سرخ قبر کی رات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس رات کو یاد کرتا ہوں تو ایک عجیب سا احساس ذہن کے تاریک گوشوں سے نکل کر سامنے آ جاتا ہے۔ کیا احساس ہے وہ؟ کچھ نہ کرنے کا احساسِ فخر؟ یا کچھ نہ کرنے کا احساسِ افسوس؟

میں ان دنوں ایم بی بی ایس فائنل ایئر کا طالبِ علم تھا۔ ایک دوست جو کراچی جا رہا تھا، اس کے ساتھ تین چار دنوں کے لیے کتابوں اور دوائیوں سے نکل کر جینے کے لیے ساتھ ہولیا۔صبح سویرے کراچی کے مڈل کلاس کے علاقے تھرٹین ڈی کے ایک فلیٹ پر پہنچے۔ ہمارا میزبان ایک مشہور ڈرامہ ڈائریکٹر تھا جو اس وقت باہر تھا۔ عریاں اور نیم عریاں فلمی پوسٹرز، شراب کی بوتلوں میں واٹر پلانٹس اور کمروں میں زیرو پاور کے سرخ بلب اس دو کمروں اور ایک بڑے ہال والے فلیٹ کی ذہنی کیفیات کے آئینہ دار تھے۔ فلیٹ کا ملازم تھر کا رہنے والا ایک عجیب خاموش طبیعت لڑکا تھا، سماً بکماً ٹائپ کا۔ شام کو آنکھ کھلی تو ڈائریکٹر دوست ابھی تک شوٹ سے واپس نہیں آیا تھا۔ ہم نے چائے وغیرہ پی اور میں اور میرا دوست بوریت دور کرنے کے لیے شطرنج کھیلنے لگ گئے۔ آہستہ آہستہ فلیٹ ڈائریکٹر کے جاننے والوں، جن میں چند پروڈیوسر حضرات، چند ٹیکنیکل لوگ اور کچھ ایکٹرز وغیرہ شامل تھے، سے بھرنا شروع ہوگیا۔
ان میں سے کچھ کام مانگنے اور اکثر اپنے پیسے مانگنے آئے تھے۔ ڈائریکٹر واپس آیا تو ہمیں دیکھ کر اپنی مصروفیات اور تعلقات کے بارے میں بتا بتا کر اپنی ترقی کو مزید ہوائیں دیتا رہا۔ اس دوران وہ باقی لوگوں کو بھی نمٹاتا رہا۔مجھے کچن میں کھانے وغیرہ کا کوئی خاص سلسلہ نظر نہیں آیا تو تقریباً نو بجے میں کھانا کھانے باہر نکل گیا۔ واپس آیا تو بڑے کمرے سے موسیقی کے ساتھ لوگوں کی اونچی آوازیں آرہی تھیں۔ دروازے کو دھکیلنے کی کوشش کی تو بند تھا۔ میں کچھ کنفیوز ہوکر ساتھ والے کمرے کی طرف بڑھا جہاں صبح سویا تھا۔ وہ تھری لڑکا خاموش سرجھکائے وظائف کی کوئی کتاب کھولے پڑھ رہا تھا۔ اس کا چہرہ اس سارے ماحول سے عادی اور عاری تھا۔میں بیٹھا ہی تھا کہ میرا دوست مجھے ڈھونڈتا ہوا پہنچ گیا۔’یار ڈاکٹر، کہاں چلا گیا تم؟۔۔۔ آؤ ادھر آؤ ایک چیز دکھاؤں۔۔۔ خاص دعوت ہے‘۔ وہ مجھے کھینچتا ہوا لے گیا۔جیسے ہی میں نے اندر قدم رکھا، شراب کی بو اور دھوئیں کے کثیف بادلوں میں اتر گیا۔

کچھ دیکھنے کے قابل ہوا تو سرخ بلب کی روشنی اور دھوئیں میں پہلی نشست پر دروازے کے پاس ہی میری عمر کا ایک موٹا سا لڑکا نظر آیا۔ اس نے پھولوں والی ایک تنگ شرٹ پہن رکھی تھی جس میں سے اس کے موٹے کالے بازو اور پیٹ باہر لٹکے ہوئے تھے۔ اس کے اوپر ایک صحت مند گہرے سانولے رنگ کی لڑکی تقریباً نیم دراز تھی۔ اس کا لباس عجیب سا تھا۔ پیلے رنگ کی کاٹن کی تنگ بلکہ بہت ہی تنگ چولی، جس کے بازو غائب تھے اور لمبائی ناف سے ذرا اوپر تک۔ گلا کچھ چوڑا، کالے رنگ کی برا اور جلد کے ساتھ چپکی ہوئی تنگ پتلون جو کہ پیروں تک تھی۔ اس کی شکل، اس کا انداز اور اس کا لباس، میں گھبرا گیا۔ اس کے ہاتھ اور پاؤں پر مہندی لگی تھی۔ میرا دوست ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ والی نشست پر لے گیا۔

لڑکی کا اوپر کا دھڑ دوسرے شخص پر تھا جس نے کلف لگا ہوا کاٹن کا سفید سوٹ پہن رکھا تھا۔ بھری مونچھیں، بھرا چہرہ، لڑکی سے بے زاری یا لاتعلقی کا اظہار کر رہا تھا۔ اس کی توجہ شراب کے گلاس پر تھی جو لڑکی اس سے چھین کر خود پینا چاہ رہی تھی۔تیسرا شخص کھلاڑی مانند جسم والا، ٹریک سوٹ پہنے ہوئے تھا۔ سب اندر پیتے رہے تھے اور اب تقریبا تیسرے یا چوتھے آسمان پر محوِپرواز تھے۔ ان کا تعارف میرا دوست آہستگی سے کروا چکا تھا۔ سفید کاٹن والا شخص پولیس میں ایس ایچ او تھا جسے اس لئے بھی شامل کیا گیا تھا کہ کوئی مسئلہ نہ ہو۔ میری موجودگی کو کوئی نوٹس میں نہیں لایا۔موٹے لڑکے نے اچانک دھکا دے کر اس لڑکی کو ہال کے بیچ میں کھڑا کر دیا۔وہ لڑکھڑاتی ہوئی اس پلیئر تک گئی اور اس میں ایک کسیٹ ڈال کر اسے آن کردیا۔کسی تیز انگلش میوزک سے پورا ہال دھمک اٹھا اور اسی بات پہ اس نے بے ہنگم انداز میں ناچنا شروع کر دیا۔ناچ کیا تھا، چھلانگیں تھیں۔اونچی نیچی چھلانگیں۔لوٹ پوٹ۔’نہیں نہیں یہ والا نہیں۔ بند کرو۔ دوسرا لگاؤ۔۔۔مجرا لگاؤ۔‘ بہت سی آوازیں ایک ساتھ بلند ہوئیں۔وہ لڑکی، کیا نام تھا اس کا؟ شاید ثنا۔ وہ دھم سے بیٹھ گئی۔ اس قدر پی چکی تھی کہ وہ کچھ کر نہیں پا رہی تھی۔ موٹا لڑکھڑاتا ہوا اٹھا۔ لڑکی کو ایک لات ماری اور پوچھا! وہ مجرے والی کیسٹ نہیں لائی؟ لڑکی نے اس کو ماں کی گالی دی۔ ساری محفل زعفران زار ہو گئی۔ بولی ’میرے پرس میں ہے۔ لگاؤ اس میں۔ میرا موڈ آف کر دیا تم لوگوں نے۔ ایک پیگ لگاؤ۔‘ ایک شخص کے ہاتھ سے اس نے بھرا ہوا گلاس لیا اور ایک ہی سانس میں چڑھا گئی۔

کیسٹ لگائی گئی، گانا شروع ہوا ’ان آنکھوں کی مستی کے افسانے ہزاروں ہیں‘ لڑکی فرش پہ بیٹھی بیٹھی دوبارہ موڈ میں آنے لگی۔ واہ! واہ! کی آوازیں بلند ہوئیں۔ اب وہ طوائفوں کے انداز میں پرفارم کرنے کی کوشش میں تھی۔ مگر وہ بس کوشش ہی تھی۔ وہ اٹھی، لہراتی ہوئی کبھی پروڈیوسر پہ، کبھی ایس ایچ او پہ اور کبھی ہماری گود میں بھی آ گرتی۔ وہ اس کو جگہ جگہ سے دبوچتے اور دوسرے پہ پھینک دیتے۔ یہ سب کچھ کافی دیر تک ہوتا رہا۔کمرے میں کوئی اے سی نہیں تھا۔ بند کمرے میں دھوئیں، گرمی، شور، اچھل کود اور اتنے لوگوں کی بھاری سانسوں میں، میں پسینہ پسینہ ہو چکا تھا۔ میں سب کچھ ایسے دیکھ رہا تھا جیسے کسی تھرڈ کلاس سینما میں ہوں اور اس پشتو، پنجابی فلم میں بھی، جو سامنے چل رہی ہے۔میں نے دوست کو باہر چلنے کا اشارہ کیا اور وہ مشفقانہ انداز میں سر ہلا کر مجھے باہر لے آیا۔

پندرہ بیس منٹ بعد ہم پھر اسی گھٹیا سینما میں داخل ہو گئے۔ فلم آگے نکل چکی تھی۔ سارے وِلن اپنی اپنی آگ بجھانے کو تیار بیٹھے تھے جو اس نے اب تک بھڑکائی تھی۔ اس کا لباس اب بہت ناکافی تھا اور وہ چھوٹی سی چولی اس موٹے کے ہاتھ میں تھی جسے وہ بار بار سونگھتا تھا۔ اچانک ایک شخص اٹھا، اس نے ثنا کو بازو سے پکڑا اور گھسیٹتا ہوا باتھ روم کی طرف بڑھا۔ باتھ روم سے گزر کر ایک دوسرا کمرہ تھا جو باہر سے لاک کر دیا گیا تھا تاکہ کوئی ڈرائنگ روم سے اندر نہ آسکے۔ اس شخص کے اس اقدام پہ قہقہے اور داد کی آوازیں بلند ہوئیں۔ ثنا اس کو تھپڑ مارتی ہوئی اس کے ساتھ جا رہی تھی۔ میرا دوست، میں اور باقی سب ہال میں رہ گئے تھے۔میں اس ماحول کو اب دوسری طرح دیکھ رہا تھا۔میرے اندر اب تک کوئی جنسی جذبہ بیدار نہیں ہو سکا تھا۔ مجھے خود پہ حیرت بھی تھی کہ کیا مسئلہ تھا۔ یا شاید پہلی بار سچ مچ یہ سب کچھ دیکھ کر میں ڈر گیا تھا۔ حالانکہ جب بھی ہم دوستوں نے مل کر کوئی ٹرپل ایکس فلم دیکھی تو پانچ منٹ کے بعد ہی ہم سب کو ٹینشن شروع ہو جاتی اور ہر کوئی سگریٹ سلگانے پہ آجاتا، وہ بھی جو نہیں پیتے۔اب کمرے میں بزنس، گالی گلوچ اور شراب کی کمی کا ذکر ہو رہا تھا۔ ڈائریکٹر اس دوران کہیں غائب تھا۔ ہاں! وہ چھت پہ کسی نئی لڑکی کا آڈیشن لے رہا تھا۔ وہ لڑکی اور اس کی ماں دونوں بہت پرکشش تھیں۔

ایس ایچ او کو گھر جانے کی جلدی تھی۔ اس کی بیوی کا فون پہ فون آ رہا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ دوسروں سے پہلے وہ نشہ بہاتی گنگا میں ہاتھ دھو کر گھر جائے۔ وہ بہت ضبط کیئے ہوئے تھا۔ اپنے آپ کو کھول نہیں رہا تھا جبکہ دوسرے اب تک بیسیوں لڑکیوں، شراب کے مختلف برانڈز اور شاندار محفلوں کو یاد کر چکے تھے۔جو پروڈیوسر اسے لایا تھا، اس پر طنز کیا جا رہا تھا کہ اس بار اس نے کوئی خاص چیز نہیں منگوائی۔’بس ٹھیک ہے‘ اور وہ مصر تھا کہ اتنی جلدی میں اس سے بہتر اور کیا آتی حالانکہ وہ کوشش کر چکا تھا دوسری لڑکی کے لئے۔دوسرے کمرے سے جونہی وہ شخص واپس آیا، سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا، گویا اب کون؟ ’یار مجھے گھر جلدی پہنچنا ہے، پہلے ہی بہت دیر ہو گئی ہے‘ ایس ایچ او نے سب کو درخواست کی، جو درخواست نہیں اطلاع تھی۔’ہاں ہاں آپ ہو آئیں، ہم تو آج یہاں ہیں، ثنا بھی یہیں ہے۔‘‘ایس ایچ او لڑکھڑاتا ہوا اٹھا اور باتھ روم سے ہوتے ہوئے دوسرے کمرے میں چلا گیا۔ پہلا آدمی اس کی جگہ پہ آ کے بیٹھ گیا۔ ایک سگریٹ سلگایا،’شراب ختم ہو گئی کیا؟‘ اس نے موٹے لڑکے سے پوچھا۔’ابے اور کتنی پیئے گا بہن ۔۔۔؟‘ اس موٹے نے ہنستے ہوئے کہا۔’تیری ماں نے سارا نشہ اتار دیا ہے، منگا! کچھ کر‘ اسی طرح کی اور باتیں ہوتی رہیں۔ کسی نے اٹھ کر ٹیپ چلا دیا۔

میرے تصور میں ثنا فرش پر بیٹھ کر ڈانس کرنے لگی۔۔۔کبھی وہ بلی کی طرح چلتے ہوئے کسی کے قریب جاتی، کبھی بندر کی طرح اچھلنے لگتی یا پھر ناگن کی طرح زمین پہ لوٹنے لگتی۔ میں نے بہت کوشش کی کہ وہ مجھے ریکھا، مینا کماری یا ہیما مالنی کی طرح رقص کرتی ہوئی نظر آئے مگر وہ تو قابو میں ہی نہیں آ رہی تھی۔اچانک دھوئیں سے میرا جی متلانے لگا۔مجھے چکر آ رہے تھے۔ میں تیزی سے باتھ روم گیا۔ زور سے قے آئی اور سب کھایا پیا باہر آگیا۔ میں کوشش کرتا رہا کہ میری آواز باہر نہ جائے۔ واش بیسن میں منہ دھویا۔ میری نظر کے سامنے آدھ کھلے دروازے پر پڑی۔ ثنا اور ایس ایچ او دونوں بالکل برہنہ پلنگ پہ پڑے تھے۔ ثنا ایک لاش لگ رہی تھی اور ایس ایچ او اسے زور زور سے چانٹے بھی مار رہا تھا کہ وہ ہوش میں آئے مگر لاش کو کیا فرق پڑتا ہے۔مجھے ہوش آیا۔ میں نے دروازہ آہستہ سے بھیڑ دیا۔ذرا ٹھیک ہو کر دوبارہ اس ہال میں آیا۔ میرا دوست جو بہت پی چکا تھا، بڑے غور سے کسی کی جانب دیکھ رہا تھا۔ میں نے بھی اسی جانب دیکھا مگر کچھ سمجھ نہیں سکا۔ کیا ایسی چیز ہے جسے وہ اتنے غور سے دیکھ رہا ہے۔۔۔ہاں ڈاکٹر۔۔کہاں گئے تھے تم؟ ٹھیک تو ہو؟۔۔۔۔یار میں اوپر جا رہا ہوں۔۔۔چلو گے؟۔۔۔ہاں؟ نہیں تم جاؤ میں آتا ہوں۔میں اسے انتظار میں چھوڑ کر چھت پر آگیا۔ ڈائریکٹر صاحب ایک تاریک گوشے میں لڑکی اور اس کی ماں کو لئے سکرپٹ ڈسکس کر رہے تھے۔

میں دور شہر کی جگمگاتی علامتوں کو دیکھنے لگا۔۔۔۔اب مجھے کچھ محسوس نہیں ہو رہا تھا۔میرے کان گرم نہیں ہو رہے تھے۔میری ٹانگوں میں کوئی لرزش نہیں تھی۔ میری دھڑکنیں بے ترتیب نہیں تھیں۔۔۔۔بس مجھے نیند آ رہی تھی مگر کہاں جاؤں۔۔۔۔ہال؟ نہیں ڈرائنگ روم۔۔۔؟ نہیں۔ صبح والا کمرہ۔۔۔۔؟ اس میں پہلے ہی چار لوگ سو رہے ہیں۔ چھت۔۔۔؟ ہاں! چھت ٹھیک ہے۔۔۔۔میں سو گیا۔فجر کے بعد میرا دوست آیا اور نیند کی حالت میں مجھے نیچے ہال میں لے آیا۔دو تین لوگ سو رہے تھے۔ ایک کونے میں بستر خالی تھا۔ اس نے مجھے وہاں سلا دیا۔ میں پھر سو گیا۔کوئی دس بجے گرمی سے جاگا۔ میرا پورا جسم اینٹھ چکا تھا۔ منہ کڑوا اور حلق خشک ہو چکا تھا۔ پاس رکھے واٹر کولر سے پانی پیا۔ رات کا پانی تھا۔ جی چاہا تھوک دوں، پھر بھی پی گیا۔ باہر سے پروڈیوسر اور دوسرے لوگوں کی آوازیں آ رہی تھیں۔

میں جلدی سے باتھ روم میں گھس گیا۔ شاور کھول کر بہت دیر تک اس کے نیچے بیٹھا رہا۔ نہا کر ، تولیا باندھ کر میں نے اس کمرے کا دروازہ کھولا جہاں رات کو لوگ جا رہے تھے۔دروازہ کھلتے ہی سامنے شلوار قمیض پہنے ثنا کھڑی نظر آئی۔وہ موٹی موٹی سرخ آنکھیں لئے راستہ روکے کھڑی تھی۔ کچھ دیر دیکھتی رہی۔میرے سینے کے بالوں پہ موجود پانی کے قطرے کو انگلی کی پور پہ اٹھا کر اپنے چہرے کے قریب لے گئی۔۔۔۔تم ڈاکٹر ہو؟ اس نے پوچھا۔ میں اسے دیکھتا رہا۔تم مجھ سے ناراض ہو؟نہیں، کیوں؟پھر تم رات کو میرے پاس کیوں نہیں آئے؟تمہیں کیا پتا کون کون تمہارے پاس آیا تھا؟تم نہیں آئے باقی سب آئے تھے۔۔۔۔کچھ دو بار بھی۔میرا آنا بھی ضروری تھا؟شاید۔۔۔۔یہ کہہ کر اس نہ میرے گال پہ ایک بوسہ دیا اور ہنستی ہوئی چلی گئی جہاں پروڈیوسر، موٹا لڑکا اور داڑھی والا اسے واپس لے جانے کے لئے بیٹھے تھے۔

http://www.bbc.com/urdu/interactivity/blog/story/2006/11/061120_ss_story3_ms.shtml

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18960 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp