ہمارے خونی جشن

13 اگست کی رات کو جب جشن آزادی کا آغاز ہوتا ہے، 29 رمضان جب نورانی چہروں والے بزرگ عید کے چاند کے متلاشی ہوتے ہیں یا کبھی اس دن جب پاکستان کی کرکٹ ٹیم کسی بڑے میچ میں کوئی معجزہ کرتی ہے۔
مجھے پتہ ہوتا ہے کہ اب میرے ملک میں گھمسان کا رن پڑنے والا ہے۔ ایک گولی چلے گی، پھر ایک برسٹ چلے گا۔ پھر اگلے گھنٹے تک فضا گولیوں کی تڑتڑ سے گونجیں گی، پرندے درختوں سے جوق در جوق اڑیں گے شور مچائیں گے پھر درختوں میں دبک جائیں گے۔ شہروں میں پلے بڑھے جانور خوف سے تھرتھرائیں گے اور سوچیں گے کہ یا اللہ کس خوفناک دشمن نے ہمارے شہر پر حملہ کر دیا ہے۔
میں ایسے موقعوں پر پلنگ کے نیچے کپکپاتے کتے کو تسلی دیتا ہوں اور دل ہی دل میں گنتی کرتا ہوں کہ پستول اور کلاشنکوفوں سے منایا جانے والا یہ جشن کتنوں کا خون بہائے گا۔

میرا خیال تھا کہ ہوائی فائرنگ اس وقت کی جاتی ہے جب دشمن کو ڈرانا مقصود ہو۔ ہماری ہوائی فائرنگ سے صرف کوے اور کتے ڈرتے ہیں۔ میرا نہیں خیال کہ کوئی شیر بھی گولیوں کی بوچھاڑ کی آواز سن کر سوچتا ہوگا کہ لوگ کتنے بہادر ہیں۔ لگے رہو میرے شیرو۔
میرا خیال ہے کہ جشن کے اس عالم میں ہم اپنے آپ کو جنگجو سمجھنے لگتے ہیں۔ امراء کے گھر کے باہر ٹینٹوں میں رہتے گارڈ، وہ بچے جو کسی دوسرے بچے کو بچی کے پھڈے پر اڑانا چاہتے ہیں لیکن نہیں اڑا سکتے، ادھیڑ عمر مرد جن کو اپنی مردانگی کے اظہار کے موقعے کم کم ملتے ہیں، یہ سب لوگ کچھ دیر کے لیے اپنے آپ کو قبائلی سردار، یا پہاڑ پر ڈیوٹی دیتا جانباز سپاہی یا گھریلو حالات سے ستایا ہوا ریمبو سمجھنے لگتے ہیں۔
ہمارے محلے میں کریانے کا ایک دکاندار ہے۔ وہ اتنا مرنجاں و مرنج ہے کہ ادھار سودا دے کر پیسے مانگتا ہوا شرماتا ہے۔ ایک مرتبہ 29 رمضان کو اس کا زندگی سے بیزار گارڈ بھی ہوائی فائرنگ کرنے لگا۔ میں نے گھبرا کر کہا کہ یار آپ اس کو روکو۔ اس نے کہا چھوڑیں پورا سال فارغ بیٹھا رہتا ہے۔ سال میں دو دفعہ دل پشوری کر لیتا ہے، اس بہانے گن بھی ٹیسٹ ہوجاتی ہے۔

اب ہم جشن آزادی، چاند رات یا کرکٹ میچ معجزے کا انتظار نہیں کرتے بلکہ شادی کی مبارک باد بھی گولی چلا کر دیتے ہیں۔ ختنے پر بھی پستول کا منہ آسمان کی طرف کر دیتے ہیں۔ کبھی کبھی سیاسی جلسے جلوسوں میں بھی نعروں کے ساتھ ساتھ بندوق کی لبلبی دبا دیتے ہیں۔
کبھی کبھی سوچتا ہوں گولیوں کے اس گھمسان میں گھر سے نکلوں اور بندوق بازوں سے ہاتھ جوڑ کر کہوں یارو خوشی منانے کے اور بھی طریقے تھے وہ بھول گئے؟


