برطانوی فوج میں جنسی ہراسانی کے واقعات

تو باس نے اسے کہا کہ اگر وہ ابتدائی طور پر مان جائے تو وہ اسے convert کر دے گا اور آئندہ کے لیے وہ ہم جنسی پرستی ترک کر کے مردوں میں سچی دلچسپی لینا شروع کر دے گی اور زندگی کا "اصلی” لطف اٹھا سکے گی۔ (باس کا یہ فقرہ اور اپنے زور بازو پر اتنا اعتماد، صدقے جاؤں کوئی سنا سنا سا لگتا ہے۔ اعتماد کے اس طرح کے دعووں کی گواہی تو بہت سی پاکستانی لڑکیاں بھی دیں گی۔ مطلب جنسی ہراسانی میں کئی انگریز جوان ہمارے ہم پلہ ہونے کی کوشش بھی کرتے ہیں)
خیر تو بات ہو رہی تھی مس کیری کے ساتھ ہونے والی جنسی ہراسانی کے مقدمے کی۔ کیری کی شکایت کا اگلا حصہ یہ تھا کہ باس کی بات نہ ماننے کی وجہ سے باس نے اس کو تنگ کیا۔ اس پر طرح طرح کے الزام لگائے جیسے وہ اپنا کام دھیان سے نہیں کرتی اور یہ کہ اس کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ اس طرح سے باس نے کیری کا مستقبل تباہ کر دیا۔
کیری یہ ساری باتیں ثابت کرنے میں کامیاب ہو گئی اور برطانیہ کی وزارت دفاع کو دو لاکھ پاؤنڈ کا جرمانہ ہوا۔ جو کہ مس کیری کو اس کے خلاف ہونے والی جنسی ہراسانی کی تلافی کے طور پر ادا کیا گیا۔

میڈیا کے اس اعتراض کا جواب مس کیری نے کچھ یوں دیا تھا کہ کوئی بھی سپاہی مرد یا عورت میدان جنگ میں اپنی جان بھی دے سکتا ہے کیونکہ یہ اس کی نوکری کا حصہ ہے۔ اس معاہدے پر اس نے دستخط کیے ہوتے ہیں۔ البتہ نوکری کا معاہدہ کرتے ہوئے میں نے اس بات پر دستخط نہیں کیے تھے کہ مجھے جنسی ہراسانی بھی برداشت کرنا ہو گی۔ لہذا اس دونوں چیزوں کا آپس میں کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ اس جواب نے برطانوی tabloid میڈیا کو کافی حد تک چپ کرا دیا۔
برطانیہ کی وزارت دفاع کی 2015 کی ایک رپورٹ کے مطابق، برطانوی آرمی میں ہر دس میں سے چار عورتیں اپنی فوجی نوکری کے دوران کسی نہ کسی موقع پر جنسی ہراسانی کا شکار ہوتی ہیں۔ دس میں سے ایک کیس شدید نوعیت کا ہوتا ہے لیکن پھر بھی شکایت بہت ہی کم کیسز میں درج کروائی جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ کہ اکثر خواتین کو شکایت کرنے کا خمیازہ بھی بھگتنا پڑ سکتا ہے۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ رپورٹ کے مطابق مرد سولجرز کو بھی اپنے مرد ساتھیوں کی جانب سے جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور خواتیں بھی اپنی خواتین ساتھیوں کو جنسی طور پر ہراساں کرتی ہیں۔ اور ان کے ہتھکنڈے بھی مردوں جیسے ہی ہوتے ہیں۔

ہمارے ہاں معاملہ اس سے مختلف ہے یعنی ہم جرائم کو سامنے لانے والے کو اصل مجرم اور غدار سمجھتے ہیں اور جرم کے وجود سے قطعی انکار کر دیتے ہیں۔ لہذا کسی بہتری کے سارے امکانات ہی ختم ہو جاتے ہیں۔
فکر اور سوچنے کی بات یہ ہے کہ اتنی سماجی اور سائنسی ترقی اور قوانین کی موجودگی میں برطانیہ ابھی تک جنسی ہراسانی کی لعنت سے چھٹکارا نہیں پا سکا تو ہماری خواتین اور بچے اس سے کب چھٹکارا پائیں گے۔ جبکہ ہم نے تو بحیثیت معاشرہ اس برائی کے وجود سے ہی انکار کیا ہوا ہے۔ اس برائی کے وجود کو تسلیم کرنا ہی اس کے خاتمے کی جانب پہلا قدم ہو گا جو ابھی ہم نے اٹھانا ہے۔

