کیا فوج متبادل قیادت لا رہی ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ قومی سلامتی ایک احساس ہے۔ وطن سے محبت کرنے والا ہر شخص وطن کی سلامتی کے لئے مثبت جذبات رکھتا ہے۔ قومی سلامتی کا ایک جزو ملک کا دفاع ہے جس کے اصل پاسبان اس ملک کے عسکری ادارے ہیں۔ سیاست کے سنجیدہ طالبعلم بعض اوقات اپنے عسکری اداروں سے اختلاف کر لیتے ہیں یا کسی معاملے پر سوال اٹھا لیتے ہیں جسے اخباری صفحات اور سوشل میڈیا پر اس تاثر کے ساتھ پھیلایا جاتا ہے جیسے انہیں فوج کے ادارے سے کوئی قائم بالذات اختلاف ہے۔ دیکھیے چار بار کے مارشل لاﺅں سے ایک بات تو سامنے ہے کہ وطن عزیز میں مختلف مواقع پر فوج اقتدار کی جنگ میں فریق رہی ہے۔ یہ وطن ہمارا سانجھا ہے اور یہ فوج ہماری اپنی ہے۔ فوج کے ادارے سے ہمیں کوئی اختلاف نہیں ہے اور نہ ہو سکتا ہے۔ یہ ہمارے ہی بھائی ہیں۔ ہمارے ہی بیٹے ہیں جو اس مٹی کی دفاع پر مامور ہیں۔ ہمارے ملک کا آئین فوج کے ادارے کو سیاست میں مداخلت کی اجازت نہیں دیتا۔ ہم فوج کے کسی مفروضہ سیاسی کردار کے مخالف ہیں۔ ہمارے ملک کے اجتماعی سیاسی شعور نے جمہوریت کو بطور نظام اپنے لئے پسند کیا ہے۔ اس لئے فوج جب اقتدار میں آتی ہے یا سیاست میں مداخلت کرتی ہے تو اس کے سیاسی کردار پر آئینی تناظر میں تنقید سب کا حق ہے۔ اس کا اظہار ہم پہلے بھی کرتے رہے ہیں۔ خدا نخواستہ کبھی پھر ایسا موقع آیا تو آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔ یہ کوئی جرم نہیں ہے۔ یہ کسی فوجی جوان کی قربانی یا کردار پر سوال اٹھانا نہیں ہے۔ یہ عوام کے حق حکمرانی کا سوال ہے۔ اسے بنیادی شہری آزادی کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ ہمیں اپنی فوج سے کوئی قائم بالذات اختلاف نہیں ہے۔ ہم اپنی فوج کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں۔ کسی آئینی سوال پر فوج سے اختلاف ممکن ہے۔ بدقسمتی سے کچھ احباب آئینی سوال سے ہٹ کر دیگر ہر معاملے پر جنرل امیر عبداللہ نیازی پر بھڑاس نکال کر اپنا دل پشوری کرتے ہیں۔ یہ رویہ درست نہیں۔ اجتماعی مکالمے میں زخموں پر نمک پاشی نہیں کی جاتی، باہم مکالمے سے مسائل کا حل تلاش کیا جاتا ہے۔

تازہ مثال معروف صحافی جناب وجاہت ایس خان کی ٹویٹ ہے جس میں وہ بتا رہے ہیں کہ اگر وزیر اعظم نواز شریف کو جے آئی ٹی چھری تلے لاتی ہے تو جی ایچ کیو متبادل لیڈر شپ کا فیصلہ کر چکی ہے۔ جناب وجاہت ایس خان کے بارے میں کیا بات کی جائے؟ کسی شخص کی ذات کے بارے میں کلام کرنا ویسے بھی کوئی شریفانہ کام نہیں۔ تاہم چونکہ ان کی حالیہ ٹویٹ نہ صرف ملک کے لئے بدنامی کا سبب ہے بلکہ بذات خود فوج پر کیچڑ اچھالنے کا ایک اوچھا ہتھکنڈا ہے اس لئے اظہار لازم ٹہرا۔ جناب وجاہت ایس خان کوجب ’ ڈان ‘سے ناگزیز وجوہات کی بنیاد پر فارغ کیا گیا تو انہیں اس وقت دیگر صحافیوں کے جلو میں آئی ایس پی آر کے آفیشل پروگراموں میں شرکت کا موقع ملا۔ یہاں سے ان صاحب نے خود کو فوج شناس اور نجی مجالس میں کم و بیش فوج کا نمائندہ ثابت کرنے کی کوشش کی۔ اور اب معاملہ یہاں تک آن پہنچا کہ جناب قوم کو بتا رہے ہیں کہ کیسے فوج نے متبادل لیڈر شپ جی ایچ کیو میں تیار کی ہے۔
مشکل یہ ہے کہ یہ معاملہ صرف وجاہت ایس خان کا نہیں ۔ اس نوع کے سینکڑوں صحافی اور ٹیلی افلاطون موجود ہیں جو گاہے گاہے عوام کو آگاہ کرتے رہتے ہیں کہ فوج کیا سوچ رہی ہے یا کیا کرنے والی ہے، حالانکہ ان کا فوج سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا۔ اور نہ ہی فوج سے یہ توقع کرنی چاہیے کہ وہ اتنی سادہ ہے کہ ملکی سیاست کے لئے جی ایچ کیو میں متبادل لیڈر شپ تیار کرے اور پھر اپنا منصوبہ ایسے ٹیلی افلاطونوں کے سامنے رکھے۔ پرویز مشرف کے بعد فوج کی سیاست میں براہ راست مداخلت کے شواہد نہیں ہیں۔ عمران خان کے دھرنے سے یہ تاثر ضرور پھیلا کہ اس کے پیچھے فوج ہے مگر فوج نے امید لگانے والوں کو مایوس کیا۔اس ملک کے ہر ادارے میں ایسے افراد ضرور پائے جاتے ہیں جو سیاست دانوں کو مجموعی طور بدعنوان سمجھتے ہیں۔ ان کی خواہش ہوتی ہے کہ کوئی مسیحا ظاہر ہو اور الہ دین کا چراغ لے کر سارے مسائل بیک جنبش ابرو حل کر دے۔ فوج میں بھی ایسے احباب کا پایا جانا ممکن ہے جو کسی مہم جوئی کے متمنی ہو سکتے ہیں۔ کچھ ایسے احباب نے دھرنے والوں کو شہ دی ہو گی مگر فوج پر اس کا مجموعی طور پر الزام لگانا درست نہیں۔
فوج کے پاس ذرائع ابلاغ کا اپنا ادارہ موجود ہے۔ فوج کو جو کچھ کہنا ہوتا ہے وہ اپنے ذرائع استعمال کرتی ہے۔ کسی بھی ریاستی ادارے کے نقطہ نظر سے اختلاف کا حق ہر شہری کو حاصل ہے۔ تاہم ہر معاملے میں فوج کے کردار کو عمومی طور پر منفی نظر سے دیکھنا درست نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مگر آئی ایس پی آر کا ایک آدھ چکر لگانے اور کسی ریٹائرڈ یا حاضر سروس جنرل کے ساتھ تصویر بنوانے سے کوئی شخص فوج کا نمائندہ تسلیم نہیں ہو سکتا۔ لگی لپٹی رکھے بغیر یہ بات اب عوام کے سامنے آنی چاہیے کہ ڈاکٹر دانش سے لے کر عامر لیاقت تک اور زید حامد سے لے کر وجاہت ایس خان تک کوئی بھی فوج کا نمائندہ نہیں۔ ان احباب کی ذاتی خواہشات اپنی جگہ مگر یہ نہ فوج کے نمائندے ہیں اور نہ ان کو فوج کی نمائندگی کا حق ہے۔ فوج کے سرکاری نمائندوں سے گزارش ہے کہ فوج کے ادارے کے وقار کے لئے خود کو فوج کا نمائندہ ظاہر کرنے والے عناصر کی سختی سے مذمت کریں۔ بات غالب سے شروع ہوئی تھی، غالب ہی پر ختم کرتے ہیں۔
پھر اسی بے وفا پہ مرتے ہیں
پھر وہی زندگی ہماری ہے
پھر کھلا ہے درِ عدالتِ ناز
گرم بازارِ فوج داری ہے
ہو رہا ہے جہان میں اندھیر
زلف کی پھر سرشتہ داری ہے
پھر دیا پارۂ جگر نے سوال
ایک فریاد و آہ و زاری ہے

