کیا رشی کپور ایوارڈز پیسے دے کر لیتے تھے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

رشی کپور کی فلم بوبی ایک سپر ڈوپر ہٹ فلم تھی، اس پر انہیں بہت سے ایوارڈ بھی ملے لیکن ان میں سے ایک ایوارڈ میں کچھ گڑبڑ تھی۔ "امیتابھ بچن کو بہت برا لگا جب مجھے فلم بوبی کے لیے بیسٹ ایکٹر ایوارڈ ملا۔ مجھے یقین ہے وہ سمجھتے ہوں گے کہ فلم زنجیر میں بہترین پرفارم کرنے پر یہ ایوارڈ ان کا حق ہے۔ وہ بھی اسی برس ریلیز ہوئی تھی۔ مجھے یہ کہتے ہوئے شرمندگی ہوتی ہے لیکن درحقیقت یہ ایوارڈ میں نے خریدا تھا۔ میں اس وقت بالکل نیا آیا تھا اور مجھے یہ مشورہ ترکناتھ گاندھی نے دیا تھا۔ ‘سر تیس ہزار دے دو تو آپ کو میں ایوارڈ دلا دوں گا۔’ میں ایسی بے ایمانیاں عام طور پر نہیں کرتا لیکن اس وقت میں نے سوچے سمجھے بغیر یہ رقم ان کے حوالے کر دی۔”

رشی کپور کی پہلی اور ایک دم کھلی کتاب کھلم کھلا کے نام سے اس برس ریلیز ہوئی ہے۔ ایوارڈ والی بے ایمانی کے علاوہ اور بہت سی تلخ حقیقتیں اور یادیں انہوں نے کھول کھال کر بیان کی ہیں۔ اپنے باپ راج کپور کے بارے میں لکھتے ہیں؛

"میں بہت چھوٹا تھا جب میرے باپ اور نرگس جی کا افئیر چلا، اس لیے مجھے گھر میں کوئی خاص گڑبڑ بھی محسوس نہیں ہوئی۔ لیکن مجھے ماں کے ساتھ میں نٹ راج ہوٹل میں شفٹ ہونا بالکل یاد ہے اور اس وقت پاپا کے معاملات وجینتی مالا کے ساتھ پروان چڑھ رہے تھے۔ میری ماں نے سوچا کہ اب بہت ہو گئی، ہوٹل کے بعد ہم لوگ دو ماہ کے لیے چتراکوٹ کے ایک اپارٹمنٹ میں شفٹ ہو گئے، وہ بھی پاپا نے ہی دلایا تھا۔ انہوں نے بہت کوشش کی کہ ہم لوگ واپس آ جائیں لیکن ماں نے تب تک ایک بات بھی نہیں سنی جب تک ان کی زندگی کا وہ باب بند نہ ہوا۔”

رشی کپور لکھتے ہیں کہ انہیں پہلا سچا پیار ایک پارسی لڑکی سے ہوا۔ "اس وقت فلم بوبی آ چکی تھی۔ سٹار ڈسٹ میگزین نے میرے اور ڈمپل کے بارے میں ایویں ایک بے بنیاد سٹوری چھاپ دی۔ ڈمپل اس وقت راجیش کھنہ سے شادی کر چکی تھیں لیکن یہ افئیر والی سٹوری ان کے لیے کوئی بڑا مسئلہ نہیں تھا۔ مسئلہ مجھے ہوا جب یاسمین مجھے چھوڑ کر چلی گئی۔ میں نے بہت کوشش کی کہ وہ واپس آ جائے لیکن وہ کبھی نہیں مانی۔ یاسمین نے مجھے ایک سادہ سی انگوٹھی دی تھی جو شوٹنگ کے دوران ڈمپل کبھی کبھار میری انگلی سے اتار کر پہن لیتی تھیں۔ جب راجیش کھنہ نے انہیں پروپوز کیا تو انہوں نے وہ پہننا چھوڑ دی۔ بلکہ ہوا یہ کہ راجیش نے وہ انگوٹھی ان کی انگلی سے نکال کر سمندر میں پھینک دی۔ اور پھر سرخیاں بنیں، ‘راجیش کھنہ نے رشی کپور کی انگوٹھی سمندر برد کر دی۔’ حقیقت یہ ہے کہ بھئی میں ڈمپل کے ساتھ پیار محبت کے چکر میں کبھی نہیں پڑا۔”

ایک اور جگہ رشی کپور کہتے ہیں کہ امیتابھ نے کسی انٹرویو میں یا کسی بھی کتاب میں کبھی یہ بات نہیں مانی کہ ان کے ساتھ کام کرنے والے اداکار بھی کم اہم نہیں تھے۔ وہ اپنی کامیابی میں ساتھی اداکاروں کا بالکل کوئی رول تسلیم نہیں کرتے۔ رشی کے مطابق اس پریشان کن صورت حال کا سامنا ششی، دھرمیندر، شتروگھن سنہا، ونود کھنہ اور ان کے ساتھ کام کرنے والے ہر اداکار کو کرنا پڑتا تھا۔ اس دور میں ایکشن فلمیں زیادہ بنتی تھیں، جو لڑائی بھڑائی کر سکتا وہ سکرین پر چھایا رہتا، اور وہ بہرحال امیتابھ بچن ہی تھے۔ تو یہ ہلکی پھلکی دشمنی آج بھی رشی کپور اور امیتابھ کے درمیان سرد جنگ کی صورت میں موجود ہے۔

بوبی کے بعد جب پے در پے رشی کی فلمیں فلاپ ہوئیں تو وہ اعتراف کرتے ہیں کہ نیتو سنگھ پر اپنا تمام ڈپریشن اور غصہ جھاڑ کر وہ فارغ ہو جاتے تھے حالانکہ اس وقت نیتو امید سے تھیں۔ بہت بعد میں جا کر دوستوں اور ساتھیوں کی مدد سے وہ اس مرحلے سے باہر آئے لیکن اپنی بیوی کے ساتھ کیا گیا برا سلوک انہیں ہمیشہ شرمندگی کا احساس دلاتا ہے۔ پھر نیتو سنگھ کا کرئیر ختم کرنے پر بھی وہ شرمندگی سے اعتراف کرتے ہیں؛

"نیتو کا اپنا فیصلہ تھا کہ شادی کے بعد اس نے فلم لائن چھوڑ دی۔ میں پورے صاف دل سے کہہ سکتا ہوں کہ میں نے کبھی اس معاملے میں زبردستی نہیں کی۔ شادی سے پہلے ہم نے یہ طے کیا تھا کہ جب بھی بچے ہو گئے تو ہم میں سے ایک کمائے گا، دوسرا بچے پالے گا۔ لیکن ایمانداری کی بات ہے کہ میں نے کبھی جھوٹے منہ بھی نیتو سے نہیں کہا کہ اسے کام جاری رکھنا چاہئیے۔ میرے اندر وہی روایتی مرد تھا جو چلاتا رہتا تھا کہ تیری بیوی فلموں میں کام کرتی ہے۔ میں دل سے چاہتا تھا کہ نیتو سارے معاہدے شادی سے پہلے ختم کر دے۔”

کتاب میں رشی اس بات کا بھی اعتراف کرتے نظر آتے ہیں کہ بچوں سے ان کے تعلقات ویسے ہرگز نہیں رہے جیسے ہونا چاہئیے تھے۔ ان جھلکیوں کے علاوہ بھی کتاب میں بہت کچھ موجود ہے۔ دیباچہ رنبیر کپور کا لکھا ہوا ہے اور وہ بھی کافی حد تک "کھلم کھلا” ہی ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 494 posts and counting.See all posts by husnain