دلیل کی وفات کے بعد پیار ہی دلیل ہے

وسی بابا اکثر کچھ ایسا لکھ بیٹھتا ہے کہ پھر عامر خاکوانی کا ایک ڈانٹ ڈپٹ والا فون آتا ہے۔ ویسے تو وہ اپنے آپ کو نارمل کر کے ٹھنڈے ہو کر ہی فون کرتے ہیں۔ لیکن بندہ فون کے دوران بھی تو دوبارہ مشتعل ہو سکتا ہے۔ خاکوانی صاحب کا اعتراض اکثر یہ ہوتا ہے کہ تم ایک قبائلی پختون مزاج کے ساتھ بڑے ہو کر کیسے ایسی بکواس لکھ بیٹھتے ہو۔ انہیں کون بتائے کہ اسی وجہ سے تو لکھ لیتا ہوں، خیر۔
خاکوانی صاحب فون بند کرنے سے پہلے ایک بات لازمی تفصیل سے بتاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ دیکھو ایک فرق ہے لبرل اور مذہبی سوچ میں۔ مذہبی بندہ آسمانی ہدایت پر یقین رکھتا ہے اسی کے گرد اپنی زندگی گزارنے کی کوشش کرتا ہے۔ لبرل حضرات اپنی عقل استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں اسی کے مطابق مسائل کو دیکھتے ہیں انہیں حل کرنے کو ٹکریں مارتے ہیں۔
بات اصل میں دلیل کی وفات کی ہو رہی ہے۔ ہمارے ڈاکٹر صاحب کا کہنا ہے کہ دلیل وفات پا چکی ہے۔ یہ اعلان اس نتیجے پر پہنچنے کے بعد کیا گیا تھا کہ سوچ کی مختلف بنیاد رکھنے والے لوگ ایک دلیل پر اتفاق کر ہی نہیں سکتے۔ جو آسمانی ہدایت کو حتمی سمجھتے ہیں وہ منطقی مزاج رکھنے والوں کی دلیل کو ردی ہی سمجھیں گے۔ منطقی مزاج والے بھی آسمانی ہدایت پر یقین رکھنے والوں کی دلائل کو ایسے ہی رد کرتے ہیں۔ تو دلیل پھر کسی قابل رہ گئی کیا؟
رؤف کلاسرہ بہت حوالوں سے میرے پسندیدہ لکھاری ہیں۔ اس بات کا یقین شائد انہیں خود بھی نہ آئے۔ سوشل میڈیا پر کچھ دن سے ان کے خلاف بدقسمتی سے ایک مہم جاری ہے۔ انہیں ٹویٹر پر عائشہ صدیقہ کے ساتھ الجھتے دیکھا۔ عائشہ صدیقہ نے خود کافی اچھا کام کر رکھا ہے۔ عمر چیمہ کے خلاف ایک مہم جاری ہے۔
پانامہ لیکس کی تحقیقات کرنے والے صحافتی کنسورشیم کے واحد پاکستانی ممبر عمر چیمہ ہیں۔ ان کے خلاف بھی ایک مہم جاری ہے۔ انہیں مسلم لیگ نون والے تو رگڑ ہی رہے ہیں۔ پی ٹی آئی والوں نے بھی ان کے ساتھ کچھ اچھا نہیں کیا۔
لوگوں میں واضح طور پر ایک تقسیم نظر آ رہی ہے۔ ایک ہیجان ہے ایک دوسرے سے چڑے ہوئے لوگ جو ایک دوسرے پر چڑھ دوڑنے کو تیار بیٹھے ہیں۔ بات اتنی سی ہے کہ بنیادی سوچ کا فرق ہے جسے لوگ ہینڈل نہیں کر پا رہے۔
کچھ دن پہلے مولانا شیرانی سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ دو طرح کہ لوگ ہوتے ہیں خداپرست اور ہواپرست۔ دونوں کے اپنے کچھ عقائد ہوتے ہیں لیکن دونوں آپس میں مکالمہ کر سکتے ہیں کہ زندگی گزارنے کے بنیادی اصول ایک جیسے ہیں دونوں کے۔ مولانا صاحب بہت معذرت کے ساتھ آپ کی بات نے بڑی امید دلائی تھی حقیقت اس سے مختلف لگ رہی ہے۔
بچپن کے دوست عزیز سیاسی اختلاف کی وجہ سے آپس کے تعلق توڑ رہے ہیں۔
وہ ڈٓاکٹر صاحب جنہوں نے بتایا کہ دلیل کی وفات ہو چکی وہ غیر متعلق ہو چکی۔ وہ ماہر نفسیات ہیں کچھ اور بھی بتاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب کئی طرح کی سوچ رکھنے والے دھڑے معاشرے میں نمودار ہو جائیں۔ اپنی سوچ پر اصرار کریں تو وہ پھر تبدیلی سے انکاری ہو جاتے ہیں۔ واحد راستہ بس تصادم ہی بچتا ہے جو پھر ہو کر رہتا ہے۔
پاکستان میں اس فکری تصادم کے عملی تصادم میں بدلنے کا ہم اب مشاہدہ کر رہے ہیں۔ ریاست اپنا کردار ادا کر ہی نہیں رہی۔ ریاستی رٹ مستحکم ہو تو بھی اس تصادم سے بچا جا سکتا ہے یہ قابل قبول سطح پر رہتا ہے۔
اگر ہم اپنے طور پر کچھ کرنا چاہیں تو رشی کپور کی ایک ٹویٹ ہی ہمیں راستہ دکھاتی ہے۔ وہ اپنی ٹویٹ میں کہتے ہیں کہ تم اپنی کرکٹ ٹیم کو پیار کرو جیسے میں اپنی کرکٹ ٹیم سے کرتا ہوں۔ اچھی ٹیم کو جیتنے دو، کتنی اچھی بات کی بس اتنی سی بات ہے۔ اگر ہم دوسرے کے اپنی سوچ سے پیار کو بھی سچا مان لیں اس کا بھی احترام کر لیں تو بڑا گزارا ہو سکتا ہے۔سوچ کی شکست میں بھی سپورٹس مین سپرٹ دکھانی ہو گی۔
ہمیں سمجھ لینا چاہئے کہ دلیل کی وفات کے بعد زندگی کی آسانیوں کے لیے اب پیار ہی دلیل ہے۔

