جو آپ کو سمجھ نہیں آتا، اس سے نفرت نہ کریں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کوئیر (queer) لفظ کی تعریف انتہائی مشکل کام ہے۔ کوئیر ایک کثیر جہتی لفظ ہے جس کا مطلب، مختلف افراد کے لیے مختلف ہو سکتا ہے۔

اس اصطلاح کو مخالف جنس سے رغبت رکھنے والے افراد، یا ہم جنس افراد یا دونوں جنسوں سے رغبت رکھنے والے افراد تمام پر لاگو کیا جا سکتا ہے۔

کوئیر ایک ایسے شخص کا بھی لقب ہوسکتا ہے جو معاشرے کے بنائے ہوئے جوڑی دار نظام (بائنری سسٹم) سے مطابقت نہ رکھتا ہو۔

کوئیر ابھی تک مشرق و مغرب دونوں معاشروں میں ایک ہتک آمیز لفظ سمجھا جاتا ہے۔

اسی وجہ سے بہت سارے کوئیر افراد اپنی اس پہچان کو ساری زندگی خفیہ رکھتے ہیں۔

انٹرنیٹ کے انقلاب اور معلومات تک عام اور آسان رسائی کے حاصل ہونے کے بعد، کافی کوئیر افراد اپنے گھٹن سے باہر نکل رہے ہیں۔

1973 میں امریکی ذہنی امراض کے ادارے نے ایسے تمام افراد کو جو اپنی پہچان جوڑی دار نظام سے  نہیں کرتے، ذہنی امراض کی لسٹ سے نکل دیا۔

اس کے بعد سے بہت سارے کوئیر افراد اپنی اس پہچان کو فخر سے اپنا رہے ہیں۔

یقیناً ایک ایسے معاشرے کے لیے، جو اپنی اخلاقیات مذہب اور سماجی رسوم سے اخذ کرتا ہے، اس کے لیے یہ حقیقت ہضم کرنا آسان نہیں۔

عام طور پر ان افراد کو شدید مخالفت اور نفرت بلکہ تشدد تک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

کافی دوستوں کے لیے، مسلم کوئیر ایک باہم متصادم اصطلاح ہے۔

ایک کوئیر فرد کے لیے، زندگی کا سفر انتہائی تکلیف دہ اور پر خطر ہوتا ہے۔

گھر اور معاشرہ دونوں ہی، ایک کوئیر فرد کو مذہبی اور معاشرتی وجوہات کی بنا پر قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔ ان کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ ان کی یہ شناخت اصل میں قدرت کی طرف سے ایک امتحان ہے۔ اور اگر وہ اپنی یہ شناخت نہیں چھوڑیں گے تو دراصل وہ ایک گناہ کے مرتکب ہوں گے۔

ہمارے معاشرے میں ایسے افراد اور خاص طور پر بچے اپنی زندگی انتہائی گھٹن میں گزارتے ہیں اور مختلف نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں جس میں ڈپریشن اور اضطرابی بیماری سر فہرست ہیں۔

انٹرنیٹ کی آمد کے بعد ان افراد کی زندگی میں بھی ایک انقلاب برپا ہوا ہے۔ اب انہیں ایسے کافی گروپس تک رسائی میسر ہے جہاں یہ اپنے مسائل پر گفتگو کر سکتے ہیں اور ایک دوسرے کی مدد اور مشورے لے سکتے ہیں۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ کوئیر افراد کے لیے معاشرے کے سامنے اپنی اصل شناخت کھول کر رکھنا آسان نہیں۔

یہ جانتے ہوئے بھی کہ ایسے افراد کو انتہائی شدید تنقید، نفرت اور تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، کوئیر اپنی زندگی پر اپنا حق اور اپنی سپیس کا بر حق جائز مطالبہ کر رہے ہیں۔

کوئیر افراد معاشرے کا ویسے ہی حصہ ہیں جیسے باقی تمام ہر طرح کا جنسی میلان رکھنے والے لوگ ہیں۔

ہم اپنی مرضی سے کسی پر اپنی پسند اور ناپسند نہیں تھونپ سکتے۔ وقت آگیا ہے کہ ہم اس بات کا ادرک کریں کہ جنسی رجحان پیدائشی ہوتا ہے نہ کہ اختیاری۔

کسی انسان کو یہ زبردستی باور کرانا کہ اس کا جنسی رجحان غلط ہے اور جو آپ اسے بتا رہے ہیں وہی درست ہے، ایک نامعقول عمل ہے۔ ہر انسان انپے رجحانات دوسروں سے بہتر سمجھتا ہے۔

ہر بار جب اپ کسی کوئیر سے نفرت کا اظہر کرتے ہیں، تو درحقیقت اپ اسے تکلیف پہنچا رہے ہوتے ہیں۔

کسی بھی انسان کی جنسی پہچان کو سمجھنے، قبول کرنے اور اسے اپنے جیسا انسان سمجھنے سے کوئی فرد خود کوئیر نہیں بن جاتا۔

جان لینن، مشہور موسیقار نے کہا تھا کہ، جو آپ کو سمجھ نہیں آتا، اس سے نفرت نہ کریں۔

(ڈاکٹر بلال فضل شیخ ایک پلاسٹک سرجن ہیں۔)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •