فوج کو سویلین قیادت کے ماتحت لانا چنداں مشکل نہیں!


پاکستان میں فوج کو سول قیادت کے ماتحت کرنا ہر حکومت کا خواب رہاہے ۔ سیاستدان وقتاً فوقتاً یہ راگ الاپتے رہتے ہیں کہ جمہوری نظام میں فوج سیاسی قیادت کے تابع ہوا کرتی ہے۔ ڈان لیکس کے تناظر میں یہ راگ پھر سے الاپا گیا جس کی شدت میں تیزی 29اپریل کے ٹویٹ کے بعد دیکھنے میں آئی جس میں ایک حاضر سروس میجر جنرل نے ایک منتخب وزیر اعظم کے فرمان کو رد کر دیا۔ سیاستدان یہ راگ پچھلے 59برس سے الاپے جا رہے ہیں مگر یہ توفیق کسی کو نہیں ہورہی کہ اس بات پر غور کیا جائے کہ جن کے لئے یہ راگ الاپا جا رہا ہے (اگر نام لیا جائے تو فوج)ان پر اس کا سحر کیوں نہیں طاری ہو رہا۔

پیپلز پارٹی (پی پی ) اور ن لیگ پانچ بار اقتدار میں آ چکی ہیں۔ اس وقت بھی دونوں برسرِ اقتدار ہیں۔ ن لیگ مرکز کے علاوہ پنجاب اور بلوچستان میں اور پیپلز پارٹی سندھ میں۔ تحریک انصاف نے خیبر پختونخواہ کی باگ دوڑ سنبھالی ہوئی ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) 1988سے سندھ کی دوسری بڑی سیاسی جماعت رہی ہے۔ زیادہ تر یہ حکمران جماعت کے ساتھ مل کر اقتدار کے مزے لوٹتی رہی ہے۔ یہ چاروں بڑی جماعتیں ہیں اور ان سب قدر مشترک یہ ہے کہ ان میں سے کسی ایک میں بھی جمہوریت کی شبیہ تک نہیں ملتی۔ یہ سیاسی جماعتیں نہیں بادشاہتیں ہیں جو سیاسی رہنماﺅں کے بچوں کو وراثت میں ملتی ہیں۔ بے نظیر کویہ بادشاہت ملی اپنے باپ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد۔ بے نظیر کے قتل کے بعد یہ بادشاہت ان کے مجازی خدا جناب آصف ذرداری کے نام ہو گئی ۔ اور اب نیا بادشاہ ہو گا بلاول۔ وہ بچہ جس کے سامنے کہنہ مشق سیاستدان جیسے کہ اعتزاز احسن ہاتھ باندھے کھڑے رہتے ہیں۔ اور ن لیگ تو شریف برادران کی خاندانی سلطنت ہے۔جو کہ نواز شریف کے بعد ان کی بیٹی مریم صفدر کو ملے گی۔ تحریک انصاف عمران خان نے اکیس برس قبل قائم کی۔ آج تک وہی اس کے روح رواں ہیں اور مرتے دم تک رہیں گے۔ اور الطاف حسین توروزِ اول سے متحدہ کے فیورر (Fuhrer) ہیںاور تا حیات رہیں گے۔

سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں فوج کے اندر زیادہ جمہوریت نظر آتی ہے۔ مثلاً کیا آپ نے کبھی دیکھا کہ کسی آرمی چیف نے اپنی زندگی میں ہی اپنے بیٹے یا بیٹی کو اپنی گدی تھما دی یا جوانوں کو یہ حکم دے دیا کے میرے مرنے کے بعد میرا منصب میرے ولی عہد کا ہوگا تم سب اس کے وفادار رہنا۔ یہ درست ہے کہ فوج منتخب حکومتوں کا تختہ الٹتی آئی ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیوں ہر بار عوام نے اس مداخلت کو خوش آمدید کہا۔ کیوں نہیں جیالے یا متوالے ترکی کے عوام کی طرح فوج کے ٹینکوں کے سامنے لیٹے اور فوجی بغاوت ناکام بنائی۔ ویسے ہمارے ےہاں تو ٹینکوںکی نوبت ہی نہیں آتی۔ رات کے اندھیرے میں سیاستدان آرمی چیف کے آستانے پر حاضری دیتے ہیں اور ترلے منتے کرتے ہیں کہ سر مارشل لاءلگا دیں ہم تمام عمر آپ کے تابعدار رہیںگے۔ چوہدری پرویز الہی تو جنرل مشرف کو سو بار وردی میں صدر منتخب کرانا چاہتے تھے۔ اورجب بھی آرمی چیف نے ایسے سیاستدانوں کی باتوں میں آ کر مارشل لاءلگایا تو عوام نے بھنگڑا ڈالا اور مٹھائیاں تقسیم کیں۔ ایسا ہی منظر 1999میں دیکھنے میں آیا جب نواز شریف کی بھاری بھر کم مینڈیٹ والی حکومت بھوسے کے تنکوں کی طرح اڑ گئی۔ لوگوں نے شکر ادا کیا کہ جان چھوٹی! ترکی میں 161لوگوں نے جانیں دیںاور تقریباً پندرہ سو زخمی ہوئے۔ ان میں اردگان کے مخالفین بھی شامل تھے۔ مگر ےہاں دشمن تو دور کی بات نواز شریف کے دوستوں نے بھی صدائے احتجاج تک بلند نہ کی۔ کمال کا انقلاب تھا کسی کو خراش تک نہیں آئی!

ہم بھی کیا کمال قوم ہیں۔ فوج جمہوریت پر شبِ خون مارتی ہے اور جمہوریت کے پاسباں عدلیہ پر۔ بات زیادہ پرانی نہیں۔ ۔ 27نومبر 1997 جب ن لیگ کے کارکنوں اور لیڈروں نے سپریم کورٹ پر دھاوا بول دیا تھا۔ افسوس کی بات یہ کہ ان لیڈروں میں ایک مشہور کمپئیر طارق عزیز تھا جو اپنے پروگرام نیلام گھر کے ذرےعے قوم کو اخلاقیات سکھاتا تھا۔ اس وقت کے چیف جسٹس مرحوم سجاد علی شاہ نے عدالتِ اور اپنے ساتھیوں کے تحفظ کے لئے آرمی چیف جنرل کرامت کو خط لکھا تھا۔ تاریخ آج پھر اپنے آپ کو دھرا رہی ہے۔ پیمرا کا چیف ابصار عالم ،جس کا تقرر نواز شریف نے خوداپنے ہاتھوں سے کیا ، ایک پریس کانفرنس کے ذرےعے آرمی چیف سے اپنے اور ادارے کے ملازمین کے لئے تحفظ مانگتا پھر رہا ہے۔ سارے جہاں کو بتلا رہا ہے کہ میں نے ہر ممکن کوشش کر لی کہ وزیرِ اعظم سے ملاقات کا موقع مل جائے اور یہ بتاسکوں کہ پیمرا کو دھمکیاں مل رہی ہیں، کام نہیں کرنے دیا جا رہا مگر ان تک شنوائی نہیں ہو رہی۔ وزیر اعظم تو دور کی بات ان کے مصاحبین تک نے ابصار کو گھاس نہیں ڈالی۔ اب ایسے میں انسان پریس کانفرنس نہ کرے، آرمی چیف سے سیکورٹی نہ مانگے تو اور کیا کرے! عالم تو یہ ہے کہ اشتہاری مجرم پولیس کے آگے ہتھیارنہیں ڈالتے ۔ کہتے ہیں کہ فوج کے آگے سرنڈر کریں گے۔ پولیس پر اعتبار نہیں ہے ۔ جعلی مقابلے میں مار دیتی ہے!

انگریزی کا محاورہ ہے Two wrongs don’t make a right اسی طرح سیاستدانوں کی غلطیوں یا کمزوریوں کا یہ مطلب نہیں کہ فوج منتخب حکومتوں کا تختہ گول کرنا اپنا حق سمجھے ۔ فوج ےقیناً سول قیادت کے تابع ہوتی ہے مگر اس وقت جب سول قیادت کا دامن پاک ہو اور وہ خود جمہوریت پر عمل کرتی ہو۔ سیاستدانوں کے یہ بھاشن کہ دیکھیں جی کیسے قائدِ اعظم نے فلانے فوجی کو یہ کہہ کر جھڑک دیا تھا کہ تمہارا کام ہمیں مشورے دینا نہیں ہمارے احکامات پر عمل کرنا ہے، کسی کام کے نہیں۔ بے عمل واعظ کی کوئی وقعت نہیں ہوتی۔ فوج کو اوچھے ہتھکنڈوں سے نیچے نہیں لگایا جا سکتا۔ قائدِ اعظم کی مثال دینے سے پہلے خود کو ان جیسا باکردار اور باوصف بنانا پڑے گا۔ فوج کسی ایسے وزیر اعظم کو کبھی بھی سنجیدگی سے لے ہی نہیں سکتی جس پر کرپشن کے الزامات ہوں اورجو عدالت عظمی کے دو منصفوں کی نظر میں صادق اور امین نہ ہو۔۔فوج تو کیا کسی بھی با شعور انسان کیلئے ایسا لیڈر قابلِ احترام ہو ہی نہیں سکتا۔ کوئی اور ہوتا تو فوراً مستعفی ہو جاتا۔ برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے ضمیر کو دیکھیں۔ کوئی کرپشن کا الزام نہیں۔ بریگزٹ میں عوام سے اپیل کی کی ےورپی ےونین میں رہنے کے حق میں ووٹ دیں۔ لوگوں نے فیصلہ برعکس دیا۔ یہ کہہ کر مستعفی ہو گئے کہ میں اب عوام کا ااعتماد کھو چکا ہو کیسے ان کی رہنمائی کر سکتا ہوں۔ اچھی حکمرانی تو دور کی بعد اگر سیاستدان اپنے آپ کو ایماندار بنا لیں تو محمد خان جونیجو کی طرح آرمی چیف کو جواب دے سکتے ہیں۔ جب ترکش حمام میں سب ہی ننگے ہوں تو کون دوسرے کو کہہ سکتا ہے کہ تمہاری پشت تو برہنہ ہے!

Facebook Comments HS

محمد شہزاد

شہزاد اسلام آباد میں مقیم لکھاری ہیں۔ ان سے facebook.com/writershehzad پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

muhammad-shahzad has 41 posts and counting.See all posts by muhammad-shahzad