بے نظیر بھٹو سے پہلی ملاقات

کسی چڑیا کو بھی جمہوریت کی بحالی کے نعرے پر گرفتار کیا جاسکتا تھا۔ کسی کی جرأت نہیں تھی کہ وہ جنرل ضیاالحق کی آمریت کے خلاف آواز بلند کرے۔ سوائے پاکستان پیپلزپارٹی کے کارکنوں کے، پورے ملک پر سکوت طاری تھا۔ آمریت نے ’’امن کی فضا‘‘ کچھ ایسی مسلط کردی تھی کہ ہر طرف ہو کا عالم تھا۔ کہیں کہیں کسی شہر کی گلیوں میں چند ایک نوجوان اکٹھے ہوتے اور نعرہ بلند کرتے ’’بھٹو کو رِہا کرو‘‘ تو اُن کو پولیس کی وردی میں ملبوس نوجوان دبوچ لیتے اور اُن کے ہمراہ سادہ کپڑوں میں خفیہ والے اور جنرل ضیا کے حامی ڈنڈے بردار جمہوریت کی بحالی کا نعرہ لگانے والوں اور بھٹو کے حامیوں پر ٹوٹ پڑتے۔ جب گرفتاری کے بعد فوجی عدالت انہیں فٹافٹ ’’دس دس کوڑے اور پانچ پانچ سال قید‘‘ کی سزا سنا دیتی۔ یہ ایک نیا پاکستان تھا۔ بعد از ذوالفقار علی بھٹو پاکستان۔ جمہوریت سے اسلامی نظام کی طرف مراجعت کا آغاز ہوچکا تھا۔
ستمبر 1978 کی ایک دوپہر اسی ہو کے عالم اور سکوت میں مجھے ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی سے ملنا تھا۔ اُن دنوں وہ بی بی یا محترمہ بے نظیر بھٹو نہیں بلکہ آنسہ بے نظیر کے نام سے پکاری جاتی تھیں۔ نہرکنارے فاروق لغاری کے گھر اُن سے ملاقات ہوئی۔ وہاں چند لوگ بیٹھے تھے جن میں قیوم نظامی، جہانگیر بدر، عارف اقبال بھٹی، پیر سید ناظم حسین شاہ، یونس ادیب، خالد بٹ، نور محمد قصوری، ریحان بشیر اور چند دیگر لوگ، زیادہ سے زیادہ دو درجن۔ مجھ سمیت سب اس فکر میں تھے کہ ذوالفقار علی بھٹوکو کیسے رِہا کروانے کے لیے جدوجہد تیز کی جائے۔ ایک نوجوان جو ابھی صرف زندگی کے سترہ برس عبور کر پایا تھا، سینے میں آتش فشاں موجزن تھا۔ جوش اور مایوسی کی عجیب کیفیت۔ جن کا رہبر پابند سلاسل ہو، ایک آمر کی قید میں ہو، وہی اس کیفیت کو سمجھ سکتے ہیں۔ آنسہ بے نظیر بھٹو نے نیلے رنگ کی شلوار قمیص پہن رکھی تھی۔ دبلی پتلی، نہایت کمزور۔ ایک بیٹی جو اپنے باپ کی رہائی کے لیے بے تاب تھی کہ کیسے جدوجہد برپا کی جائے۔ آنسہ بے نظیر گھر کے اندر سے نکلیں تو دو درجن کے قریب بھٹو کے جیالوں نے پُرجوش انداز میں نعرے بازی شروع کردی۔ ’’شرم کرو، حیا کرو۔ بھٹو کو رِہا کرو۔ فوجی آمریت ، مُردہ باد۔‘‘ ’’جیوے جیوے، بھٹو جیوے۔‘‘ گھر کے باہر دو تین سو پولیس والے بمعہ درجنوں خفیہ والوں کے جمع تھے جو گھر کے اندر موجود لوگوں کے نام جاننے کے لیے بے چین تھے۔ مجھے اس جدوجہد میں بھرپور طریقے سے شامل ہونے کا جنون تھا۔ اپنے ہیرو کی رہائی کی جدوجہد۔ مزدوروں ، کسانوں اور غریبوں کے رہبر کی جدوجہد۔ اسلامی کانفرنس کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کی رہائی۔

پُرجوش راقم کے سامنے اُن دنوں ایک ہی ایجنڈا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو کسی نہ کسی طرح رِہا کروانا ہے۔ ہاں یہ میری ہیرو ورشپ تھی۔ سترہ سال کا نوجوان ایک دلیر لیڈر کا عاشق کیوں نہ ہو، جس نے چند سال قبل لاہور ہی میں امریکی سامراج کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ہنری کسنجر کی دھمکی رد کرتے ہوئے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کا عزم دہرایا ہو، جس کے عشق میں کسان اور مزدور رقصاں ہوں، جس نے اُن لبوں کو جو صدیوں سے بند تھے، آزادی کی بغاوت پر آمادہ کیا ہو۔ جو اپنے لاکھوں کٹے پھٹے کپڑوں میں ملبوس حامیوں کے ہمراہ سٹیج پر دھمال ڈالتا ہو۔ وہ بہادر لیڈر جس پر قاتلانہ حملہ ہو اور وہ اپنی گاڑی سے باہر نکل آئے اور جھاڑیوں میں چھپے، جاگیرداروں کے بھیجے کرائے کے قاتلوں کو للکار کر کہے، چلاؤ میرے سینے پر گولی۔ وہ لیڈر جس نے اقوامِ متحدہ میں عالمی طاقتوں کو للکارتے ہوئے بے نقاب کیا ہو۔
وہ لیڈر جو 1970 کے انتخابات میں کامیابی کے بعد بھری پریس کانفرنس میں ایک غیرملکی صحافی کے اس سوال پر کہ ’’تم ایک جاگیردار سر شاہنواز کے بیٹے اور تمہاری پارٹی ایک سوشلسٹ پارٹی، تم کیسے جاگیرداروں کے خلاف سوشلسٹ اصلاحات کرسکتے ہو؟‘‘ اس سوال پر وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے اور اپنے ساتھی معراج محمد خان کو مخاطب کرکے کہے، ’’معراج محمد خان ہرکوئی مجھے میرے والد کے حوالے سے جانتا ہے۔ انہیں بتاؤ کہ میں ایک غریب ماں کا بیٹا ہوں۔‘‘ وہ ذوالفقار علی بھٹوجس نے اسلامی دنیا کے سارے رہنماؤں کو چند سال قبل ہی 1974 میں لاہور میں اکٹھا کرکے جدید اسلامی تاریخ کی اہم ترین کانفرنس منعقد کی اور بحیثیت چیئرمین اسلامی کانفرنس اپنے آخری خطاب میں کہا ہو کہ ’’ہم فلسطین کو آزاد کروائیں گے۔ ہم بیت المقدس کی آزادی کے لیے جان دے دیں گے لیکن پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘‘ وہ لیڈر جو عوام کے لیے اٹھارہ گھنٹے کام کرتا ہو۔ جس نے اقتدار میں ایک بھی فیکٹری نہ لگائی ہو، جس کا دامن اس طرح صاف اور شفاف ہو جیسے تازہ چشمے کا پانی۔ جو خواتین کے حقوق کی جدوجہد کرتا ہو۔ سامراج کے خلاف ایک عالمی آواز ہو۔ تو اس سے عشق نہ کیا جائے تو کیا کیا جائے۔
اس لیڈر کی بیٹی کے پہلو میں کھڑا یہ نوجوان خواب دیکھ رہا تھا۔ جب آنسہ بے نظیر بھٹو نے تقریر ختم کرلی تو ایک کارکن اپنے قائد کی 
جب بے نظیر بھٹو، لغاری ہاؤس کے لان میں خطاب کر چکیں تو اب مجھے دیگر تین ساتھیوں کے ہمراہ آنسہ بے نظیر بھٹو کو ملنا تھا۔ صوفے پر بیٹھی کمزور لڑکی جو اسی سال انتخاب لڑنے کی عمر میں داخل ہوئی تھی، ہمیں دیکھ کر بڑی خوش ہوئی۔ نور محمد قصوری، ریحان بشیر اور میں۔ بے نظیر نے کہا کہ آپ سب کو بھٹوکی رہائی کے لیے جدوجہد تیز کرنا ہوگی۔ وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔ اور پھر وہ بولتی رہیں۔ یہ راقم کی اپنے رہنما کی بیٹی سے پہلی ملاقات تھی۔ اُن دنوں ایک ہی اخبارتھا، مساوات جو پی پی پی کی خبریں دیتا تھا۔ باقی سب اخبار جنرل ضیا کی عظمت کے گن گاتے تھے۔ دوسرے دن اس ملاقات کی خبر مساوات میں بمعہ تصویر چھپی۔ بے نظیر بھٹو سے میری پہلی ملاقات۔ اور اس ہفتے راقم نے بے نظیر بھٹو کے بیٹے بلاول سے ملاقات کی۔ وقت بہت بدل چکا۔ زمانہ بدل گیا۔ ذرا غور کریں اُس ملاقات اور اِس ملاقات میں کیا کیا بدلا۔ اِس ملاقات کی چند جھلکیاں اگلی تحریر میں۔

