لاشوں کی منڈی میں قیمتوں کا اتارچڑھاؤ

لاشوں کی منڈی میں قیمتوں کا اتنا فرق کیوں۔۔
ماہرین استحصال کا کہنا ہے کہ پاراچنار والے ایک تو شیعہ ہیں اور اوپر سے فاٹا میں رہتے ہیں۔ تو ان کے وہ ریٹ نہیں لگ سکتے تھے جو بہاول پور والوں کے۔۔ اس لیے ان کی لاشیں سستے میں تولی گئیں
پاراچنار والوں کی لاشوں کی قیمت گری ہے، گزشتہ دھماکوں میں مارے جانے والوں کو پانچ لاکھ روپے تک دیئے گئے تھے جبکہ مقامی لوگ دس لاکھ روپے تک کا مطالبہ کررہے ہیں
جنوبی پنجاب کے ایک دوسرے علاقے ڈیرہ غازی خان میں سخی سرور دربار میں پانچ سال پہلے چالیس سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے تھے مگر ان کی لاشوں کی اتنی قیمت نہیں لگی تھی جو آج بہاول پور میں لگائی گئی ہے
پانچ سال میں کیا جنوبی پنجاب کی لاشوں نے پاراچنار کی لاشوں کے برعکس اپنی قیمت بڑھائی یا معاملہ کچھ اور ہے
ماہرین استحصال کے مطابق جنوبی پنجاب کی لاشوں کی قیمت مصنوعی طور پر بڑھائی گئی تاکہ وسیب کے عوام کے غم وغصے پر قابو پایا جا سکے، اگلا الیکشن بھی تو جیتنا ہے
سانحہ احمد پور شرقیہ کا معاملہ دبانے کے لیے ایک دلچسپ حکمت عملی بھی اپنائی گئی
وہ بہاول پور جہاں سے پورا پنجاب علم حاصل کرتا رہا ہے، وہاں کے لوگوں کی حادثے میں ہلاکت کو جہالت کا نتیجہ قرار دے دیا تاکہ حکومت پر بات نہ آئے، کوئی یہ سوال نہ کرے کہ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی جانب سے بنوایا گیا چھ کروڑ کی آبادی والے جنوبی پنجاب میں اب تک ایک برن سینٹر ہی کیوں ہے
سانحہ سہون کو سانحہ اسپتال بنانے والے بھی دبکی مار کر بیٹھے رہے اور کوئی نظر نہیں آیا گویا نام نہاد اپوزیشن کو پانامہ کی صرف اقتداری سیاست میں دلچسپی ہے۔ عوامی مسائل میں نہیں۔
پارا چنار سانحے اور بہاول پور حادثے میں مرنے والوں کے خون کا رنگ تو ایک تھا مگر ان معاملات کو ڈیل الگ الگ طریقے سے کیا گیا جیسے پاراچنار میں دھماکے پر وزیراعظم کا لندن میں عید منانے کا ارادہ نہیں بدلا مگر بہاول پور حادثے کے فوری بعد بدل گیا
پارا چنار کو تو ایسا سائیڈ لائن کیا گیا کہ سانحے کے زخمی خیبرپختونخوا کے اسپتالوں میں زیرعلاج ہیں اور صوبے کا حکمران ناران کے ٹھنڈے پہاڑوں میں سیرسپاٹے کررہا ہے اور اس کے مداح بہاول پور کے محاذ پر اس محتاط انداز میں لگے ہوئے ہیں کہ کوئی ان سے ان کے صوبے میں طبی سہولیات کا سوال نہ کرلے
بھائی صاحب ۔۔ احتیاط تو کرنا پڑتی ہے ورنہ اگر یہ خبر سامنے آگئی کہ پی ٹی آئی راہنما مراد سعید اسلام آباد کے آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں کئی روز سے زیرعلاج ہیں اور پورے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کے پاس ایک بھی معیاری اسپتال اپنے اس مرکزی راہنما کے علاج کے لیے نہ تھا تو جواب تو دینا پڑے گا!!
تو بھئی پاکستان میں ان دنوں سیاست اسی میکاولیت اور چانکیہ اسٹائل کا نام ہے ۔۔ اور ہم سب اس کے بے بس مہرے

