کیا ضرورت ہے ایمبولینس کو رستہ دینے کی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایمبولینس کو راستہ دیں۔ اس میں آپ کا کوئی پیارا بھی ہو سکتا ہے۔ ٹریفک میں ایمبولینس کے ساتھ تعاون کے لئے ہماری کیا ذمہ داری بنتی ہے؟ یہ بات ہمیں سب سے پہلے حکمرانوں کو سمجھانی ہے۔ اشرافیہ کو سمجھانی ہے جس کی رعونت کے سبب مریض ایمبولینس میں مرتے ہیں۔ عورتیں رکشے میں بچے جنم دیتی ہیں جس پر ملک کا ایک وزیرِ اعظم کہتا ہے جس نے دنیا میں آنا ہو آجاتا ہے چاہے رکشہ ہی کیوں نہ ہو۔

عمومی تاثر یہ ہے کہ عوام ایمبولینس کو راستہ نہیں دیتے۔ نہیں حضور عوام سب سے پہلے راستہ دیتے ہیں۔ یہ خواص ہیں جو انسانیت سے عاری ہیں۔ ایمبولینس کے سائرن کی آواز ان کے کانوں پر گراں گذرتی ہے۔ ان ہی کے لئے سڑکیں اور شاہراہیں بند کروائی جاتی ہیں۔ ٹریفک پولیس کو ہدایت پہلے سے دی ہوئی ہوتی ہے کہ جب تک ظل الہی کی سواری گذر نہ جائے راستہ بند رکھا جائے۔ بھلے ایمبولینس میں کوئی مر جائے پر راستہ نہیں کھولنا۔ اس قوم کو کیا آپ کیا سکھائیں گے؟

جس ملک میں گاڑیوں کے مخصوص نمبر بولی لگا کر نیلام کئے جائیں اور خریدنے والا وی آئی پی نمبر کروڑوں کی قیمت لگا کر حاصل کرے وہ کیسے راستہ دے گا ایمبولینس کو؟ جس ملک کے مسیحا ایک خاکروب کو یہ کہہ کر ہاتھ تک نہ لگائیں کہ یہ گندا ہے اور و ہ بیچارہ ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر جائے۔ جس ملک میں سیاستدان اپنی لینڈ کروزر سے ٹریفک کانسٹیبل کو کاکروچ کی طرح کچلنا اپنا موروثی حق سمجھیں اس ملک میں کون اس بات پر کان دھرے گا کہ ایمبولینس کو راستہ دیں۔ اس میں آپ کا کوئی پیارا بھی ہو سکتا ہے۔ ٹریفک میں ایمبولینس کے ساتھ تعاون کیلئے ہماری کیا ذمہ داری بنتی ہے؟

جس ملک میں لال بتی پر نہ رکنے پر تین سو روپے جرمانہ ہو اور دینے والا تین ہزار وارڈن کے ہاتھ پر رکھ کر یہ کہے کہ لو اگلی دس خلاف ورزیوں کا پیشگی جرمانہ جو میں کرنے جا رہا ہوں! کیا تعلیم دیں گے آپ ایسے فرعونوں کو کہ ایمبولینس کو راستہ دیں۔ اس میں آپ کا کوئی پیارا بھی ہو سکتا ہے!

جس ملک میں مولوی لاوڈ اسپیکر پر صبح سے رات تک شور کرے۔ لوگوں کو سونے نہ دے کیسے آپ اس کی خدمات حاصل کریں گے کہ مولانا جمعے کی نماز میں ذرا اس بات کا تو پرچار کریں کہ ایمبولینس کو راستہ دیں۔ اس میں آپ کا کوئی پیارا بھی ہو سکتا ہے۔ ٹریفک میں ایمبولینس کے ساتھ تعاون کیلئے ہماری کیا ذمہ داری بنتی ہے؟

جس ملک میں فٹ پاتھوں پر دکان داروں کا قبضہ ہو گیا ہو۔ جس کسی کا بھی دل کرے کسی بھی جگہ شامیانے قناتیں لگا کر ولیمہ کرے یا نعت خوانی کا مقابلہ منعقد کروا دے ایسی قوم کو کیا لینا دینا ایمبولینس میں موجود موت سے لڑتے مریض کے حقوق سے!

ایمبولینس کو راستہ مل بھی گیا تو بھی کوئی ضمانت نہیں کہ بیمار کی جان بچ جائے گی۔ ہو سکتا ہے ڈاکٹروں کی ہڑتال ہو۔ ہو سکتا ہے جان بچانے والی ادوایات یا انجیکشن ہی نہ ہوں۔ ہو سکتا ہے لوڈ شیڈنگ ہوئی ہو اور جنریٹر میں ڈیزل بھی نہ ہو۔ سرکاری ہسپتالوں میں تو ایسا ہی ہوتا ہے۔ ارے بھائی جس قوم کو یقین ہو کہ اصل زندگی تو مرنے کے بعد شروع ہوتی ہے وہاں کس کو یہ احساس دلائیں گے کہ ایمبولینس کو راستہ دینا چاہیے کیونکہ ہو سکتا ہے آپ کا کوئی چاچا یا ماما ہی ہسپتال جا رہا ہو۔ ہم نے تو اس قوم کے کچھ ڈرائیوروں کو ایمبولینس سے بھی ریس لگاتے دیکھا ہے!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

محمد شہزاد

شہزاد اسلام آباد میں مقیم لکھاری ہیں۔ ان سے facebook.com/writershehzad پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

muhammad-shahzad has 40 posts and counting.See all posts by muhammad-shahzad