میرا کا بہترین بہو بننے کا نسخہ
کچھ دن پہلے عامر لیاقت حسین کے گیم شو میں معروف اداکارہ میرا کو بطور مہمان مدعو کیا گیا تھا۔ میرا ہر موقع پر عوام کی تفریح کا خاطر خواہ خیال رکھتی ہیں اس بار بھی انہوں نے عوام کو ہنسنے کے بہت مواقع فراہم کئے جس کے لئے ہم میرا کے شکر گزار ہیں۔ شو کے دوران عامر لیاقت حسین نے میرا سے سوال کیا کہ وہ شادی کے بعد خود کو ایک بہترین بہو کیسے ثابت کریں گی۔ میرا نے جو جواب دیا وہ بتاتا ہے کہ ہمارے معاشرے نے ایک بہترین بہو بننے کے لئے کتنا کڑا پیمانہ بنایا ہوا ہے۔ میرا نے کہا کہ وہ اپنے سسرال میں ایک بہترین بہو کھانا بنا کر، کپڑے استری کر کے، کپڑے دھو کر، پانچ وقت کی نماز پڑھ کر، دعائیں دے کر، بچے پیدا کر کے، شوہر کے پائوں دبا کر، ساس کی خدمت کر کے، ساس کو صبح صبح ناشتا اور چائے دے کر، سسر کو وقت پر نماز کے لئے جگا کر بنیں گی۔ میرا کا یہ بہترین بہو بننے کا نسخہ عامر لیاقت حسین اور گیم شو پر موجود حاظرین کو بہت پسند آیا۔ خوب قہقہے لگائے گئے، تالیاں بجائیں گئیں لیکن کیا واقعی ایک بہترین بہو بننے کے لئے یہ سب کرنا پڑتا ہے؟
جی واقعی یہی سب کرنا پڑتا ہے بلکہ اس سے زیادہ کرنا پڑتا ہے لیکن پھر بھی کامیابی نہیں ہوتی۔ بہترین بہو بننے کا یہ نسخہ کوئی اتنا انوکھا بھی نہیں ہے۔ پاکستان میں جس لڑکی کی بھی شادی ہوتی ہے وہ شادی کے بعد یہی سب کام کرتی ہے۔ ایک لڑکی جو نکاح سے پہلے فکر و پریشانی سے آزاد زندگی گزار رہی ہوتی ہے شادی کے بعد اس کی ننھی سی جان پر پورے گھر کا بار آ پڑتا ہے۔ شوہر کو بھی دیکھنا ہے، ساس سسر کو بھی خوش رکھنا ہے، دیوروں اور نندوں کے آگے پیچھے بھی گھومنا ہے ۔ غرض زندگی گھن چکر بن جاتی ہے۔ جب تھک ہار جاتی ہے تو شوہر سے ضد کر کے دو چار دن کو میکے آ جاتی ہے اور خوب آرام کرتی ہے۔ اس کے بعد پھر وہ ہی بھاگم دوڑ شروع۔بہترین بہو کا سرٹیفکیٹ بھی تو لینا ہے نا ورنہ طلاق کے کاغذات مل جائیں گے ۔
ترقی پسند معاشروں میں ہر انسان صنف سے بالاتر ہو کر اپنے کام خود کرتا ہے۔ ہمارے ہاں اس کے الٹ ہوتا ہے۔ بیٹیوں کو تو اپنے کام خود کرنے کی عادت ڈالی جاتی ہے لیکن بیٹوں سے کچھ کروانا ان کی مردانگی کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔ اب تو کئی گھرانے ایسے ہیں جہاں بیٹیاں بھی اپنے ہر کام کے لئے ماں کی محتاج ہوتی ہیں ۔ جب تک خاتونِ خانہ میں ہمت ہوتی ہے وہ کسی نہ کسی طرح ذمہ داریا ں ادا کرتی رہتی ہے جہاں وہ تھکنا شروع ہوتی ہے وہیں گھر کے کسی لونڈے لپاڑے کی شادی کا شوشہ چھوڑ دیتی ہے۔شادی ہوتے ہی گھر کے سب کام بہو کے حوالے کر دیے جاتے ہیں۔ وہ بے چاری صبح سے لے کر رات تک کسی نہ کسی کام میں مصروف ہی رہتی ہے۔ کسی کو اٹھ کر پانی کا ایک گلاس بھی نہیں پینا پڑتا۔ بس ایک آواز لگائی اور بہو کسی بوتل کے جن کی طرح پانی لئے حاضر ہو گئی۔
ان سب چیزوں نے مل کر شادی جیسے معتبر رشتے کو ایک عجیب سی دوڑ بنا دیا ہے۔ بہترین بہو اور بہترین بیٹے بننے کی دوڑ میں وہ دو لوگ جو نکاح کے دو بولوں سے بندھے ہوتے ہیں اپنی زندگی جی ہی نہیں پاتے۔ نکاح ہوتے ہی لڑکی اپنی کمر کس لیتی ہے کہ اب تو قبر میں جا کر ہی آرام ملے گا اور لڑکا ڈسپرین خرید لیتا ہے کہ ماں اور بیوی کے درمیان صلح صفائی کروانے کے بعد بہت کام آئے گی۔ جب پندرہ بیس سال بعد اس دوڑ کا اختتام ہوتا ہے تب انہیں پتہ لگتا ہے کہ وہ بلاوجہ دوسروں کو خوش کرنے میں لگے ہوئے تھے ۔ ان کے اس رشتے کا جو اصل مقصد تھاا سے تو وہ سمجھ ہی نہیں پائے۔

جہاں ہمارا معاشرہ بدل رہا ہے وہاں عامر لیاقت حسین اور میرا جیسے لوگ دوبارہ سے معاشرے کو اسی جہالت کی طرف لے کر جا رہے ہیں جہاں سے سفر شروع ہوا تھا۔ ایک اچھی بہو کا مطلب ہرگز کام والی ماسی نہیں ہوتی اگر آپ کو کام آپ کے گھر کے کام نبٹانے کے لئے کوئی مدد گار چاہئے تو بہت سی عورتیں اور مرد یہ کام کر رہے ہیں۔ آپ چند ہزار دے کر کچھ گھنٹوں کے لئے ان کی خدمات حاصل کر سکتے ہیں لیکن کسی کی بیٹی کو اپنے گھر اس مقصد سے لانا کہ اب ہم سے گھر کے کام نہیں ہوتے اس سے بڑی جہالت میں نے آج تک نہیں دیکھی۔ ایک لڑکی جو نکاح کر کے آپ کے گھر آئی ہے اس کی زندگی کا مقصد صرف آپ کے گھر آکر کپڑے دھونا یا برتن مانجھنا نہیں ہے۔ اس کو بھی اللہ نے پیدا کیا ہے، ایک زندگی دی ہے، احساسات دیے ہیں۔اس نے بھی اپنی زندگی سے کچھ امیدیں باندھی ہوں گی۔ اسے اپنی زندگی جینے دیں۔اسے ایک کام والی ماسی نہ سمجھیں بلکہ اپنی بہو سمجھیں۔ جو کام وہ اپنی خوشی سے کرے اسے کرنے دیں باقی کام گھر والوں میں تقسیم کر لیں۔ وہ بھی کرنے پر راضی نہ ہوں تو چند ہزار پر کوئی ملازم رکھ لیں۔ زندگی پُرسکون ہو جائے گی۔


