امراض قلب، وجوہات اور احتیاطی تدابیر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امراض قلب سے اموات کی تعداد روز بروز بڑھتی جارہی ہے اس میں ہمارے رہن سہن او رکھانے پینے کا بہت دخل ہے۔ ملتان کے ڈاکٹر عبدالرشید سیال نے کافی تحقیق کے بعد یہ ثابت کیا ہے کہ مصنوعی کپڑے پہننے سے بھی حرکت قلب پر بہت بُرا اثر پڑتا ہے۔ آجکل خبروں میں پڑھتے ہیں اور دوستوں، عزیزوں اور شناسائوں کے بارے میں سنتے ہیں کہ ورزش کرنے والے، اسپورٹس میں حصّہ لینے والے پہلے کسی بھی بیماری سے مُبرّا اشخاص حرکت قلب بند ہونے سے رحلت کر جاتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ میں میڈیکل ڈاکٹر نہیں ہوں مگر موضوع کی بے حد اہمیت کی وجہ سے دو ماہرین کی آرا آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔ مگر اس سے قبل ہارٹ اٹیک کے بارے میں ۔

(1)’’ہارٹ اٹیک (میڈیکل زبان میں Myocardial Infarction ) اس وقت ہوتا ہے جب چربی شریانوں میں جم جاتی ہے(شحمی مادّوں کے جم جانے کے باعث شریانوں میں رکاوٹ (Atherosclerotic deposits) یا خون کا چھوٹا سا لوتھڑا (Blood clot) اچانک ایک یا کئی شریانیں بند کردیتا ہے جس سے خون کی روانی بند ہوجاتی ہے اور آکسیجن کی دستیابی ختم ہوجاتی ہے۔ آکسیجن کی رکاوٹ کی وجہ سے متاثرہ حصّہِ قلب کام چھوڑ دیتا ہے یا مرجاتا ہے۔ ہارٹ اٹیک کی علامت سینے میں نہایت شدّت کا درد ہے جو جاری رہتا ہے لیکن یہ علامت عورتوں پر ہارٹ اٹیک میں اکثر پیش نہیں آتی۔ مردوں میں درد کمر کے اوپری حصّہ میں، گردن میں، جبڑے میں اور بازوئوں میں پھیل جاتا ہے، چکّر آنے لگتے ہیں اور بہت پسینہ آنے لگتا ہے۔ اگر یہ حملہ دل کے بڑے حصّہ پر ہوتا ہے یا حساس مقام پر ہوتا ہے تو مریض کی موت واقع ہوسکتی ہے۔ لاکھوں افراد اس سے ہر سال فوت ہوجاتے ہیں۔ اس ہارٹ اٹیک کی وجہ عموماً موٹاپا، کولیسٹرول کی زیادتی، ہائی پرٹینشن اور ذیابطیس ہیں۔

10 سے 20 فیصدتک افراد میں (خاص طور پر خواتین میں) ہارٹ اٹیک بالکل خاموش یعنی بغیر احساس ہوئے ہوجاتا ہے بس اچانک انسان قے کرتا ہے اور بغیر وجہ کے،ان لوگوں کو یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ اس مہلک حملے کا شکار ہیں، یہ بات بعد میں ڈاکٹر CT Angiography, ECG وغیرہ ٹیسٹ کے ذریعے معلوم کرتے ہیں۔ پچھلے دنوں ملک کے مایہ ناز ماہر امراض قلب جنرل اظہر محمود کیانی نے NUST یونیورسٹی میں ایک لیکچر بعنوان ’ہارٹ اٹیک کو روکنا‘‘ دیا۔ انھوں نے حاضرین کو ایک نہایت کارآمد کٹ (KIT) کے بارے میں بتلایا اور کہا کہ اگر انسان کے پاس یہ کِٹ ہو تو وہ اچانک ہارٹ ٹیک سے مرنے سے بچ سکتا ہے۔ اس کٹ (چھوٹا سا بکس یا تھیلی) میں مندرجہ ذیل اشیاء رکھ لیں:۔ (1) ڈسپرین گولیاں(Disprin) 4 عدد ، (2) انجیسڈ گولیاں (Angisid) 4 عدد، (3) ڈیپونِٹ این ٹی پانچ اسکین پیچ (Deponit NT5 Skin Patch) ۔ جنرل صاحب نے بتلایا کہ اگر کسی فرد کو اچانک سینے میں درد اور دَم گھٹنے کا احساس ہو اور گردن کے دونوں جانب اور بائیں ہاتھ میں بھی درد ہونے لگے، پسینہ آنے لگے اور گھبراہٹ و بے چینی ہونے لگے تو فوراً ایک ڈسپرین کی گولی منہ میں رکھ کر چبا لیں، این جی سِڈکی ایک گولی فوراً زبان کے نیچے رکھ لیں اور اسکن پیچ فوراً کَوَر اُتار کر سینہ پر بائیں جانب چپکا دیں۔ ان اشیاء کی قیمت بمشکل 50 یا 55 روپیہ ہوگی مگر یہ آپ کی جان بچا سکتی ہیں جبکہ کوئی ایکسپرٹ بھی وہاں موجود نہ ہو۔ جنرل صاحب نے مشورہ دیا کہ ہر 40 سال سے زیادہ عمر والے فرد کو یہ کٹ ہمیشہ اپنے پاس رکھنا چاہئے اور انھوں نے حاضرین کو ہدایت کی کہ وہ یہ معلومات فوراً اپنے تمام دوستوں، شناسائوں، عزیزوں کو دیں کیونکہ یہ چھوٹا سا کٹ ہارٹ اٹیک کی صورت میں ان کی جان بچا سکتا ہے۔ایک اور ماہر امراض قلب نے مشورہ دیا ہے کہ جب بھی ہارٹ اٹیک کی علامات ظاہر ہونے لگیں تو متاثرہ فرد کو چاہئے کہ زور زور سے خوب کھانستا رہے جب تک کہ آرام نہ آجائے یا طبّی امداد نہ پہنچ جائے۔ اس سے مریض کو وقتی آرام مل جائے گی۔

(2)ایک اور مغربی ماہر امراض قلب نے بتلایا کہ اگر آپ گندم کو اپنی روزمرہ کی خوراک سے نکال دیں یا کم کردیں تو صحت پر بہت اچھا اثر پڑے گا۔ ماہر امراض قلب ڈاکٹر ولیم ڈیوس، ایم ڈی، نے اپناپیشہ ورانہ کام زخمی متاثرہ دلوں کی مرمت بائی پاس سرجری اور انجیو پلاسٹی کے ذریعہ شروع کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے یہی کام سکھایا گیا تھا اور میں خود بھی یہی کرنا چاہتا تھا لیکن جب ان کی اپنی والدہ 1995 میں حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے فوت ہوگئیں حالانکہ ان کو اعلیٰ علاج کی سہولت حاصل تھی تو ان کو اپنے پیشے کے بارے میں تحفظات ہونے لگے۔ میں ایک مریض کا دل مرمت کرتا تھا اور کچھ عرصے بعد وہ پھر اسی برابلم کو لے کر میرے پاس آجاتا تھا۔ یہ صرف پلاسٹر لگانے کی طرح کام تھا اور مجھے کبھی بھی اس بیماری کی وجہ معلوم کرنے کاخیال نہیں آیا۔ اب میں نے بالکل مختلف طریقہ علاج کا رخ کیا کہ بیماری کو نہیں بیماری کی وجہ کا تدارک کروں۔

میں نے اگلے پندرہ سال اس طریقہ علاج پر صرف کئے اور اس کے نتیجے میں میں نے ’’گندم کی توند‘‘ (Wheat Belly) نامی کتاب لکھی کیونکہ گندم ہماری بہت سی بیماریوں کا سبب ہے جس میں امراض قلب بھی ہیں اور موٹاپا اور ذیابیطس بھی اس کا سبب ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ڈبل روٹی کے دو ٹکڑے ایک چاکلیٹ بار سے زیادہ شوگر پیدا کرتے ہیں۔ جب میرے زیر علاج مریض گندم کھانا بند یا کم کردیتے ہیں تو ان کے وزن میں خاصی کمی ہوجاتی ہے اور وہ بھی خاص کر پیٹ پر سے۔ لوگ پہلے مہینے میں پیٹ پر سے کئی انچ وزن کھو دیتے ہیں کیونکہ میرے مریضوں میں تقریباً 80 فیصد یا تو ذیابیطس کے مریض تھے یا اس مرض کے شکار ہونے کے قریب ہونے والے تھے اور مجھے علم تھا کہ گندم ان کی شوگر بڑھانے والا مجرم ہے۔ میں نے ان کو نصیحت کی کہ وہ گندم کھانا بند کردیں۔ میں اس کا اثر ان کے شوگر کی مقدار پر دیکھنا چاہتا تھا۔ وہ 3 یا 6 ماہ بعد آئے تو ان کی شوگر مقدار خاصی کم تھی لیکن اس کے علاوہ بھی اور مفید اثرات نکلے مثلاً گند م میں Amylopectin نامی اجزا ہوتے ہیں جوکہ خون میں چھوٹے چھوٹے LDL ذرّات پیدا کرتے ہیں جو ہارٹ اٹیک کی خاص وجہ ہے۔ جب گندم کھانا بند کردیا جاتا ہے تو یہ مقدار 80 سے 90 فیصد کم ہوگئی۔ گندم میں ایک پروٹین Gliadin نامی ہوتی ہے جو بھوک کو بڑھاتی ہے۔ جب انسان گندم کھاتا ہے تو انسان کی خوراک میں تقریباً 400 کیلوریز یومیہ بڑھ جاتی ہیں۔ یہ پروٹین آپ کی عادت بن جاتی ہیں اور یہ حقیقت خوراک کے ماہرین کو 20 سال سے معلوم ہے۔ میں مریضوں کو ہدایت کرتا ہوں کہ پھل کھائیں، سبزیاں کھائیں، خشک میوہ کھائیں، بغیر پروسیس کیا پنیر کھائیں، انڈے اور گوشت کھائیں۔ بات یہ ہے ، 70 اور 80 میں گندم کو دوائیں اور کیمیکل دے دے کر تبدیل کردیا گیا ہے۔ جو گندم آپ آج کھاتے ہیں وہ یہ گندم نہیں ہے جو ہم 100 سال پہلے کھاتے تھے۔ اگر آپ روٹی، پستہ، چپاتی وغیرہ کھانا چھوڑ دیں اور اس کی بجائے چاول، مرغی اور سبزیاں کھائیں تو بھی آپ کا وزن کم ہوگا کیونکہ چاول سے خون میں شوگر کا اِتنا اضافہ نہیں ہوتا جتنا گندم سے ہوتا ہے اور اس میں Amylopectine A یا Gliadin نہیں ہوتیں جو کہ بھوک بڑھاتی ہیں یہی وجہ ہے کہ مغربی ممالک میں اکثریت دبلے پتلے انسانوں کی ہے کیونکہ وہ بہت کم گندم استعمال کرتے ہیں۔ ہر شخص کو چاہئے کہ گندم کم استعمال کرے۔میری نگاہ میں اچھی صحت کے لئے یہ قریب ترین عمل ہے۔‘‘

بشکریہ: روز نامہ جنگ

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی دیگر تحریریں