پاکستانی نیوزانڈسٹری کا پہلا بڑا اسکینڈل

شہناز گل ایک پراسرار کردار تھی، اس کے خلاف اسمگلنگ اور قتل کا مقدمہ قائم ہوا، کہا جاتا تھا کہ یہ اسمگلنگ کے عالمی ریکٹ سے منسلک تھی، شادی شدہ ہونے کے باوجود شہنازگل کی کئی اہم سرکاری افسران کے ساتھ دوستیاں بھی بیان کی جاتی ہیں یہ خبر ایک ایسے 
مصطفیٰ زیدی کو قتل کیا گیا یا انہوں نے خودکشی کی، کیا مصطفیٰ زیدی شادی شدہ ہونے کے باوجود شہناز گل کواس کی تصویروں سے بلیک میل کررہے تھے، مصطفیٰ زیدی کی شاعری سے پتہ لگتا ہے کہ شہنازگل نے انہیں چھوڑدیا تھا تو یہ گھر میں کیا کررہی تھی، کیا شہناز گل مصطفیٰ زیدی کی سرکاری نوکری کی وجہ سے انہیں استعمال کرناچاہتی تھی اور نوکری چھوٹ جانے کے بعد انہیں چھوڑدیا. ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے شہنازگل کو رہاکردیا گیا اور ان میں سے کسی سوال کا آج تک جواب نہیں مل سکا مگر قتل یا خودکشی کی اس واردات کا ایک پہلو پاکستانی پریس کے ارتقاء کا ایک آغاز بھی ہے. تجزیات ، تبصرے، چٹکلے، تفتیشی رپورٹنگ اور سنسنی خیزی کے نئے تجربات ہوئے، یہاں سے پاکستانی پریس کے سفر کا آغاز ہواجو جنرل ضیاء کے دور میں سخت پابندیاں برداشت کرتا ہوا الیکٹرانک میڈیا کے عہد میں داخل ہوااور میڈیا ہاؤسز ریاست کے فیصلوں پر اثرانداز ہونے لگے. سوشل میڈیا آنے کے بعد اب یہ سفر ایک نیا موڑلے رہا ہے مگر اپنے پہلے اسکینڈل کے موڈ سے ہمارا میڈیا ابھی تک شاید باہر نہیں آسکا

