ایک زاہدہ، ایک فاحشہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جاوید کے باپ کی ایک کار تھی۔ بے بی آسٹن ، خدا معلوم کس صدی کا موڈل تھا زیادہ تر یہ جاوید ہی کے استعمال میں آتی تھی۔ لارنس گارڈن میں داخل ہوتے وقت یہ عجوبۂ روزگار موٹر دیکھ لی تھی۔ میں نے اُس سے کہا ’’ آؤ بیٹھ جائیں ‘‘

لیکن وہ رضا مند نہ ہوا مجھ سے کہنے لگا ’’ تم ایسا کرو باہر گیٹ پر جاؤ ایک تانگہ آئے گا جس میں ایک دبلی پتلی لڑکی سیاہ برقع پہنے ہوگی تم تانگے والے کو ٹھہرا لینا اور اُس سے کہنا جاوید کا دوست سعادت ہوں اُس نے مجھے تمہارے استقبال کے لیے بھیجا ہے۔‘‘

نہیں جاوید مجھ میں اتنی جرأت نہیں‘‘

’’ لاحول ولا جب تم نام بتا دو گے تو اُسے چوں کرنے کی بھی جرأت نہیں ہوگی تمہاری جرأت کا سوال ہی کہاں پیدا ہوتا ہے یار، زندگی میں کوئی نہ کوئی ایسی چیز ہونی چاہیے جسے بعد میں یاد کر کے آدمی محظوظ ہوسکے جب زاہدہ سے میری شادی ہو جائے گی تو ہم آج کے اس واقعے کو یاد کر کے خوب ہنسا کریں گے جاؤ میرے بھائی وہ بس اب آتی ہی ہوگی‘‘

میں جاوید کا کہنا کیسے موڑ سکتا تھا۔ بادل نخواستہ چلا گیا اور گیٹ سے کچھ دُور کھڑا رہ کر اُس تانگے کا انتظار کرنے لگا جس میں زاہدہ اکیلی کالے برقعے میں ہو۔

آدھے گھنٹے کے بعد ایک تانگہ اندر داخل ہوا جس میں ایک لڑکی کالے ریشمی برقعے میں ملبوس پچھلی نشست پر ٹانگیں پھیلائے بیٹھی تھی۔

میں جھینپتا ، سمٹتا ڈرتا آگے بڑھا اور تانگے والے کو روکا اُس نے فوراً اپنا تانگہ روک لیا میں نے اُس سے کہا یہ سواری کہاں سے آئی ہے ‘‘

تانگے والے نے ذرا سختی سے جواب دیا ’’ تمھیں اس سے کیا مطلب جاؤ اپنا کام کرو ‘‘

برقع پوش لڑکی نے مہین سے آواز میں تانگے والے کو ڈانٹا ’’ تم شریف آدمیوں سے بات کرنا بھی نہیں جانتے ‘‘

پھر وہ مجھ سے مخاطب ہوئی آپ نے تانگہ کیوں روکا تھا جناب‘‘

میں نے ہلکا کے جواب دیا ’’ جاوید جاوید میں جاوید کا دوست سعادت ہوں آپ کا نام زاہدہ ہے نا۔ ‘‘

اُس نے بڑی نرمی سے جواب دیا جی ہاں! میں آپ کے متعلق ان سے بہت سی باتیں سن چکی ہوں

اُس نے مجھ سے کہا تھا کہ میں آپ سے اسی طرح ملوں اور دیکھوں کہ آپ مجھ سے کس طرح پیش آتی ہیں وہ اُدھر جم خانہ کلب کے پاس گھاس کے تختے پر بیٹھا آپ کا انتظار کر رہا ہے ‘‘

اُس نے اپنی نقاب اُٹھائی اچھی خاصی شکل صورت تھی مسکرا کر مجھ سے کہا ’’ آپ اگلی نشست پر بیٹھ جائیے مجھے ایک ضروری کام ہے ابھی چند منٹوں میں لوٹ آئیں گے آپ کے دوست کو زیادہ دیر تک گھاس پر نہیں بیٹھنا پڑے گا۔

میں انکار نہیں کرسکتا تھا۔ اگلی نشست پر کوچوان کے ساتھ بیٹھ گیا تانگہ اسمبلی ہال کے پاس سے گزرا تو میں نے تانگے والے سے کہا ’’ بھائی صاحب یہاں کوئی سگرٹ والے کی دُکان ہو تو ذرا دیر کے لیے ٹھہر جانا میرے سگریٹ ختم ہوگئے ہیں۔

ذرا آگے بڑھے تو سڑک پر ایک سگریٹ پان والا بیٹھا تھا۔ تانگے والے نے اپنا تانگہ روکا۔ میں اُترا۔ تو زاہدہ نے کہا آپ کیوں تکلیف کرتے ہیں یہ تانگے والا لے آئے گا۔ ‘‘

میں نے کہا ’’ اس میں تکلیف کی کیا بات ہے ’’ اور اُس پان سگریٹ والے کے پاس پہنچ گیا ایک ڈبیہ گولڈ فلیک کی لی ایک ماچس اور دو پان جب پانچ کے نوٹ سے باقی پیسے لے کر مڑا تو کوچوان میرے پیچھے کھڑا تھا اُس نے دبی زبان میں مجھ سے کہا حضور اس عورت سے بچ کے رہیے گا۔ ‘‘

میں بڑا حیران ہوا’’ کیوں ؟‘‘

کوچوان نے بڑے وثوق سے کہا ’’ فاحشہ ہے اس کا کام ہی یہی ہے کہ شریف اور نوجوان لڑکوں کو پھانستی رہے میرے تانگے میں اکثر بیٹھتی ہے۔ ‘‘

یہ سُن کر میرے اوسان خطا ہوگئے میں نے تانگے والے سے کہا ’’خدا کے لیے تم اسے وہیں چھوڑ آؤ جہاں سے لائے ہو کہہ دینا کہ میں اس کے ساتھ جانا نہیں چاہتا اس لیے کہ میرا دوست وہاں لارنس گارڈن میں انتظار کررہا ہے‘‘

تانگے والا چلا گیا معلوم نہیں اُس نے زاہدہ سے کیا کہا میں نے ایک دوسرا تانگہ لیا اور سیدھا لارنس گارڈن پہنچا، دیکھا جاوید ایک خوبصورت لڑکی سے محو گفتگو ہے۔ بڑی شرمیلی اور لجیلی تھی میں جب پاس آیا تو اُس نے فوراً اپنے دوپٹہ سے منہ چھپا لیا۔

جاوید نے بڑی خفگی آمیز لہجے میں مجھ سے کہا تم کہاں غارت ہوگئے تھے تمہاری بھابی کب کی آئی بیٹھی ہیں۔ ‘‘

سمجھ میں نہ آیا کیا کہوں سخت بوکھلا گیا اس بوکھلاہٹ میں یہ کہہ گیا ’’ تو وہ کون تھیں جو مجھے تانگے میں ملیں؟‘‘

جاوید ہنسا مذاق نہ کرو مجھ سے بیٹھ جاؤ اور اپنی بھابی سے باتیں کرو یہ تم سے ملنے کی بہت مشتاق تھیں۔ ‘‘

میں بیٹھ گیا اور کوئی سلیقے کی بات نہ کرسکا اس لیے کہ میرے دل و دماغ پر وہ لڑکی یا عورت مسلط ہوگئی تھی جس کے متعلق تانگے والے نے مجھے بڑے خلوص سے بتا دیا تھا کہ فاحشہ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •