میرا وزیر اعظم اور پاگل پن میں مبتلا دنیا

میں گزشتہ اکتوبر میں انگلستان گیاتھا۔وہاں ایک محفل میں کچھ دیسی نوجوان لڑکے لڑکیوں سے ملاقات ہوئی جو انگلستان میں ہی پیدا ہوئے اور پلے بڑھے تھے۔ جب ان کو پتہ چلا کہ میں کنیڈا سے ایا ہوں تو انہوں نے بڑے جوش سے مجھے بتایا کہ اپ کا وزیر اعظم بہت کول ہے۔ اتفاق سے میرے ائی فون پر میری وزیر اعطم کے ساتھ ملاقات کی تصویر تھی۔میں نے ان کو یہ تصویر دکھائی۔ یہ تصویر دیکھ کر وہ خوشی سے اچھل پڑے اور میرے ساتھ ایسے تصاویر بنائیں جیسے میں ہی وزیر اعظم ہوں۔ ایسا میں نے سوئزرلینڈ میں بھی دیکھا۔ مارچ میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل میں شرکت کے لیے میں جنیوا میں تھا۔ اس اجلاس میں میں نے لائرز واچ کنیڈا کی طرف سے شرکت کی۔اجلاس کے بعد کئی لوگ مجھے ملے اور بتایا کہ وہ ہمارے وزیر اعظم کے فین ہیں۔یہ سنجیدہ لوگ تھے اور ان کا خیال تھا کہ اگر دنیا میں جسٹن ٹروڈو جیسے حکمران ہوں تو دنیا ایک مختلف جگہ ہو۔

ہماری شروع سے تربیت اور اٹھان ہی ایسی ہے کہ ہم حکمرانوں کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں اور ان سے فاصلہ رکھتے ہیں۔ان سے مل کر ہمیں کوئی خوشی نہیں ہوتی۔اور ان کی محفل میں ہمیں بے چینی سے محسوس ہوتی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے زندگی کے تیس سال لوٹ گھسوٹ کے راج پر مبنی سماج میں گزارے۔جہاں پے در پے امریتیں دیکھیں۔ ان امریتوں کے زیر اثر سرکاری طاقت او رتبے کا ناجائز استعمال دیکھا، حکمرانوں کی گردن میں پڑا ہوا سریا دیکھا، نمود و نمائش، پروٹوکول اور ہوٹر دیکھے، جاگیرداری اور سرداری نظام اور ان کا غرور و تکبر دیکھا۔ ان سب چیزوں نے مل کر ہماری ایسی نفسیاتی ساخت تشکیل دی کہ ہمیں طاقت اور طاقت وروں سے گھن انے لگی۔مگر جیک لٹن جیسے ترقی پسند اورجسٹس ٹرودو جیسے لبرل سے ملنے کے بعد ہماری نفسیاتی تحلیل ہوئی۔ حکمرانوں کے بارے میں ہمارے روئیے اور سوچ میں بڑی تبدیلی ائی ۔اور پہلی بار ہمیں یقین ہوا کہ حکمران بھی سچے ترقی پسند اور لبرل ہو سکتے ہیں۔ وہ عوام کے سچے خدمتگار بھی ہو سکتے ہیں۔ جسٹن ٹروڈو صرف کہنے کو نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں ایک ڈاون ٹو ارتھ نامور شخصیت ہے۔ وہ اگر وزیر اعظم نہ بھی ہوتے تو پھر بھی ان کا سماجی قد کاٹھ بہت بڑا تھا۔ ایک سابق وزیر اعظم کا بیٹا ہونے کے علاوہ اس کے خاندان اور دور کے کزنز میں نامور شخصیات کی ایک طویل فہرست ہے۔ اس فہرست کے کچھ ناموں میں ہیلری کلنٹن، کنیڈین سنگر جسٹن بیبر، کنیڈین سنگر سیلن ڈیان، میڈونا سمیت کئی مشہور اداکار اور فنکار شامل ہیں۔
جسٹس ٹروڈو صرف خیالات کے اعتبار سے ہی ایک لبرل اور ترقی پسند ادمی نہیں، عملی طور پر بھی ایسے ہیں۔ انہوں نے کنیڈا کے اندرونی اور خارجہ امور پر مشکل حالات میں مشکل سوالات پر ایک اصولی ، ترقی پسندانہ اور ازاد خیال موقف اپنایا ہے۔ ہماری یہ دنیا اس وقت دائیں بازوں کے سخت گیر قسم کے متعصبانہ نظریات اور کسی حد تک پاگل پن کی گرفت میں اتی جا رہی ہے۔ ایسے میں عالمی سیاست میں جسٹن ٹروڈو جیسے لیڈروں کی سخت ضرورت ہے۔

