مجاہد عشائی: تراجم یا کارِ عشق

ہم میں سے شائد کئی لوگ اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ نہ ہوں ko کلاسیکل زمانے کے اہم ترین یونانی مفکرین کی فکر اور نظریات خود دیگر یورپی زبانوں میں عربی زبان کی وساطت سے پہنچے اور یوں انہیں بقا اور دوام ملا ورنہ کچھ بعید نہ تھا کہ یہ عظیم انسانی سرمایہ کب کا ضائع ہو جاتا۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انجیل یا بائبل بھی مختلف زبانوں سے سلسلہ درسلسلہ ترجمہ ہوکر یورپ کی موجودہ بڑی زبانوں تک پہنچی۔ انجیل یا بائبل اپنی اصل میں ’آرامی‘ Aramaic زبان میں بیان کی کی گئی تھی۔ جو بعد میں قدیم یونانی زبان سے گزر کر لاطینی تک پہنچی۔ انجیل کا موجودہ اور مقبول انگریزی متن جسے King James Bible کہتے ہیں، سترہویں صدی عیسوی کے اوائل میں کم از کم سینتالیس ترجمہ نگاروں کی محنت سے وجود میں آیا تھا۔
کینیڈا کے ممتاز مفکر اور دانشور ’نورتھروپ فرائی ‘ نے اپنی اہم کتاب The Great Code کے ابتدائی پیرا گراف میں یہ حقیقت بھی بیان کی ہے کہ’ قرآن ، عربی زبان کی اہم خصوصیات سے اس طرح منسلک ہے کہ عربی زبان سارے عالمِ اسلام میں پھیل گئی۔‘ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ قرآن کی تفہیم و تفسیر کے لیئے اس کے تراجم نہایت اہمیت رکھتے ہیں۔
اگر ہم مندرجہ بالا حقیقتوں کو ذہن میں رکھیں تو سمجھ سکیں گے کہ ہماری اردو زبان تک علم کا عالمی سرمایہ نہ صرف تراجم کے ذریعہ پہنچا ہے بلکہ عام طور پر عالمی زبانوں میں لکھا گیا علم و ادب ہم تک اس کے انگریزی تراجم کے ذریعہ پہنچا ہے۔ یہ بھی ایک اہم حقیقت ہے کہ ترجمہ کے ذریعہ علم و ادب کی ترسیل و ابلاغ میں ترجمہ نگاروں کا کمالِ فن، اور اعلیٰ ترین درجہ کی جادوگری ایک ایسی محیر العقل حقیقت ہے جس کا اعتراف ہر اہلِ علم پر ہر دم لازم ہے۔

یہی حال ہماری زبان اردو کا ہے جس میں دنیا کی کسی بھی زبان کے ادب سے مقابلہ کرتا ہوا اعلیٰ ادب تخلیق ہوا ہے لیکن چونکہ اسے ترجمہ نصیب نہ ہو سکا سو یہ صرف اپنی ہی زبان میں محدود ہو کر رہ گیا۔علم کی ترسیل کے ترجمہ پر انحصار کو ہمارے صاحبِ فکر دانشوروں نے تسلیم بھی کیا ہے اور اس ضمن میں حتیٰ المقدور کوشش بھی کی ہے۔ اس کوشش میں شعری ادب بھی شامل ہے، اور نثری ادب بھی۔ اردو ادب کا انگریزی ترجمہ کرنے والوں میں عصر ِ حاضر کے دو اہم نام جن کا تعلق شمالی امریکہ سے بھی ہے، قابلِ ذکر و قابلِ احترام ہیں جو کینیڈا میں مقیم ڈاکٹر بیداربخت اور امریکہ میں مقیم ڈاکٹر عمر میمن ہیں۔ بیداربخت نے عام طور پر شاعری کے اور ڈاکٹر عمر میمن نے عام طور پر نثر کے اہم ترجمے کیئے ہیں۔ ہمارے نثری ادب کے چند اہم نام جن کے تراجم منظرِ عام پر آئے ان میں عبداللہ ؔحسین، انتطار ؔحسین، قراۃ العین ؔحیدر ، اور سعادت حسن منٹوبھی شامل ہیں۔ یہاں یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ عبداللہ حسین نے اپنی اہم کتاب ’اداس نسلیں ‘ کا ترجمہ خود ہی کیا بلکہ بعض یہ بھی کہتے ہیں کہ انہوں نے اس کتاب کو ایک طرح سے دوبارہ انگریزی میں لکھا۔ اسی طرح قرۃ العین حیدر نے بھی اپنی کچھ کتابیں خود ہی ترجمہ کیں۔
حق تو یہ ہے کہ اردو نثری و شعری ادب کا ایک بہت اہم ذخیرہ ترجموں کا طالب ہے اور ان ترجمہ نگاروں کی راہ تک رہا ہے جو اس میں بیان کردہ ارفع ادب Sublime کو عالمی قاریئن تک پہنچا سکیں۔
اس ضمن میں گزشتہ چند سال میں ایک صاحبِ درد، دانشور، مجاہدعشائی ، کا نام منظرِ عام پر آیا ہے جن کا تعلق پاکستان سے، اور اب کینیڈا سے بھی ہے۔ وہ پیشہ کے لحاظ سے اکاوئنٹنگ کے شعبہ سے وابستہ رہے اور اس میں سرکاری اور غیر سرکاری شعبوں میں اعلیٰ ترین عہدوں پر فائض رہے۔اس کے علاوہ ان کا تعلق ٹیلی ویژن ڈراموں میں ایکٹنگ، کہانی نویسی، کالم نگاری، اہم موضوعات پر مقرری، اور اپنے شعبہ کے علوم کی تدریس سے بھی رہا ہے۔ انہوں نے ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد خود کو پاکستان کے بہترین ادب کو انگریزی زبان میں ترجمہ کے لیئے وقف کر دیا ہے۔
حال ہی میں انہوں نے سعادت حسن منٹو اور احمد ندیم قاسمی افسانوی اورغیر افسانوی تحریروں کے تین مجموعہ شایع کیے ہیں،جن کے عنوان مندرجہ ذیل ہیں:
Manto on and about Manto
More Manto
Thoughtful Musings – English Translations of a selection of Ahmed Nadeem Qasmi
۔ وہ اس مشکل کا م کا بیڑہ اٹھانے کے بارے میں کچھ اس طرح لکھتے ہیں:
’اس بات کی ضرورت ہے کہ ہماری نوجوان نسلیں،منٹو کی فنکارانہ مہارت سے لکھی گئی تحریریں اور ان میں موجود زندگی کی حقیقتوں سے آگاہ ہو سکیں۔ اس کے علاوہ ایک فوری ضرورت یہ بھی ہے کہ ہمارا جدید اہم ادب ہماری نوجوان نسلوں تک اس زبان(انگریزی) میں پہنچ سکے جو وہ اب آسانی سے سمجھتے ہیں۔‘
وہ اپنے مقصد کے بارے میں More Manto میں لکھتے ہیں کہ، ’پاکستانی ادب کا انگریزی ترجمہ کرتے ہوئے میرا مقصد اب کچھ تبدیل ہوا ہے۔ میں اب شدت سے محسوس کرنے لگا ہوں کہ دنیا کو ہمارے اہم ادب سے لاعلم رکھا گیا ہے، اور اس میں کسی اور کا نہیں خود ہمار ا قصور ہے۔ ۔۔ہم دنیا کے کسی بھی ادب کا کسی مرکزی زبان میں مطالعہ کرتے ہیں۔ہم دلیل کے لئے انگریزی کا حوالہ دے سکتے ہیں۔ لیکن ہمارا اردو ،یا دیگر بولیوں کا ادب ، سوائے ان زبانوں کے بولنے والوں کے کسی اور تک نہیں پہنچتا۔ دیگر الفاظ میں کہہ سکتے ہیں کہ ہماری علاقائی بولیوں یا زبانوں کا ادب پاکستانی عوام تک بھی نہیں پہنچتا، عالمی زبانوں کا تو ذکر ہی کیا۔میرے خیال میں یہ ان سب کی مجرمانہ غفلت ہے جنہیں وقتاًفوقتاً، سالہا سال سے پاکستانی ادب کے فروغ کی ذمہ داری سونپی جاتی رہی ہے۔ میں نے اس لیئے نہایت انکسار کے ساتھ یہ طے کیا ہے کہ میں پاکستان کے اہم نثر نگاروں کے ،انگریزی میں تراجم ‘ کے دو دو مجموعہ شائع کروں گا اور امید رکھتا ہوں کہ دوسرے لوگ بھی یہ ذمہ داری اٹھایئں گے۔ پاکستانی ادب کا بحرِ زخّار ان مصنفین سے بھرا ہوا ہے جنہوں نے استثنائی طور پر اعلیٰ ادب تحریر کیا ہے۔ آیئے ہم اسے عالمی قاریئن تک پہنچایئں۔‘
ترجمہ نگاری ادب کی وہ اہم شاخ ہے کہ جس کے بغیر کسی بھی زبان اور ادب کا پھیلائو نا ممکن بھی ہے اور اس زبان سے باہر کے ادب کو بھی نا مکمل رکھتاہے۔ ادب کے کائناتی شعور میں وسعت، ادب کی ایک زبان سے دوسری زبان میں منتقلی کے بغیر وجود ناممکن ہے۔باکمال ترجمہ نگاروں نے اعلیٰ ادب کو اس طرح اجنبی زبانوں میں منتقل کیا کہ قاری ایک لمحہ کے لیے بھی یہ محسوس نہ کر پائے کہ وہ اجنبی خیالات اور کسی مختلف ثقافتی اور لسانی دنیا سے لطف اندوز ہو رہا ہے۔
ادب میں صنفِ ترجمہ نگاری کی اہمیت، اس کی دشواریوں، اور کامیابی کی شرائط کے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ کینیڈا کی ایک معروف ترجمہ نگارRachel Martinez جو اس صنف سے بیس سال سے زیادہ عرصہ سے منسلک ہیں، جس میں سے گزشتہ دس سال انہوں نے ادبی تراجم کا کام کیا ہے،کہتی ہیں ہے کہ، ’’ترجمہ صرف ایک زبان کے متن سے دوسری زبان تک منتقلی کا نام نہیں ۔ یہ دراصل دوسری زبان کے قاریئن کے ذہن و چشم کشادہ کرنے کا عمل ہے۔ ہم یہ کام قاریئن کے لیئے کرتے ہیں۔ یہ ہم اس لیئے کرتے ہیں کہ ایک زبان کی ثقافت کی عالمی سطح پر رسائی ہو سکے‘‘۔
ترجمہ نگاری کی دشوار گزار راہ کو اختیار کرتے ہوئے ، مجاہد عشائی صاحب کا ہمارے ادب اور ادبی ثقافت کو انگریزی زبان میں منتقل کرنے، اور عالمی قاریئن تک اس کی ترسیل کا جذبہ، قابلِ ستائش بھی ہے، کارِ جنوں بھی، اور کارِ عشق بھی۔ ہم اس میں کئی طرح سے شریک ہو سکتے ہیں۔اولین کوشش تو یہ ہے کہ ہم ان کے شائع کیے گئے ترجموں کے بارے میں اپنی نوجوان نسل کو کسی نہ کسی طور آگاہ کریں۔ دیگر یہ کہ اگر ہمارے تعلقات عالمی قاریئن سے ہیں تو ان تک یہ گراں قدرکام پہنچایئں، اور اگر ہم خود ترجمہ نگاری کی صلاحیت رکھتے ہیں تو مجاہد عشائی کے مقصد کو نظر میں رکھ کر ترجمہ کی کما حقہ کوشش کر یں۔

