پشتونوں کی غلطی پہ زیرو ٹالرنس کیوں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک انسانی غلطی کو اتنا اچھالنے سے یہ ثابت ہوتا ہے بحثیت پشتون اور پھر اگر پشتونوں کے حق کے لیے اواز بھی اٹھا رہے ہیں تو آپ کی کوئی بھی غلطی کے لیے زیرو ٹالرنس ہے جس طرح پورے ملک کے خود ساختہ لبرلز، ایکٹویسٹس، میڈیا اور سوشل میڈیا کے غازیوں نے گزشتہ ایک ہفتے سے ایک ایم۔پی۔اے کی گاڈی سے جان بحق ہونے والے ٹریفک کے اہلکار کی خبر کو اچھالا ہے ایسے لگتا ہے کہ اس ملک میں ایسا کوئی واقعہ کبھی پیش ہی نہیں آیا۔ اس میں کوئی دورائے نہیں ہے کہ ایک انسان کی جان کی کوئی قیمت نہیں نہ ہی کوئی اس کی ذندگی لوٹا سکتا ہے۔ اگر کوئی اس غلطی پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرے تو بھی غلط ہے۔

مجید خان ایم۔ پی۔ اے نے جائے وقوعہ پہ اس بندے کے ساتھ ہر ممکن کوشش کی کہ وہ جانبر ہو سکے اسکو ہسپتال لیکر گئے اور اگلے روز ٹیلیوژن پہ آکر سب کے سامنے اقرار کیا کہ چونکہ ٹریفک اہلکار کی موت میری گاڑی سے لگ کر ہوا ہے اور میں اس کے لیے اپنے آپ کو پیش کرتا ہوں نہ میں کسی ڈرئیور کا نام لوں گا نہ ہی کسی اور کا۔ جو بھی عدالت ہو یا پھر کوئی بھی قانون وہ ہر قسم کی نتیجہ کےلیے تیار ہیں۔ لیکن اس کے برعکس پاکستانی میڈیا اور خودساختہ لبرلز اور ایکتیوسٹس نے آسمان سر پہ آٹھا رکھا ہے۔ نیوز چینلز والوں کی تو جیسی لاٹری نکل ائی ہو، اینکرز ایسے سوالات کر رہے ہیں جیسے عدالت کی کرسی پہ بیٹھ کر پاکستانی جج صاحبان کرتے ہیں۔ ایک انسانی غلطی جس کا اعتراف مجید خان خود کر چکے ہیں کو اتنا اچھالنا پشتونوں کو مجبور کرتا ہے کہ وہ یہ سوچھے کہ ان کے ساتھ ایسا سلوک کیوں ہو رہا ہے۔

بلوچ ماما کا بھی اس واقعے کے بعد آصل چہرہ سامنے اگیا ہے کہ اس کے دل میں کتنا بغض اور کینہ ہے پھر گلا یہ کرتے ہیں کہ ہمارے جدوجہد میں پشتونوں نے ساتھ نہیں دیا جبکہ پشتونوں نے ہر فورم پہ بلوچوں کے لیے اواز بلند کی۔ اس ایک واقعے نے بہت سے سوالات جنم دیئے ہیں جن کا جواب ڈھونڈنا ہر پشتون کا فرض ہے۔ پشتون بلوچ صوبے کی میڈیا کے بلوچ صحافی اس کیس کو اچھالنے میں بڑھ چرھ کر حصہ لے رہے ہیں یہی صحافی مسخ شدہ لاشوں پر کیوں خاموش ہے۔ اتنی جارحانہ اسٹائل تو سو سو لاشوں پر بھی نہیں دکھائی اور اس واقعے کے ساتھ ہی کوئٹہ میں ۷۵ کلو گرام بارود کا ٹرک دھماکے سے کہیں جانے ضایع ہوئی لیکن خبر کو بس ایک خبر کے سے ذیادہ لیا ہی نہیں گیا۔

اسی ملک میں ہمیں ریمنڈ ڈیوس بھی یاد ہے جوکہ ایک امریکی شہری ہے جو لاہور میں تعینات امریکی ذیلی سفارتخانے کا ملازم تھا جس نے 27 جنوری 2011ء کو مزنگ لاہور کی سڑک پر گاڑی چلاتے ہوئے دو نوجوانوں کو گولی مار کر قتل کر دیا۔ اور پھر خون بھا دیکر آذاد بھی ہو گیا۔ اسلام اباد میں آرمی افیسر نے واپڈا اہلکار کو گولی مار کرہلاک کر دیا اور پھر میجر صاحب کو کس میڈیا نے لاکر کٹہرے میں کھڑا کر کے سوال کیا۔ پرویز مشرف کی حکومت میں اور ایم۔ کیو۔ ایم نے سر عام کراچی میں لوگوں پر گولیان بھرسائی اور اسلام آباد میں جرنل صاحب نے اپنے طاقت کا مظاہرہ ہوا میں مکھے لہرا کر کیے لیکن نہ کسی کو سزا ہوئی نہ ہی کوئی پیش ہوا۔

مجید خان اس پشتون بلوچ صوبے کی تاریخ میں واحد چرمین پبلک اکاوٗنٹس کمیٹی ہیں جنہوں نے ہر اس کیس کو اجاگر کیا جس میں کرپشن ہوئی ہے چاہے ملوث اسکی پارٹی کا ہو یا پھر کولیشن پارٹنر ہو۔ انھوں نے سب کو بے نقاب کیا اس صوبے کی تاریخ کا سب سے بڑے کرپشن کا کیس بھی انھی کی بدولت ہوا جس میں نیب نے کروڑوں روپے کی کرنسی برآمد کی اور پھر پلی بارگین کر کے چھوڑنے والی تھی لیکن مجید خان نے چرمین نیب کو چیلنج کر کے پلی بارگین نہیں ہونے دیا۔ مجید خان حکومت کا حصہ ہوتے ہوئے اسمبلی میں کھڑے ہو کرہر قسم کی بدعنوانی اور بے قاعدگی کے خلاف اواز اٹھائی اور اج وہ سارے کرپٹ عناصر مجید خان کے خلاف پروپیگنڈہ میں بھڑ چھڑ کر حصہ لے رہے ہیں۔ نیچے دیے گئے لنک میں مجید خان کی ایک تقریر جو انھوں نے اسمبلی میں کی۔

مذکورہ بالا تحریر سے ہرگز یہ ارادہ نہیں کہ اس واقعے میں مجید خان یا اس کے ڈرائیور کی غفلت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جائے نہ ہی اس سانحہ کو کوئی دوسرا رخ دینے کی کوشش ہے۔ بلکہ ان لوگوں کے لیے سوال کھڑا کرنے کی کوشش ہے کہ کیوں یہی میڈیا پشتون کی نسل کشی پہ خاموش ہے اور اپنی مکاری سے قاتل احسان اللہ احسان کو بھی ہیرو کی طرح پیش کرنے کی کوشش کی اور دربدر اور مٹھی کے ڈیر وزیرستان کو جنت نظیر وادی کے طور پہ پیش کرتا ہے۔ دوسروں کی مجرمانہ کارروائیوں کی کوریج تو نہیں کرتا لیکن ایک انسانی غلطی کو اتنا کوریج دیتا ہے کہ اگر یہی کوریج اس ملک میں دہشتگردی کی بنیادی وجوہات پہ یا پھر دہشت گردوں کو بے نقاب کرنے میں لگاتے تو شاید بہت حالات مختلف ہوتے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •