شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ کی سیاسی جدوجہد

میں ابھی تک حیران ہوں کہ بھارت اور پاکستان کے ادارے کشمیری نیشنلزم کے معمار شیخ محمد عبداللہ کے نام اور کام کو مٹانے کے مشن پر آج تک بھی لگے ہوئے ہیں۔ کشمیر میں کئی ریاستی اور بیرون ریاستی خضر صورت کرداروں کو رسیلی انداز کی نے نوازی اوربین بجانے کی تربیت دی گئی ہے۔ کنٹرول لائین کے آر پار دونوں اطراف سے کشمیری نیشنلزم اور سیاسی بیداری کی تاریخ کی بے حرمتی کرنے کا 1989ء سے بہت پہلے شروع کیا گیا کام ابھی بھی جاری ہے۔ شیخ صاحب کی قائم کردہ تنظیم، نیشنل کانفرنس پر بہت بڑا احسان ہوتا اگر پارٹی کی سیاسی جدوجہد اور قوت مدافعت کی تاریخ سے جانکاری حاصل کی جاتی۔ ایڈہاک سیاست کے طریقہ کاراپنانے سے پارٹی کو ہوئے زبردست نقصان کی تلافی نہیں کی جا سکتی ہے۔ کبھی یہ جماعت سیاسی مخالفین کیلئے لوہے کے چنے چبانے کے برابر تھی۔ اس کی بنیاد آرام کدہ کے طور پر مراعات سے لطف اندوز ہونے کیلئے نہیں رکھی گئی تھی۔

ٹایمز آف لندن کے خصوصی نامہ نگار نے 22 اپریل کے شمارے میں لکھا تھا۔ ” شیخ عبداللہ کی قید سے رہائی کے بعد وادی کشمیر میں پہلی دفعہ پہنچنے پر کوئی بھی یہ تاثر قائم کئے بنا نہیں رہ سکتا کہ کشمیری عوام کیلئے اب بھی وہی قابل اعتماد قیادت ہیں۔ پولیس اُن کی اور ان کے ساتھیوں کی کڑی نگرانی کر رہی ہے۔ شیخ کی وہاں موجودگی ہی مقامی سرکار کا آرام حرام بنائے ہوئی ہے۔ سرکار اُس مرتبے کی شخصیت کو تمام وقت کیلئے قیدی نہیں بنا سکتی ہے کیونکہ وہ عوام کیلئے جاذب نظر اور اُن کے محبوب لیڈر ہیں۔ حکومت کو بھی اس طرح کے حالات میں اپنا وجود منوانے میں زبردست مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے“۔

”ہندوستانی مسلمان“ شیخ محمد عبداللہ کی بد نصیبی کا کیا کہنا کہ اُن کو اپنے عوام کے پیدائشی حقوق کیلئے آواز بلند کرنے کے جرم میں ہندوستان کے اُن ہی حکمرانوں کے احکامات پر قید ہونا پڑا تھا، جو اپنی آزادی کی لڑائی لڑنے کے دوران دنیا بھر سے ہمدردی اور تعریف حاصل کر چکے تھے (ایڈوارڈ آر مورو کا تبصرہ مورخہ یکم مئی 1958ء)۔ شیخ صاحب کی دوبارہ قیدوبند سے خود اُن کیلئے اور اُن کی اہلیہ بیگم عبداللہ کیلئے دنیا بھر کے اُن حصوں میں سیاسی ہمدردی حاصل ہوئی، جہاں سے 1947ء کی ہندوستان کی آزادی کی عظیم جدوجہد کے دوران صدائے باز گشت آئی تھی۔ ایک امریکی تبصرہ نگار نے فخریہ طور کہا تھا۔ ” یہ حالات کی ستم ظریفی ہے کہ شیر کشمیر کو طویل تر وقت تک جنگ آزادی لڑنے کے بعد اب آزادی پسند ملک میں دوبارہ قیدی بنایا گیا ہے۔ یہ شیر تھیرو کی روح ہے، جس کا کہنا تھا۔ ” میں ظلم سہنے کیلئے پیدا نہیں ہوا تھا“۔ نارمن کاروین نے کبھی لکھا تھا۔ ” آزادی کو بھلانے کیلئے حاصل نہیں کیا جاتا ہے۔ زمین سے فصل حاصل کرنے کے مطابق آزادی کے فلسفے کو بار بارنکھارنے کی ضرورت ہوتی ہے“۔ ( مورُو، سی بی ایس ریڈیو نیٹ ورک سے یکم مئی 1958ءکو براڈکاسٹ)۔
کشمیر ہندوستان کے آئین کی تمہید کی صداقت پر شکوک کا سائیہ ڈالے ہوئے ہے۔ دی شکاگو ڈیلی ٹریبون نے شیخ محمد عبداللہ کی گرفتاری پر دیگر بین الاقوامی تبصرہ کاروں اور سیاسی تجزیہ نگاروں کی طرح ہی زبردست تنقید کی تھی۔ ”شیخ محمد عبداللہ کی گرفتاری کو نہرو سرکار کے امتناعی نظربندی ایکٹ کے تحت عمل میں لایا گیا ہے۔ حکام اس ایکٹ کو بروئے کار لانے کے نتیجے میں کسی بھی مشکوک شخص کووجہ بتائے بغیر دس سال تک قید میں رکھ سکتے ہیں۔ عبداللہ کشمیریوں کیلئے رائے شماری سے بھی زیادہ زوردار مطالبہ نہ کرکے اپنے آپ کو عوام کی نظروں میں غیر مقبول بنتا جا رہا ہے۔ برٹش سرکار کے دوران عبداللہ کی گرفتاری کا ریکارڈ جواہر لال نہرو کی گرفتاریوں سے کچھ کم نہیں ہے۔ عبداللہ نے نہرو کے نام اپنے ایک خط میں لکھا ہے کہ وزیر اعظم نے وادی کشمیر کو ایک سیاسی قبرستان میں تبدیل کرلیا ہے اور قیدیوں کے ساتھ نازی مشقت کیمپوں جیسا برتاﺅ کیا جا رہا ہے۔ وہ خود حیران ہے،آیا کہ انگریزوں کے چلے جانے کے بعد نہرو کی حکومت میں ہندوستان واقعی طور آزادی نام کی مالا جپ رہا ہے۔ تبدیلی دکھاوے جیسی لگتی ہے ۔ برطانوی راج کے جانشینوں نے آزادی کے طالب عبداللہ کو شہادت کے قریب کھڑا کردیا ہے(5 مئی 1958ء)َ“۔

بھارت سرکار نے اُن پر پہلے 1953ء میں اور پھر 1958ء میں وعدہ خلافی کا جو الزام لگایا تھا، شیخ صاحب نے اُس الزام کی پُرزور تردید کی۔ ” میں اپنی پوری قوت سے اس الزام کو رد کرتا ہوں اور اعلان کرتا ہوں کہ وعدہ شکنی کا فعل کہیں اور سے کیا گیا ہے۔ عہدوپیمان یکطرفہ نہیں ہوا کرتا ہے۔ مجھ پر عہد توڑنے کا جو الزام لگایا گیا ہے، میرا یہ جاننے کا حق بنتا ہے کہ قبائلی حملہ شروع ہوجانے کے دن سے 1953ء میں میری گرفتاری کے دن تک جموں کشمیر ریاست کو ہندوستانی حکومت کی طرف سے دی گئی یقین دہانیوں اور وعدوں کو نہ عملانے کی ذمہ داری کس کے سر ہے ( عبداللہ، بریچ آف پلج ، 13۔ 23)۔ وہ کشمیر مسلے تنازعے کا حل تلاش کرنے کی کوششوں سے دست بردار نہیں ہوگئے۔ یہ حل کشمیر کی جدوجہد آزادی اور ہندوستانی عوام کی انڈپنڈنس موومنٹ کے عین مطابق ہونا چاہے۔ (عبداللہ، دی کشمیر ویوپوئنٹ۔ 14)۔

