باز محمد کاکڑ نے عید کی مبارک نہیں بھیجی

بلوچستان کا یہ واقعہ کوئی انوکھا اور پہلا نہیں کہ جس میں ایک منصوبے کے تحت ایک واقعے کے بعد لوگوں کو جمع کر کے ان کو پھر سے دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا ہو۔ اس سے پہلے بھی ہسپتالوں، جنازہ گاہوں اور قبرستانوں پر جمع ہونے والے لوگوں کو اپنے عزیزوں اور پیاروں کی میتوں پر گرا دیا گیا ہے۔ایسے ہی ایک اور واقعے میں علمدار روڑ کوئٹہ میں ایک اور سماجی کارکن اور انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والےنوجوان عرفان علی بھی بیسوں لاشوں میں سے ایک بن گئے تھے جو اپنے ہم وطنوں کے دکھ درد میں شریک ہونے کے لئے حال ہی میں امریکہ چھوڑ کر آگئے تھے۔ جب کوئی ایسا واقعہ ہوتا ہے تو باز محمد جیسے انسان دوست اور عرفان جیسے رضاکار فوراً مدد کے لئے پہنچ جاتے ہیں اور اسی جذبہ ایثار کو نفرت کے علبردار اپنی وحشت اور جنون کا نشانہ بناتے ہیں۔

ہماری حکومت ایسے کسی بھی واقعے کے بعد ایک رٹا رٹایا بیان ہر بار داغ دیتی ہے کہ ان واقعات میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے اور ایسا کرنے والے مسلمان نہیں ہو سکتے حالانکہ ان واقعات پر مختلف گروہوں کی جانب سے سامنے آنے والا رد عمل خود حکومتی بیانات کی نفی کر رہا ہوتا ہے۔ ہم سب یہ بات جانتے ہیں ایسے واقعات کا نشانہ بننے والا ایک مخصوص گروہ ہوتا ہے یا ایسے لوگ ہوتے ہیں جو ایک خاص فکر سے اتفاق نہیں کرتے۔ ایسے واقعات کے پیچھے ایک خاص سوچ اور فکر ہمیشہ کارفرما رہی ہے جس کو ہمارے ہاں ہی پروان چڑھایا گیا ہے۔ اس نخلستان نفرت کی آبیاری ہمارے اہل محراب و منبر ہی کرتے ہیں اور خوف و دہشت کے اس عفریت کی رگوں میں دوڑنے والا خون ہمارے دبستانوں کی قرطاس ایبض پر چلنے والے خامہ کی روشنائی ہی سے آتا ہے۔ پچھلی چار دھایئوں سے بوتل سے باہر آئے اس جن کی زندگی کا دارومدار اسی کشت و خون پر ہی ہے جو اس کے منہ کو لگا ہے۔
اس اندوہناک قتل و غارت گری کے پیچھے عقائد کی بنیاد پر پروان چڑھنے والا نفرت کا وہ پیغام ہے جو ہماری درسگاہوں، دبستانوں اور دانشگاہوں سے بلا روک ٹوک جاری و ساری ہے۔ اس نفرت کی کوئی حد نہیں جس کا نشانہ بننے ولا کسی ادارے میں نوکری کی امید سے آئے اہل و ناہل سے لیکر راہ چلتے مسافر تک کوئی بھی ہو سکتا ہے۔ مذہبی بنیاد پر نفرت کے پیغام کی ستم ظریفی یہ ہے کہ اس میں نفرت کو عبادت کا درجہ دیا جاتا ہے۔ نفرت کی جنگ میں ظلم اور جبر کو ایمان کا حصہ بنا دیا جاتا ہے۔ کسی کی جان لینے سے جنسی درندگی تک اور کسی کے مال کھانے سے لیکر لوٹ مار تک ہر قسم کے جرائم ایک مقدس مذہبی فریضہ بن جاتے ہیں۔ جب مخالف گروہ کے کسی فرد کی جان لینا گناہ نہیں بلکہ باعث افتخار ہو تو عام معمولات زندگی میں اس گروہ کے لوگوں کے ساتھ تعصب برتنا بھی معمول کا حصہ بن جاتا ہے۔ اقلیتوں کی لڑکیاں اغوا کرکے ان سے شادی اور مخالفین کی جائدادیں ہتھیانے کے لئے ان پر توہین مذہب کے الزامات کے واقعات اب کوئی نئی بات ہی نہیں۔
قرون وسطیٰ میں اپنے عقیدے کے علاوہ دیگر عقائد کو غلط ہی نہیں سمجھا جاتا تھا بلکہ ایسے عقائد رکھنے والوں سے جینے کا حق بھی چھیننا یورپ میں بھی ایک عام روش تھی جس پر اہل یورپ کو آج بھی شرمندگی ہے۔ تاریخ کے ان واقعات پراگر فخر ہو جن میں ہم مذہبوں نے مخالفین کو تہ تیغ کیا ہو تو ایسی کسی بات کو موجودہ حالات میں باعث شرمندگی نہیں سمجھا جاتا۔ مخالفین کے سروں کے مینار بنانا اور دشمن کی بیٹیوں کی نیلامی یا دشمنوں کو غلام بنا کر بیچ دینے پر فخر وہ اندھی تقلید ہے جس کی ہمارے ذاکرین، مفکرین، علما ء اور مشائخ دن رات ترویج میں مصروف ہیں تو اس کے نتائج گردنیں کاٹنے، بموں سے بر خچے اڑانے اور لاشوں کی بے حرمتی کے سوا کیا نکل سکتا ہے۔اگر اس نفرت کو ختم کرنا ہے تو سب سے پہلے نفرت کے اس نخلستان کی آبیاری کرنے والوں کا قلع قمع کرنا ہوگا۔جب تک نفرت کی ترویج رہے گی جب تک تکفیر کی تبلیغ رہے گی عید پر خوشیوں کے پیغامات بانٹنے والے کم ہوتے رہیں گے اگر اس سال باز محمد کا پیغام نہیں آیا ہے تو ہوسکتا ہے اگلے سال کی عید پر میں اور آپ میں سے بھی کسی کا پیغام نہ آئے۔

