معاملہ روز مرہ کے شہری شعور کا ہے


احمد پور شرقیہ کے سانحے سے متعلق کچھ نے وزیراعظم اور وزیراعلٰی کو ہدف تنقید بنایا تو کسی نے ہسپتالوں میں "برن یونٹ” نہ ہونے کا گلہ کیا۔ کسی نے ہجوم کی حماقت یہ بات نہیں کی۔

 میں اس علاقے کے نزدیک کا رہنے والا ہوں۔ یہاں لوگ بدحال نہیں ہیں۔ اس علاقے میں موٹر سائیکلیں سب سے زیادہ ہیں۔ پٹرول کی ضرورت اسی کو ہوگی جس کے پاس اسے استعمال کرنے والی مشین ہوگی۔ اگر کوئی چالیس سے اسی ہزار روپے کا موٹر سائیکل رکھ سکتا ہے تو وہ روزانہ سو دو سو کا پٹرول بھی ڈلواتا ہی ہوگا۔ مفت کے چکر میں ڈرمی لے کر بھاگنا چہ معنی؟

 سوشلسٹ سماج کا جواب دیکھنے والے ان معدودے چند لوگوں نے جو خود کو نہ صرف غریبوں کا نجات دہندہ خیال کرتے ہیں بلکہ ان کی نگاہ میں حقیقت سے قریب تر بات کرنے والا کوئی بھی شخص کھاتے پیتے مڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھنے والا اور ان کی نظر میں گھٹیا دانشور بھی ہوتا ہے، لوگوں کی لالچی طبیعت سے صرف نظر کرتے ہوئے یہی دلیل دی کہ لوگ غربت کی وجہ سے مٹی ملا پٹرول بیچ سکیں گے، ایک ایسے ہی سانحے سے پہلے کی وڈیو نہیں دیکھی جس میں تیل اکٹھا کرنے والوں کی اکثریت خوش لباس ہے اور وہ موٹر سائیکلوں، ٹریکٹر اور تاحتی کار پر سوار پہنچتے ہیں۔ ایسی دیہات کی مڈل کلاس کی موجودگی میں غریب کی کیا محال کہ پٹرول اکٹھا کر سکے۔

تحفظ اور احتیاط سے متعلق ہمارے لوگوں کا رویہ تو ہر تیسرے سی این جی پمپ پر دکھائی دے جاتا ہے جہاں گیس بھرنے والا سلگتا سگریٹ بھی منہ میں دبائے کھڑا ہوتا ہے۔ جہاں ٹینکر الٹ کر تیل بہا وہاں لوگ یوں جمع ہو جاتے ہیں جیسے مفت سرکس لگا ہو یہی وجہ ہے کہ سرکس کا تماشہ مہلک موت کے کنویں میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

افریقہ میں غربت کے مارے لوگوں کی سمجھ آتی ہے جہاں ایسے حادثات عام ہیں۔ مگر کسی نے مجھے بتایا کہ ایسے واقعات پاکستان میں پہلے بھی ہو چکے ہیں۔ وزیراعظم اور وزیر اعلٰی نے نہ ٹینکر الٹایا اور نہ لوگوں کو پٹرول لینے کے لیے بھگایا۔ رہی برن یونٹس کی بات تو بھائی پاکستان میں انفراسٹرکچر نہ کبھی تھا اور نہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے یونٹ تو متمدن ملکوں میں بھی چیدہ چیدہ مقامات پر ہوتے ہیں۔

خود کو الزام دینا سیکھیں۔ جب تک لوگ اپنی اصلاح نہیں کریں گے۔ درست لوگوں کو نہیں چنیں گے۔ جہل دور نہیں ہوگا، کچھ بھی کیسے بدلے گا۔

 انڈیا میں تو ستر برس سے جمہوریت ہے لیکن جاہل عوام نے مودی کو چن لیا۔ گئو ہتھیا پر جان سے مارنے والوں اور مشال خان کو جان سے مارنے والوں میں کوئی فرق ہے تو بتاؤ۔ جہل سب سے بڑا نقص ہے جہل۔

 ٹینکر کیا دوسرے ملکوں میں نہیں الٹتے لیکن یہ سانحے نائجیریا اور پاک و ہند میں ہی کیوں ہوتے ہیں۔ سوچو، کچھ سوچو، نعرے بازی علاج نہیں۔ کرپشن ختم کر دو، کیسے کر دو؟ برن یونٹ بنا دو، کیسے بنا دو؟ وسائل اور ضرورت میں کوئی توازن نکالنا ہو گا۔

اتنے لوگوں کی موت کے بعد نزدیک کے قصبوں کے بے حس لوگ عید کی خوشیاں منا رہے ہوں گے۔ ایسے سانحے کے بعد مذہبی زعماء کو چاہیے تھا کہ وہ لوگوں کو تلقین کرتے کہ عید کو نماز عید پڑھنے تک محدود کر دیں ۔ حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ کوئٹہ، پاراچنار اور احمد پور شرقیہ میں ہوئی اموات کے سرکاری سوگ کا اعلان کرتے۔ مگر جب عام لوگ اس واقعے پر سیاست کر رہے ہیں، حکومت مخالف سیاست، مڈل کلاس مخالف سیاست، سیاستدان مخالف سیاست تو حزب اقتدار اور حزب اختلاف بھی سیاست سیاست کھیلے گی۔ مزید سینکڑوں مر جائیں ، ہزاروں مر جائیں کیا فرق پڑتا ہے۔

Facebook Comments HS