سندھ کی اندھی ڈولفن اور ڈیرہ غازی خان کی نسیم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں ایک ایسے بے حس معاشرے کا شہری ہوں جہاں دکھ کی عبارت کو تب تک محسوس نہیں کیا جاتا جب تک وہ آپ کے وجود پر تحریر نہ ہو وگرنہ دوسرے کسی بھی جاندار پر دکھ آنے پر ہم صرف اپنے اوپر سے بلا ٹلنے پر شکر بھی بجا لاتے ہیں۔ جانور تو جانور انسان کے مرنے پر بھی ہم بالکل بے حسی کا شکار رہتے ہیں۔

پاکستان میں صنف مخالف کے ساتھ غیر انسانی سلوک کی رپورٹیں کیا کم تھیں کہ اب گدھے کتے اور دیگر جانوروں کے بعد سمندری مخلوق بھی اس سے محفوظ نہیں رہی۔ انسان اپنی شہوت پرستی کی نئی داستانیں رقم کررہا ہے۔ دنیا تسخیر ماہتاب کے بعد ستاروں پر کمندیں ڈالنے پر کمر بستہ ہے اور ہم اس بات پر بضد ہیں کہ دریائے سندھ میں اس طرح کے واقعات ہوتے ہیں یا نہیں- کسی وڈیرے نے اپنی ہوس کے لئے ایک ڈولفن کو قید کر لیا۔ کسی نے اس کے ساتھ انسانیت سے گرا سلوک کرڈالا۔ کبھی ایک ڈولفن لاڑکانہ کی نہر میں جا کر پھنس گئی جسے نکالنے کے چکر میں پاکستانی عملہ بھی پریشان ہوا اور اسے بھی نہر میں جانے کی سزا کے طور پر اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے۔

تاہم ان تمام واقعات سے ہٹ کر مجھے یاد ہے کہ یہ 2002 کا واقعہ ہے میں حصول رزق کی خاطر ڈیرہ غازی خان میں مقیم تھا اور اکیلے رہنے کی وجہ سے میرا گھر ایک  ڈیرہ کی شکل اختیار کئے ہوئے تھا جہاں ہر وقت ایک لونڈے لپاڑہ  پارٹی پروگرام چلتا رہتا تھا ، ڈی جی خان کے رہنے والے جانتے ہیں کہ ایک چاول والا جس کا نام بابا لوک کے چاول تھا خاصا مشہور تھا اب بھی ہے ہم لوگ اکثر اوقات اس کے پاس کھانے کیلئے جایا کرتے تھے وہیں مجھے پہلی بار ایک شخص سے علم ہوا کہ یہاں سے قریب ٖغازی گھاٹ کے قریب نابینا ڈولفن پائی جاتی ہے اور پورے چاند کی راتوں میں اکثر نظر آتی ہے۔ میرے لیے یہ ایک نئی بات تھی جو وقت کے ساتھ آئی گئی ہوگئی – کچھ عرصے کے بعد چوٹی زیریں میں ڈاکٹر عباس برمانی کے پاس باتوں باتوں میں یہ تذکرہ چل نکلا تو وہ بولے کہ انھوں نے اپنی کتاب "میرا سندھو سائیں” کے لئے جب سندھ کے ساتھ سفر کیا تو بہت بار اسے قریب سے دیکھا۔ میرا تجسس اور بڑھ گیا۔ پھر میں نے واپس اکر اس بات کا ارادہ کیا کہ ہمیں بھی جانا چاہیے اور اس نابینا ڈولفن کو دیکھنا چاہیے جو ساری دنیا میں مشہور ہے اور صرف پاکستان میں پائی جاتی ہے۔ ویسے بھی غازی گھاٹ صرف بیس منٹ کے فاصلے پر تو تھا بس کچھ دوستوں کو تیار کیا اور جانے کی تیاری شروع کردی۔

مجھے یاد ہے سردیوں کے دن تھے۔ جانے کے لئے چیزوں کی ایک طویل فہرست مرتب کی گئی جس میں کھانے پینے کے علاوہ اور بہت سی کارآمد چیزیں شامل تھیں ہم تین دوست شام کو غازی گھاٹ تھے اور اس کشتی والے کے منتظر تھے جس نے ہمارے دریا کی لمبائی کو آج مخؒتصر کرنا تھا ہمارا ناخدا شکل سے خاصا خوفناک لگ رہا تھا اس کے ساتھ دو لوگ اور ایک خاتون بھی ہمراہ تھے ہم نے اپنا سامان جلدازجلد کشتی میں منتقل کیا اور عازم سفر ہوئے

سردی کی شدت کو کم کرنے کیلئے اس خاتون نے کشتی پر ہی آگ لگارکھی تھی جس کے گرد ہم جمع تھے کھانا پینا چل رہا تھا اور ہاتھوں میں ٹارچیں لئے ہم باہر پانی کی طرف دیکھ رہے تھے بس زرا سا چھپاکا ہوتا اور ہم سب کی روشنی اس طرف ہوجاتی۔ سوجل والی گاؤں سے تعلق رکھنے والے ملاح اور اس کے ساتھی ہمیں مستقل دریا اور اس کی طغیانی کے بارے میں بتا رہے تھے اور وہ سارے قصے جو ڈولفن سے منسوب تھے کہ اچانک وہ عورت جس کا نام نسیم تھا بولی کہ ہم عورتوں میں اور اس مچھلی میں کوئی فرق نہیں۔ دونوں کو مرد کی مار سہنی پڑتی ہے اور اگر بات نا مانو تو جان سے بھی جانا پڑتا ہے۔ اس کی بات سن کر ہمیں سب کو جیسے سانپ سونگھ گیا

خاصی دیر پھرنے کے بعد بھی جب ہمیں ڈولفن نظر نہیں آئی تو میں نے ملاح جس کا نام شاید نذیر تھا سے پوچھا کہ کہ یہ تمھاری بیوی کیا کہہ رہی تھی کیا ایسا ہوتا ہے یہ ممکن ہے تو اس نے بتایا کہ جی ایسا ہوتا ہے اور اس کے گاؤں میں ایسے لوگ ہیں جنہوں نے ایسا کیا ہے اور بہت سے واقعات ہیں جو ہم نے دیکھے ہیں۔ کئی بار ایسا ہوا ہے کہ دور جانے کہ بعد وہ ڈولفن ملتی ہے اور اسے پکڑنا مشکل ہوتا ہے مگر جال لگا کر پکڑ لیا جاتا ہے اور کشتی میں اس کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جاتا ہے اور اس پر تھوڑی تھوڑی دیر بعد پانی ڈالا جاتا ہے تاکہ وہ زندہ رہے اور اکثر دو تین بار استعمال کرنے سے اس کی موت بھی واقع ہوجاتی ہے

بس دل ایک دم اچاٹ ہوگیا کہ انسان اتنا بھی گر سکتا ہے اور ہم واپس آنے تک ہم عجیب سی کیفیت کا شکا ر رہے۔ آج تک ان سوالوں کے جواب پوشیدہ ہی ہیں کہ نسیم اور نذیر کی باتیں ٹھیک تھیں یا نہیں دل نہیں مانتا کہ یہ سب سچ ہوگا مگر اب ایک بار پھر یہ سوال زیربحث ہیں۔ اللہ کرے کہ اس بار ان سوالوں کے جواب تلاش کر لئے گئے ہوں

(حسنین ترمذی سے  hasnain1272@yahoo.co.uk پر رابطہ کیا جا سکتا ہے)


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •