دہشت گردی ویسے نہیں ایسے ختم ہوگی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس وقت چار کے سوا ہر مسلم ملک میں یو ٹیوب کلی یا جزوی طور پر بحال ہے۔ ایران میں اس لیے بند ہے کیونکہ حزبِ اختلاف کو شیر کی نگاہ سے دیکھنے والی مذہبی اسٹیبلشمنٹ یو ٹیوب کو اخلاق بگاڑنے کی ایک اور سازش سمجھتی ہے۔ ترکمانستان میں زندگی چونکہ سربراہ ِ مملکت کے موڈ کے گرد گھومتی ہے لہذا جو انھیں ناپسند وہ سب کے لیے ناپسند۔ شام میں تو خانہ جنگی سے پہلے ہی اسد حکومت کی کسی بھی طرح سے مخالفت سرکاری کفر تھی۔ البتہ پاکستان واحد مسلمان ملک ہے جہاں یو ٹیوب سرکاری اعتبار سے مذہبی دل آزاری کا منبع سمجھی جاتی ہے۔ نہ مذہبی دل آزاری ختم ہوگی نہ یو ٹیوب بحال ہوگی۔ ویسے تو چین اور شمالی کوریا میں بھی یو ٹیوب حرام ہے مگر اس کا سبب یو ٹیوب کی دیگر حرام زدگیاں بتائی جاتی ہیں۔

یو ٹیوب پر پابندی سے پہلے بھی انٹرنیٹ تک رسائی کی آزادی کی عالمی فہرست میں پاکستان کا شمار آخری دس ممالک میں ہی ہوتا تھا۔ کیونکہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے جتنی ویب سائٹس کو فحش جان کے ممنوع قرار دے رکھا ہے، ان میں سے آدھی سے زائد سیاسی، نظریاتی، علاقائی اور قومیتی فحاشی پھیلا رہی ہیں۔ لہٰذا کالعدم ویب سائٹس میں سب سے زیادہ فحش بلوچ سائٹس مانی جاتی ہیں۔ ان کے بعد جہادی اور مذہبی شدت پسند سائٹس ہیں۔ جب کہ جنسی فحاشی پھیلانے والی سائٹس ان سب کے بعد آتی ہیں۔

لیکن وہ پابندی ہی کیا جس کا کوئی توڑ نہ ہو؟ جب سن نواسی نوے میں سی این این کی نشریات پاکستان میں دکھائی جانے لگیں تو مجھے یاد ہے کہ اکثر اشتہارات میں بکنی زدہ بلونڈ ماڈلز کی سترپوشی کے لیے ہمارے اخلاق سدھار محتسبین پوری اسکرین پر چھوٹے چھوٹے بلاکوں کا حجاب بنا دیتے تھے اور اشتہارگزرنے کے بعد وہ بلاک بھی ہٹ جاتے تھے۔ مگر اخلاق باختہ اکثریت نے اس الیکٹرونک حجاب میں شگاف ڈالنے کے لیے ململ کے ٹکڑے جیب میں رکھنے شروع کردیے۔ جیسے ہی اسکرین پر بلاک بننے شروع ہوتے ململ کا پردہ شکن ٹوٹا آنکھوں پر رکھ لیا جاتا اور اسکرین پر ’’توبہ شکن ٹوٹا’’ صاف صاف نظر آنے لگتا۔ پھر کچھ لوگوں نے ململ کوگیلا کر کے چہرے پر رکھنے کی جدت نکالی تاکہ آنکھیں ہر طرح سے ٹھنڈی ہوسکیں۔ مگر جب کیبل آزاد ہوا اور ہر دیسی بدیسی چینل پر ململ زدہ پروگرام آنے لگے تو محتسبوں نے لعنت بھیجی اور اسکرین پر حجابی بلاک بنانے ہی بند کردیے۔

بات ہو رہی تھی کیا اور نکل گئی کہاں؟ مختصر یہ کہ نائن الیون کے بعد پاکستان میں دہشت گردی، موبائل فون اور انٹرنیٹ کا پھیلاؤ ایک ساتھ ہوا۔ ہائی ٹیک دہشت گردوں نے نئی ٹیکنولوجیز سے حیرت انگیز فائدہ لینا شروع کیا۔ ہونا تو یہ چاہئیے تھا کہ انسدادِ دہشت گردی بھی جدید ٹیکنولوجی کے ذریعے ہی ہوتی۔ لیکن حکومتیں چونکہ ہاتھی ہوتی ہیں اور ہاتھی چونکہ سست ہوتا ہے اور ہاتھی کی آنکھیں بھی جسامت کے اعتبار سے چھوٹی ہوتی ہیں اور یہ آنکھیں بھی دائیں بائیں کے بجائے سیدھا دیکھ سکتی ہیں۔ لہٰذا ماڈرن دہشت گردی کی لہر کو ڈنڈے سوٹے والے پرانے طریقوں سے روکنے کی کوششیں جاری رہیں۔ اور انھی میں کہہ سن کے تھوڑی بہت فارمولا جدتیں پیدا کرلی گئی۔

مثلاً جلوس کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کی کیا ضرورت ہے۔ ویگنیں اور ٹرک چھین کر شاہراہ پر ترچھے کھڑے کردو۔ مسافر جائیں جہنم میں اور وہ بھی پیدل پیدل۔ یا پھر کنٹینر سے کنٹینر جوڑ کر ٹریفک کی سانس ہی بند کردو۔ اگر ٹارگٹ کلرز موٹر سائیکلوں پر آتے ہیں تو موٹر سائیکل سوار رینجرز اور پولیس ان کا تعاقب کیوں کریں۔ انھیں اور بھی تو بہت سے اہم کام ہیں۔ چنانچہ موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر ہی پابندی لگا دو۔

دہشت گرد اگر موبائل فون کے سگنلز سے بم پھاڑتے ہیں تو مہنگے مہنگے جامرز خریدنے کی کیا ضرورت ہے، موبائل سروس ہی بند کردو۔ موبائل سم کے سگنلز کے سائے سائے دہشت گردوں کے ٹھکانے پر پہنچ کر ان کی گردن ناپنے کا کشٹ کون کرے۔ رئیل ٹائم انٹیلی جینس شیرنگ کا نظام کیوں وضع کیا جائے۔ اس سے تو کہیں سستا اور ٹکاؤ نسخہ یہ ہے کہ لاکھوں سمیں ہی بلاک کردو۔ اور پھر ایک سال بعد اتنی ہی نئی سمیں بلاک کردو اور پھر چھ ماہ بعد اتنی ہی اور۔ ڈیرہ اسماعیل خان شہر میں موبائل سروس تقریباً دو برس بند رہی۔ پھر بھی اللہ جانے وہاں ان دو برسوں میں بیسیوں فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگز اور خود کش حملے کیوں ہوتے رہے۔

یہ وہی ڈیرہ اسماعیل خان ہے جہاں دو ماہ پہلے سیکڑوں قیدیوں کو واکی ٹاکی والے سرفروش چھڑوا کے لے گئے۔ وہ موٹر سائیکلوں پر نہیں ڈاٹسن پک اپس پر آئے تھے۔ ان کے ہاتھوں میں موبائل سمیں نہیں کلاشنکوفیں تھیں۔ ان کے پاس اسکائپس سے لیس لیپ ٹاپ نہیں بلکہ تالا توڑ ہتھوڑے تھے۔ اور جن تنخواہ دار رکھوالوں کے پاس جدید کمیونی کیشن سسٹم تھا وہ کہیں آس پاس ہی در و دیوار کے پیچھے سے ایک دوسرے کو ہلکی آواز میں خبردار کررہے تھے کہ ہیلو ہیلو: مہمانوں کو اپنا کام کرکے جانے دو۔ پاگل لوگ ہیں، ان کے متھے لگنا ٹھیک نہیں۔ راجر۔

اور اب یہ انٹرنیٹ؟ یہی تو دہشت گردوں کا اصل ہتھیار ہے۔ اسی لیے تو پیپلز پارٹی کی روشن خیال عوام دوست سندھ حکومت نے وفاق کو عرضی دی ہے کہ کم ازکم ہمارے صوبے میں تین ماہ کے لیے سکائپ، وٹس ایپ، ٹینگو اور وائبر کی صوتی و بصری و حرفی میسیجنگ سروسز تجرباتی طور پر بلاک کردی جائیں۔ تاکہ دہشت گرد ایک دوسرے سے تیزی کے ساتھ مواصلاتی طور پر نہ جڑ پائیں۔
جب ویت کانگ گوریلے امریکیوں کے قابو میں نہیں آرہے تھے تو انھیں یہ ترکیب سوجھی کہ کیوں نہ سویلین ویتنامی آبادی کو دیہات سے نکال کر کیمپوں میں رکھ دیا جائے تاکہ گوریلے ان کے درمیان پناہ نہ لے سکیں۔ لاکھوں شہریوں کو جبراً گھروں سے بے دخل کرکے خاردار باڑھوں کے پیچھے ڈال دیا گیا۔ لیکن آخر میں ہوا کیا؟ یہ ہم سب جانتے ہیں۔ اور جو نہیں جانتے انھیں وہ بتادیں جو جانتے ہیں۔

شاید موبائل یا انٹرنیٹ سروسز بند کرنے سے اب کام نہیں چلے گا۔ اب ان دہشت گردوں کا مکمل ناطقہ بند کرنا پڑے گا۔

تو کیوں نہ انٹر نیٹ اور موبائل فون بیچنا خریدنا ہی جرم قرار دے دیا جائے۔ آخر انسان نے سات ہزار سال تک ان دونوں چیزوں کے بغیر ہی اچھا خاصا گذارہ کیا ہے۔ لیکن پھر ہوسکتا ہے کہ دہشت گرد پیغام رسانی کے لیے کبوتروں کا سہارا لے لیں۔ چنانچہ کبوتروں کی نس بندی پر بھی ساتھ ساتھ غور کرنے کے لیے ایک ہنگامی ٹاسک فورس ازبس ضروری ہے۔ چونکہ دہشت گردوں کو اپنے مشن کے دوران سفر و قیام میں بھوک بھی ستاتی ہے اور وہ چنے، کھجوریں اور پانی ساتھ لے کے چلتے ہیں لہذا ان تینوں آئٹموں کو بھی مارکیٹ سے اٹھا لیا جائے تاکہ دہشت گرد راستے میں ہی بھوکے پیاسے مرجائیں۔

چونکہ ایک خود کش بم بنانے میں بارود کے علاوہ یوریا، بال بیرنگز، سوئچز وغیرہ استعمال ہوتے ہیں۔ لہذا مصنوعی کھاد، بال بیرنگز اور سوئچز وغیرہ کو بھی ممنوعہ فہرست میں شامل کرکے لائسنس پر چڑھا دیا جائے۔

چونکہ زیادہ تر کار اور ٹرک بم پھٹ رہے ہیں۔ اس لیے ان کی جگہ عارضی طور پر بار برداری کے لیے اونٹوں، گھوڑوں، خچروں، گدھوں، ٹھیلوں اور ہتھ گاڑیوں کا استعمال زیادہ مناسب رہے گا۔ (وی آئی پی حضرات اپنی نقل و حرکت کے لیے بلٹ پروف ڈولیاں، پینس اور احتیاط سے چنے گئے کہار وں کے کندھے استعمال کرسکتے ہیں)۔

چونکہ بسیں اور ویگنیں روک کر بھی مسافروں کو قتل کرنے کا چلن عام ہوتا جارہا ہے۔ لہذا ایک تو ان گاڑیوں کی شیشے کی کھڑکیاں ختم کرکے لوہے کی چادریں ٹھونک دی جائیں اور چھت اور ونڈ اسکرین کی جگہ پر دو یا تین سوراخ کردیے جائیں تاکہ دم بخود مسافروں کا دم بھی نہ گھٹے اور ڈرائیور باہر بھی دیکھ سکے۔ جب سب مسافر کڑی پڑتال کے بعد بس اور ویگن میں سوار ہوجائیں تو دروازے سربمہر کردیے جائیں اور صرف منزل پر پہنچنے کے بعد مجاز افسر ہی انھیں کھولے۔ بسوں اور ویگنوں کو درمیان میں کہیں بھی رکنے کی اجازت نہ ہو۔

چونکہ دہشت گرد اب سڑک کے درمیان یا کنارے پر آئی ای ڈیز بھی دفن کردیتے ہیں جن پر ہلکا سا وزن پڑتے ہی وہ پھٹ جاتے ہیں۔ لہٰذا ہائی ویز پر ٹریفک کو قافلوں کی شکل میں رواں رکھا جائے اور ہر قافلے کے آگے سیکڑوں بھیڑ بکریاں چلتی رہیں تاکہ اگر آئی ای ڈی پھٹے بھی تو انسانی جانیں محفوظ رہیں۔

چونکہ دہشت گردی جاری رکھنے کے لیے بھاری رقم بھی درکار ہوتی ہے اور اس کے لیے اکثر گروہوں کو بھتے اور ڈاکے کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ اس لیے بینک ختم کرنے سے کم ازکم ڈاکے کم ہوجائیں گے۔ جب لوگ تکیوں میں پیسے چھپا کر رکھتے تھے تب کس نے دہشت گردی کا نام سنا تھا بھلا؟ اور بھی اچھا ہو اگر کرنسی منسوخ کرکے بارٹر سسٹم کو رواج دے دیا جائے۔ اس سے دہشت گردی میں استعمال ہونے والے پیسے کا ٹنٹا ہی ختم ہوجائے گا۔

اور ہاں! دہشت گرد عام شہریوں کی طرح سانس بھی لیتے ہیں۔ کسی طرح اگر ہوا میں سے آکیسجن بھی ایک آدھ سال کے لیے نکال لی جائے تو سارا مسئلہ ہی ہوا ہو جائے۔ وہ تو خیر ہو لوڈ شیڈنگ کی۔ سوچئے اگر چوبیس گھنٹے بجلی ہوتی تو دہشت گرد رات کو بھی کتنی تباہی پھیلاتے۔

ہمارے دماغی بستے میں اور بھی اینٹی ٹیرر ازم فارمولے ہیں۔ مگر اس لیے سب کے سب نہیں بتا رہے کہ چالاک دہشت گرد کہیں ان کا بھی کوئی توڑ نہ نکال لیں۔ آخر کچھ دماغ تو حکومت کو بھی لڑانا چاہئیے۔ اچھا نہیں لگتا کہ ہر بار تجاویز بھی ہم ہی دیں اور ووٹ بھی۔

پیر 7 اکتوبر 2013

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •