دادی کی شادی


میں بالٹی مور شہر کے ایک کلینک میں کبھی کبھار کام کرتی ہوں۔ اس کلینک میں ایک ہنس مکھ ریسپشنٹ، نینسی بھی کام کرتی ہے جس کی عمر 70کے لگ بھگ ہے اور ابھی تک ریٹائر نہیں ہوئی۔ ایک روز کلینک میں اتنی بھیڑ نہیں تھی۔ لہٰذا ہمیں آپس میں باتیں کرنے کا موقع مل گیا۔ نینسی مجھے بتانے لگی کہ اس کی پچھلے سال دوسری شادی ہوئی ہے۔ پھر وہ مجھے بڑے شوق سے اپنی دوسری شادی کی البم دکھانے لگی۔ اس کا دولہا راجر اس سے عمر میں 5 سال بڑا تھا اور دیکھنے میں بہت ہینڈ سم لگتا تھا۔ یہ راجر کی بھی دوسری شادی تھی۔ اس کی پہلی بیوی کا چار سال پہلے کینسر سے انتقال ہو گیا تھا۔ نینسی کی شادی اس کے بھائی کے گھر ہوئی۔ اس گھر کو شادی کے روز نینسی کے نواسوں اور پوتوں نے بڑی خوبصورتی سے سجایا۔ گھر کے دروازے سے لے کر لان تک بانسوں کے دروازے بنائے گئے۔ اور اس کے گرد پھولوں کی بنی بیلیں لپیٹی گئیں۔ دلہن کا میک اپ اس کی ایک نواسی نے کیا جو کہ بیوٹی پارلر کا کورس کر چکی ہے۔ کھانے کا انتظام دولہا کے بچوں نے کیا۔ کیک کے سجانے کا کام دولہا کی نواسی کے سپرد تھا۔ جب نینسی مجھے اپنی البم دکھا رہی تھی تو خوشی سے اس کا چہرہ دمک رہا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ اس کے بچوں کو اس کی شادی پر کوئی اعتراض تو نہیں ہوا تو وہ بولی کہ اس کے بچے بھی اس کی خوشی میں خوش ہیں۔ نینسی کی پہلی شادی اچھی نہیں رہی تھی اس کے شوہر کو شراب پینے کی لت تھی اور وہ اکثر نشے میں دھت رہتا تھا جس کی وجہ سے وہ کوئی خاص کام بھی نہیں کرسکتا تھا۔ نینسی نے بچوں کے بڑے ہونے کے بعد اس سے طلاق لے لی۔ یہ بیس سال پہلے کا قصہ ہے۔

تین سال پہلے نینسی کی راجر سے ملاقات ہوئی جو اپنے کام کے سلسلے میں کلینک آیا۔ پہلے تو ان کی دوستی ہوئی جو محبت میں بدل گئی اور پھر دونوں نے شادی کے بندھن میں بندھنے کا عہد کر لیا۔ امریکہ میں بھی ماں باپ کی شادیوں پر بعض بچے اعتراض کرتے ہیں۔ خاص طور پر اگر انہیں لگے کہ باپ یا ماں نے اچھی بیوی یا شوہر کا انتخاب نہیں کیا۔ اس کے علاوہ کچھ بچوں کی نظریں اپنے ماں باپ کی جائیداد پر ہوتی ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ جائیداد کا حصہ کسی اور کو بھی ملے۔ مگر یہ مخالفت صرف برا بھلا کہنے کی صورت میں ہی ہوتی ہے۔ اگر ماں باپ اس مخالفت کے باوجود شادی کرنے پر اڑے رہیں تو بچے سوائے جائیداد کے جانے کے افسوس سے ہاتھ ملنے کے علاوہ کچھ نہیں کرسکتے۔ نینسی اس لحاظ سے خوش قسمت ہے کہ اس کی شادی پر کسی بچے کو اعتراض نہیں ہوا۔ اس کے بچے اس کے گھر کے پاس ہی رہتے ہیں اور اس کی اپنے پوتے، پوتیوں اور نواسوں سے ملاقات ہوتی رہتی ہے۔ اور وہ باقاعدگی سے چرچ بھی جاتی ہے۔ اور ضرورت پڑنے پر دوسرے چرچ جانے والوں کی مدد بھی کرتی ہے۔ اس کے علاوہ وہ اپنی ہم عمر سہیلیوں سے بھی مہینے میں ایک دوبار ضرور ملتی ہے۔ یہ سارا کچھ وہ ہفتے میں 40 گھنٹے کام کرنے کے علاوہ کرتی ہے۔

نینسی کی شادی کا سن کر مجھے اپنے گاؤں کی نور نشا ء یاد آگئی جب نور نشاء کے خاوند کا انتقال ہوا تو وہ صرف 40 سال کی تھی۔ بیوگی کے کچھ سال کے بعد جب اس نے دوسری شادی کا اظہار کیا تو اس کے بھائی اور 15 سالہ بیٹے نے شدید مخالفت کی۔ وہ کہنے لگے کہ نور نشاء کو ان کے ہوتے ہوئے شادی کی کیا ضرورت ہے۔ وہ اپنی بہن اور ماں کی مالی ضروریات کو بہت اچھے طریقے سے پوری کر سکتے ہیں۔ پھر مجھے دلو ماسی بھی یاد آئی جو جوانی میں بیوہ ہوگئی تھی۔ اس کے بچوں کی شادیاں ہونے کے بعد دلو ماسی کے لئے بھی اس کے ایک ہم عمر ہمسائے کا رشتہ آیا۔ یہ بات سارے محلے میں مشہور ہو گئی اور کئی عرصہ تک لوگوں کی تفریح طبع کا باعث بنی۔ لوگوں کی ہنسی اس تصور سے ہی نہیں رکتی تھی کہ دلو ماسی کی بھی بارات آئے گی اور اس کی پوتی اسے مہندی لگائے گی اور اس کی نواسی اس کے منہ پر میک اپ کرے گی۔ ایسی باتوں سے دلو ماسی اور نور نشاء کی شادیوں کی بات آئی گئی ہو گئی اور ان کی باراتوں کے خواب ادھورے رہ گئے۔

پاکستان میں بڑی عمرکے مردوں کی جوان لڑکیوں سے شادی کرنا توعام سننے میں ملتا ہے مگر نینسی اور راجر جیسے دو بڑی عمر کے لوگوں کے رشتہ ء ازدواج میں بندھنے کے قصے شاذو نادر ہی سننے کو ملتے ہیں۔ اس لیے مجھے سات اپریل 2011ء کی پاکستانی اخبار میں ایک خبر پڑھ کر حیرت ہوئی۔ یہ خبر بھوآنہ کے قریب گاؤں رکسالکی کے 84 سالہ اسلم اور 76 سالہ بانو کی شادی کی ہے۔ دولہا اور دلہن کی تصویر بھی اس خبر کے ساتھ چھپی ہے۔ اسلم کی بیس سال پہلے پہلی بیوی فوت ہو چکی ہے اوربانو نو دس سال سے بیوہ ہے۔ دونوں ایک دوسرے کو بچپن سے جانتے ہیں۔ اسلم بانو کا رشتہ لینے اس کے بچوں کے پاس گیا۔ دونوں کے بچوں نے اس کی شادی کی اجازت دیدی۔ اسلم کے ساتھ بچے بارات لے کر بانو کے گھر آئے اور بانو کے بچوں نے بارات کو خوش آمدید کہا۔ رکسالکی گاؤں کے سارے لوگوں نے اس شادی کا جشن منایا۔ اس خبر کو پڑھ کر لگا کہ کم از کم رکسالکی میں تو یہ احساس پیدا ہو گیا ہے کہ بڑی عمر کے لوگوں کی بھی لائف ہے۔ انہیں بھی اس عمر میں دکھ سکھ کے ایک ساتھی کی ضرورت ہوتی ہے اور اپنے ہم عمر شوہر اوربیوی سے زیادہ ایک دوسرے کو اور کون سمجھ سکتا ہے۔ ہمارے ذہنوں میں دلہن، دولہا کا تصورنو جوان لڑکی، لڑکے کا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ اب اس تصور کو وسیع کر کے بالٹی مور کے راجر اور نینسی اور بھوآنہ کے بانو اور اسلم کو بھی شامل کرنے پڑے گا۔ بالٹی مور کی نینسی کو تو میں نے شادی کی مبارک باد دے دی تھی اب بھوآنہ کی بانو اور اسلم کو بھی شادی کی مبارک ہو۔ االلہ جوڑی سلامت رکھے اور دودھوں نہائیں اور پوتوں پھلیں۔

پس تحریر: یہ کالم میں نے 2011ء میں لکھا تھا جسے اب ہم سب کے قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔ اس کالم کے لکھنے بعد میں نے ایک دوبار اخبار میں بڑی عمر کے جوڑوں کی شادی کی خبر پڑھی ہے۔ لگتا ہے ایسی شادیاں اکا دکا ہو رہی ہیں مگر ابھی بھی ان کو غیر معمولی بات سمجھ کر اخبار میں خبر لگائی جاتی ہے۔ میں اس کو بھی خوش آئند سمجھتی ہوں کہ اس سے بھی معاشرے میں شعور پیدا ہوتا ہے اور دوسروں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر غزالہ قاضی

Dr. Ghazala Kazi practices Occupational Medicine (work related injuries and illnesses) in USA. She also has a master’s degree in Epidemiology and Preventive Medicine.

dr-ghazala-kazi has 36 posts and counting.See all posts by dr-ghazala-kazi