آگ میرے گھر سے دور لگی ہے

ایک ہندی فلم کے ہیرو کی طرح ہماری قوم کو بھی شورٹ ٹرم میموری لاس کی موروثی بیماری ہے۔ ہم ہر خوشی غمی کے موقعے کو بھول کر آگے چل پڑتے ہیں، عموما سبق حاصل کیے بغیر۔ یہ ایک لحاظ سے اچھا بھی ہے۔ جس کربِ مسلسل سے پاکستانی قوم، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں لگے زخم جھیلتی پچھلے کئی برسوں سے گزر رہی ہے اس میں بھول جانا بھی نعمت ہے- لیکن یہ فرق کرنا بھی بہت ضروری ہے کہ کتنا بھولنا اور کتنا یاد رکھنا ہے۔ بہت سارے ممالک نے اپنا بھیانک ماضی بھلا کر نیا دور شروع کیا ہے، جرمنی ہی کو لے لیں، پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں مار کھانے کے بعد آج جرمنی معاشی سپر پاور ہے۔ اس بھولنے کے سفر میں وہ سانحہ بھولے، سبق نہیں بھولے۔
دہشت گردی کی جنگ کے اسباق پر تو ضخیم کتابیں لکھی جا چکی ہیں، جو کافی تو بے حسی اور بے عملی کی دیمک کی نذر ہو چکی ہیں۔
تھوڑا دوش ہمارا بھی ہے، ہم ووٹ دے کر اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہو جاتے ہیں، پھر ہماری کچہری کی تاریخ سے لیکر اپنے لان کی صفائی تک ریاست کی ذمہ داری بن جاتی ہے۔ ریاست کے ملازم بھی ہم میں سے ہی ہیں ۔اسی ریاست کےجس کی نوکری کو آج بھی کام کئے بغیر سنہری مستقبل کی لاٹری سمجھا جاتا ہے۔ کمیونٹی کی کیا ذمہ داری ہے یہ ہم نے محسوس کرنی چھوڑ دی ہے۔ کچھ میری طرح کے پڑھے لکھے لوگوں کا خیال ہے کہ یہ حادثہ لوگوں کے لالچ کے باعث ہوا۔ ہمیں جنوبی پنجاب کی انفرادی انکم، پنجاب کے روشن شہری علاقوں سے ترقی کے فرق کا تقابل کر لینا چاہیے۔ غریب آدمی کے پاس اپنا معاشرتی معیار بدلنے کی کوئی جادؤئی چھڑی نہیں ہوتی۔صرف ایسے کچھ مواقع ہوتے۔احمد پور شرقیہ کے لوگوں نے ایک رسک لیا، تیل میں آگ لگنے کا علم ان کو بھی ہو گا، البتہ انہیں لگتا ہو گا جیسے طاقت کی جگہ پر براجمان لوگ بہتی گنگا میں ہاتھ دھو لیتے وہ بھی دھو لیں۔ وہ بھول گئے قسمت بھی سیانی ہے، غریب کا ساتھ نہیں دیتی-
پچھلے زمانوں میں بڑے بوڑھے پڑھے لکھے نہ سہی، سیانے ضرور ہوتے تھے۔ ۔پنجاب پڑھا لکھا ہو رہا ہے۔ گاؤں میں کوئی سکول ضرور 
سانحے کی تحقیقات بھی ہوں گی، ٹینکر ڈرائیور رفتار کی حد سے آگے نکل رہا تھا، قصور لوگوں کا تھا، پولیس کا؟ برن یونٹ کیوں نہیں بن پائے، غلطی ایڈمنسٹریٹیو تھی یا کچھ اور قصہ ہوا۔ اس سب پر رپورٹ لکھی جائے گی، ایک آدھے افسر کی قربانی بھی دے دی جائے گی۔ ایک اور سبق۔ سقوط ڈھاکہ سے لیکر آج تک کی تمام رپورٹیں۔
ہم نے سانحوں سے سبق نہ لینے کی روایت اپنی کنفیوزڈ قومی شناخت سے سیکھی ہے۔ جب ہمارے پالے پوسے طالبان فاٹا اور سوات میں خون کی ہولی کھیل رہے تھے تو ہم مطمئن تھے، وہ بہت دور تھے، ہم تک آگ نہیں آ سکتی تھی، میرے بھائی نہیں مر رہے تھے، میں محفوظ تھی۔ میرے نزدیک میرا صوبہ ہی میرا پاکستان تھا، وہ میرے نفسیاتی بارڈر کےاس پار تھے۔ لیکن وہ آگ ہم تک آئی، ہمارے بچے پشاور میں اس میں جھلسے۔ ہم نے قسم کھائی ہم نہیں بھولیں گے، مگر ہم بھول گئے۔ آج بھی ہمیں پارا چنار دور، کوئٹہ سرحد کے پار اور بہاولپور چند غریب بیوقوف لوگوں کے لالچ کا انجام لگتا ہے۔ کیونکہ آگ میرے گھر سے دور لگی ہے۔

