کرنا چاہتا ہے۔ اس کے علاوہ متعدد مواقع پر پاکستان سے فوج بھیجنے کی درخواست بھی کی جاتی رہی ہے۔ اب اس تنازعہ کے حوالے سے فوج کے سربراہ کا وزیر اعظم کے ساتھ جانا نئی غلط فہمیوں اور پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے۔

پاکستان ابھی تک دوسرے ملکوں کے معاملات میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ پاکستانی لیڈروں کو پہلے خود اپنے معاملات درست کرنے اور مشرق وسطیٰ کے تنازعات کے حوالے سے واضح اور دو ٹوک مؤقف اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان نے ابھی تک سعودی عرب کے ساتھ ارادت مندی اور تابعداری کا رویہ اختیار کیا ہے۔ اسے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ علاقے کے دوسرے طا قتور ملک پاکستان کی غیر جانبداری کو تسلیم کرسکیں۔ اس قسم کے فیصلہ کے لئے پاکستان میں اندرونی حالات کو بہتر بنانے، سیاسی مفاہمت کا ماحول پیدا کرنے اور اقتصادی متبادل تلاش کرنے پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان جب اپنے اندرونی حالات پر قابو پالے گا اور دوسروں کی محتاجی سے نجات حاصل کرسکے گا تو دوست ممالک بھی اس کی بات غور سے سننے پر مجبور ہوں گے۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali