مزاحیہ شاعری پر فی الفور پابندی لگائی جائے!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ سن کر دکھ ہوا کہ پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) نے جواد حسین جواد نامی شاعر پر عمر بھر کے لئے پابندی عائد کر دی ہے کیونکہ اس نے ٹی وی کے ایک مزاحیہ مشاعرے میں ایسے اشعار پڑھے جو ہمارے پشتون بھائیوں کو پسند نہیں آئے۔

ہمیں ان صاحب کے بارے میں کوئی علم نہیں۔ جو بھی پتہ چلا سماجی رابطوں کی ویب سائیٹس سے! قریب دس سال قبل ہم نے اپنے گھر سے ٹی وی اٹھا کر کوڑے میں پھینک دیاتھا۔ وجہ یہ کہ پرائیویٹ ٹی وی چینلز کی چوبیس گھنٹے کی جہالت کی تبلیغ سے خود کو اور بچوں سے دور رکھا جائے۔ حالات سے باخبر اخبارات اور انٹرنیٹ کے ذریعے رکھا جا سکتا ہے۔

انتہائی قابل احترام پشتون بھائیوں نے جواد کے خلاف سماجی رابطوں کی ویب سائیٹس پر احتجاج کیا جس کے نتیجے میں ٹی وی نے مذکورہ بالا پابندی عائد کردی جو ہماری عاجزانہ رائے میں کوئی دانش مندانہ قدم نہیں تھا۔

مشاعرہ مزاحیہ تھا۔ ہر شعر پر واہ واہ کے نعرے بلند ہو رہے تھے۔ اشعار میں کچھ بھی ایسے نہ تھے جو ہمارے لئے نئے ہوں۔ ہر مزاحیہ شاعر نے کسی نی کسی پر فقرے کسے ہیں۔ جگتیں ماری ہیں۔ اکبر اللہ آبادی نے کیا جدید تعلیم اور عورتوں کی آزادی پر اشعار نہیں کسے کیا؟

جس قسم کی زبان ہمارے پشتون سیاستدان عورتوں کے خلاف ٹی وی پر استعمال کرتے ہیں کیا وہ پشتون بھائیوں کے لئے قابلِ فخر ہیں؟ جس قسم کا پھکڑ پن ہمارے سٹیج ڈراموں پر ہوتا ہے کیا جواد کی شاعری اس سے بھی گئی گذری تھی؟ کیا دنیا کی دیگر قوموں کے حوالے سے لطائف ، واقعات یا حکایات نہیں ؟ جو گھٹیا اور بازاری زبان کل اسحاق ڈار نے استعمال کی اس کے مقابلے میں جواد کی مزاحیہ شاعری تو انتہائی شستہ محسوس ہوتی ہے۔ جو فقرے وزیرِدفاع خواجہ آصف خواتین کے بارے میں کستا ہے اس سے تو جواد کی شاعری کہیں بہتر اور تہذیب کے دائرے میں ہے۔ حضور معاشرے کی سوچ بدلیے۔ ایک جواد نامی شاعر پر پابندی مسئلے کا حل نہیں۔ اس کے علاوہ ہر چیز کو مغرب سے مستعار لئے گئے نظریات مثلاً genderیا racismکی عینک سے دیکھنے سے باقی سب چیزوں کی روایات بدلنی پڑیں گی۔ نام نہادخواتین جینڈر سپیشلسٹ کے نزدیک تو غالب واجب القتل ٹہرے گا۔ ساری قوم میں برداشت کا مادہ ختم ہو رہا ہے۔ انتہا پسندی جنم لے رہی ہے۔ حس مزاح اس حد تک غائب ہو چکی ہے کہ ایک شاعر کے مزاحیہ کلام سے عزت پر حرف آنے لگ گیا۔ مزاحیہ شاعری پر ہی پابندی لگا دینی چاہیے۔ نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

محمد شہزاد

شہزاد اسلام آباد میں مقیم لکھاری ہیں۔ ان سے facebook.com/writershehzad پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

muhammad-shahzad has 40 posts and counting.See all posts by muhammad-shahzad