سائیں کی کتاب، سرخ روشنائی اور گم نام شہید


سائیں کی کہانیاں ہمیشہ ادھوری ہوتی ہیں۔ سائیں کہتا ہے کاغذ پر بس کچھ نقطے لگانے چاہیں۔ یوں کہ جب آخری نقطہ لگے تو تصویر مکمل ہو جائے۔ منظر جڑ جائے۔ مشکل یہ ہے کہ ہر بار سائیں آخری نقطہ سرخ قلم سے لگاتا ہے۔ سرخ قلم میں شاید روشنائی زیادہ ہوتی ہے اس لئے نقطہ پھیل جاتا ہے۔ دور سے دیکھنے پر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کاغذ پر ایک قطرہ خون گر کر بہہ گیا ہو۔

سائیں کہنے لگا، ’ میں ایک کتاب لکھ رہا ہوں۔ اس کتاب میں صرف نام ہوں گے۔ گم نام شہیدوں کے نام ‘۔ خود ہی تاسف میں سر ہلایا۔ نیم بے خودی کی سی کیفیت میں بولے، ’ میں بھی تو جولاہا ہوں۔ بھلا گم نام شہیدوں کے بھی نام ہوتے ہیں‘؟ سائیں کے سرہانے پرانی لکڑی کا ایک بوسیدہ سا صندوق پڑارہتا تھا۔ سائیں نے صندوق کا ڈھکن اٹھایا، نیم وا ڈھکن کو دوبارہ گرایا۔ ہونٹوں پر ایک درد بھری مسکراہٹ پھیلی اور بولے، ’ بابا افغان جہاد میں شہید ہوئے تو پہلے ماں کے زیور بکے۔ پھر گھر کے قیمتی سامان کی باری آئی۔ پھر برتن بکے۔ اس صندوق میں گھر کا راشن پڑا رہتا تھا۔ صندوق خالی رہنے لگا تو ماں نے صندوق سامنے والے زمیندار کے منشی کو بیچ دیا۔ منشی صاحب کے لئے شاید اس کا کوئی مصرف نہیں تھا۔ سالوں تک ہر روز جب گھر سے نکلتا تو میری نظر اس صندوق پر پڑتی۔ منشی صاحب نے صندوق گھرکے باہر بنے باڑے میں رکھا تھا۔ اس میں منشی صاحب بکریاں چارہ کھاتی تھیں۔ پندرہ سال بعد جب میں نے پہلی تنخواہ لی تو سب سے پہلے منشی صاحب سے یہ صندوق خریدا۔ اس میں کچھ بے ترتیب اوراق ہیں۔ چند تصاویر ہیں۔ کچھ ادھوری کہانیاں ہیں‘۔

سائیں نے صندوق کا ڈھکن پھر سے اٹھایا۔ اس میں سے کچھ بوسیدہ کاغذ اور تصاویر نکال کر سامنے رکھیں۔ کسی اٹھارہ انیس سالہ نوجوان کی تصویر تھی جو کسی فوٹو اسٹوڈیو میں بنوائی گئی تھی۔ پس منظر میں کاغذی پھولوں کے بڑے بڑے گملے رکھے تھے۔ نوجوان کے دائیں ہاتھ میں سیکو فائیو گھڑی بندھی تھی۔ محسوس ہورہا تھا کہ اس نے آستین اسی لئے چڑھایا ہے کہ گھڑی واضح نظر آئے۔ بایاں ہاتھ ٹھوڑی کے نیچے یوں رکھا تھا کہ ہتھیلی کا رخ سامنے کی جانب ہو۔ اس کے ہاتھ پر وہی روایتی مہندی لگی تھی جو ایک زمانے میں نوجوان لڑکے عید پر لگاتے تھے۔ سائیں نے کہا، ’ یہ حافظ ہے۔ ہمارے ہمسائے میں رہتا تھا۔ مجھے قرات سکھاتا تھا۔ افغانستان میں طالبان ابھرے تو یہ جہاد پر چلا گیا۔ تین سال بعد اس کا ایک ساتھی واپس آیا تھا۔ اس نے بتایا کہ حافظ مزار شریف میں شہید ہو گیا۔ اس لڑکے نے مجھے ایک اور کہانی بھی سنائی۔ کہنے لگا حافظ دیگر پچاس ساٹھ طالبان کے ساتھ مزار شریف میں پھنس گیا تھا۔ شمالی اتحاد کے ایک کمانڈر نے سب کو پکڑ کر ایک احاطے میں گولیاں ماری ۔ پھر ان سب کی لاشوں کو ایک دوسرے کے اوپر تلے رکھا ۔ لاشوں پر ایک قالین بچھایا اور کمانڈر نے اس کے اوپر کھڑے ہو کر شکرانے کے نفل ادا کئے۔ میں نہیں مانتا۔ بھلا ایک مسلمان ایسا بھی کر سکتا۔ لوگ بھی کیا کیا کہانیاں بناتے ہیں‘۔

سائیں نے ایک اور تصویر نکالی۔ منگول خدوخال کا ایک خوبرو نوجوان۔ ’ یہ حسنین ہے۔ مجھے کلب میں باڈی بلڈنگ سکھاتا تھا۔ رباب بجانے میں یکتا تھا۔ دن کے وقت قندھاری بازار میں شیر یخ بناتا تھا۔ سر ساز اور تن سازی کے علاوہ اس کی کسی اور چیز میں دلچسپی نہیں تھی۔ شیعہ سنی کیا ہوتے ہیں یہ کبھی ہمارے درمیان زیر بحث نہیں آیا۔ اپنی نماز روزے کے علاوہ اسے مذہب سے کچھ زیادہ دلچسپی بھی نہیں تھی۔ کئی مرتبہ میرے ساتھ جمعہ پڑھنے چلا جاتا تھا۔ محرم کے دن تھے۔ میں حسنین کی دوکان پر گیا۔ بھیڑ تھوڑی کم ہوئی تو میں نے حسین سے کہا، یار! یہ محرم کی چھٹیوں میں کہیں چھپ کر رباب کی محفل نہ سجا لیں؟ حسنین نے سرگوشی میں کہا، سائیں تمہیں ابا کا تو پتہ ہی ہے۔ مجھے مجبوراَ ابا کی وجہ سے جلوس میں جانا پڑے گا۔ جلوس ختم ہوتے ہی میں ڈیرے پر آجاﺅں گا اور خوب محفل سجائیں گے۔ میں رات گئے تک حسنین کا انتظار کرتا رہا۔ رات خبر ملی کہ لیاقت بازار میں جلوس پر فائرنگ ہوئی ہے۔ اگلے دن پتہ چلا کہ دوگولیاں حسنین کے سینے میں لگی تھیں، ایک گولی ماتھے میں اور ایک گولی ہتھیلی میں۔‘ سائیں کی آنکھ سے ایک آنسو چھلک پڑا۔ سائیں بہت دیر خاموش رہا۔ خلا میں گھورتے گھورتے خود کلامی میں بولا، ’سینے میں گولیاں کیوں ماری گئیں یہ تو مجھے علم نہیں ہے۔ ماتھے کی گولی شاید سجدے کا خراج تھا اور ہتھیلی کی گولی شاید رباب بجانے کا جرم‘۔

سائیں اب بھی کانسی روڈ کے اس نیم تاریک کمرے بیٹھا ہو گا۔ اس کے سامنے اخبارات اور رسالے دھرے ہوں گے۔ سائیں اخبارات میں سے کوئٹہ اور پارا چنار کے شہداء کی تصاویر کاٹ رہا ہو گا کیونکہ سائیں کو کتاب لکھنی ہے۔ سائیں سے اب رابطہ نہیں ہوتا۔ رابطہ ہو تو سائیں سے کہوں گا، ’سائیں! شہداءکی فہرست اب بہت طویل ہے۔ ایک کتاب میں نہیں سما سکتی۔ ویسے بھی گم نام شہیدوں کے نام تھوڑی لکھے جاتے ہیں؟ آپ بس ایک شہید کے نام کی جگہ سرخ قلم سے نقطہ لگاتے جائیں۔ کتاب مکمل ہو جائے گی۔ سرخ قلم زیادہ چلے گا تو کاغذ پر روشنائی پھیلے گی نہیں۔ نقطے خون کے قطروں جیسے محسوس نہیں ہوں گے۔ 

Facebook Comments HS

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 186 posts and counting.See all posts by zafarullah