آخری آم یا آخری فصل

میں اس وقت ملتان کی بہا الدین زکریا یونیورسٹی سے دس کلومیٹر دور بوسن ٹاؤن کی ایک یونین کونسل جھوک وینس میں آم کے باغ میں کھڑا ہوں یہ اس علاقے کے بڑے باغوں میں سی ایک ہے جس کا رقبہ کم از کم 50 ایکڑ سے زیادہ ہے چاروں اطراف میں سینکڑوں آم کے درخت ہیں جن میں سے بعض کی عمر ایک سو سال سے بھی زیادہ ہے۔ زیادہ تر آم ابھی درختوں پر ہی ہیں مگر مالی

Read more

مجھے سائیں بشیر کیوں یاد آیا؟

یہ پہلا رمضان ہے کہ جس پر ابھی تک سائیں بشیر ہمارے گھر نہیں آیا۔ وگرنہ جب سے میں نے زندگی کو سمجھنا شروع کیا ہے ہر سال سائیں بشیر رمضان کے تیس دن سحری پر آیا کرتا تھا۔ اپنے بچپن میں مجھے سائیں بشیر کو دیکھنے کا اشتیاق ہمیشہ سے ہوا کرتا تھا کیونکہ سارے رمضان کے مہینے سحری میں ہمیں ہمیشہ سے سائیں بشیر ہی اٹھایا کرتا تھا۔

مجھے یاد ہے کہ ایک نسبتاً چھوٹے قد کا سیاہ فام اور بیٹھی ہوئی آواز کا مالک سائیں بشیر اپنے گلے میں گھی کا پرانا کنستر ڈالے اسے لکڑی سے زور زور سے بجایا کرتا تھا، وہ اتنی زور سے اسے بجاتا تھا کہ ہم سب ڈر کر بیدار ہو جایا کرتے تھے اور پوری قوت کے ساتھ منہ سے آواز نکالا کرتا تھا کہ ”رکھو روجے تے پڑو نماج۔ اے سائیں بشیر دی آواج“ ( رکھو روزے پڑھو نماز یہ سائیں بشیر کی آواز) اور سائیں بشیر آ گیا اے، سب دی خیر منا گیا جے۔

Read more

پاکستانی سکھوں کی شادی کیوں رجسٹرڈ نہیں ہو سکتی؟

سردار کہن سنگھ جی کی نوکری سکھ ہونے کی وجہ سے جنم استھان گوردوارہ ننکانہ صاحب میں بطور گروجی ہو گئی۔ یہ گوردوارہ متروکہ وقف املاک پاکستان جسے عرف عام میں ہندو اوقاف بھی کہا جاتا ہے کہ زیرانتظام ایک سرکاری نوکری تھی اور تمام تر سرکاری پروٹوکول جو اس نوکری کے ساتھ وابستہ تھے، آپ کو دیے گئے جس میں رہائش الیکٹرک سٹی یوٹیلٹی وغیرہ سب شامل تھے اور سب سے بڑی بات کہ یہ نوکری تاحیات تھی یعنی

Read more

میڈیکل ریپری زنٹیٹیو اور ڈاکٹر

ہم میں سے اکثر افراد کو کسی پروفیسر ڈاکٹر یا ایسے ڈاکٹر جو کسی بڑے ٹیچنگ ہسپتال میں رجسٹرار یا کسی بڑے عہدے پر فائز ہوں یا گھر کے قریب کسی جنرل پریکٹیشنر اور اس کے پرائیویٹ ہسپتال میں جانے کا اتفاق ضرور ہوا ہو گا وہ چاہے کسی ذاتی بیماری کی تشخیص کے سلسلے میں ہو یا کسی اور وجہ سے ہو۔ وہاں اکثر ہم نے ایسے کئی نوجوانوں کو دیکھا ہو گا جو صاف ستھرے پتلون اور قمیض پہن کر گردن کے گرد ٹائی لگائے ہاتھ میں بیگ پکڑے کسی کام میں مگن ڈاکٹر سے ملاقات کے انتظار میں بیٹھے ہوتے ہیں۔

ہنستا مسکراتا سا چہرہ لیے وہ ڈاکٹروں کو ملتے ہیں اور بڑی تابعداری سے جس طرف سے آتے ہیں، اسی طرف واپس چلے جاتے ہیں۔ عرف عام میں ان کو میڈیکل ریپ کہا جاتا ہے۔ ان کا کام میڈیکل سائنس کی تازہ ترین اطلاعات و معلومات، ریسرچز، نئے مالیکیول اور سالٹ کے حوالے انفارمیشن، کسی دوا کے سائیڈ ایفیکٹ، بیماری کی تشخیص اور نشوونما کے حوالے سے ہونے والی تمام تخقیقات سے ڈاکٹر کو آگاہ کرنا ہوتا ہے۔

Read more

دوا ساز کمپنیوں کی اندھیر نگری اور بے خبر مریض

کہتے ہیں کہ تندرستی ہزار نعمت ہے مگر پاکستان میں رہنے والے اپنی پرآسائش و سہل طرز زندگی اور خوش خوراکی کی بدولت اس نعمت سے آہستہ آہستہ محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ شاید ہی کوئی گھر ہو جہاں بیماری مہمان بن کر نہ رہتی ہو۔ ہمارے ارد گرد رہنے والے بے شمار ہمارے اپنے کسی نہ کسی بیماری سے حالت جنگ میں ہیں۔ کہیں شوگر۔ کہیں امراض دل، کہیں کینسر، کہیں کسی اور قسم کی انفیکشن، غرض بے پناہ بیماریاں اپنے پورے جوبن پر موجود ہیں۔

ایسے حالات میں ان بیماریوں سے لڑتے ہوئے مریض جب کسی ڈاکٹر کے پاس علاج کے لئے جاتے ہیں تو ان کی بھاری بھرکم فیس کے بعد سب سے مشکل مرحلہ اس وقت آن پڑتا ہے جب ڈاکٹر ایک طویل نسخہ لکھ کر مریض کے ہاتھ میں تھما دیتا ہے اور مریض کو ان بیماریوں سے چھٹکارا پانے کے لئے فارمیسی پر جا کر مہنگی ادویات ہر صورت میں خریدنا ہوتی ہیں۔

Read more