ضیا آمریت کا پہلا روز: کچھ ذاتی مشاہدات

ظاہر ہے کہ حسب سابق اس مرتبہ بھی جرنیلوں نے تمام انتظامات پہلے مکمل کر رکھے تھے۔ سب سے پہلے فیڈرل سیکیورٹی فورس پر جو جدید اسلحہ سے لیس تھی، حملہ ہوا۔ چاروں طرف سے ناکہ بندی کر کے اس کے تمام اسلحہ خانوں، گاڑیوں، دفتروں اور بارکوں پر قبضہ کر لیا گیا۔ ڈائریکٹر جنرل مسعود محمود نے مزاحمت کرنے کی کوشش کی۔ یہ کوشش اتنی ہی تھی کہ جب اس کے گھر پر چھاپہ مار فوجی افسران پہنچے تو اس نے اپنے کمرے کا دروازہ کھولنے سے انکار کر دیا اور مجھے ایس او ایس ٹیلیفون کرنے شروع کر دئیے۔ اس صورت میں نہ تو میں کچھ کر سکتا تھا اور نہ ہی مسعود محمود۔ بہرحال میں نے اسے جنرل غلام جیلانی سے گفتگو کا حوالہ دے کر سمجھایا کہ مزاحمت کرنا بے سود اور ہو سکتا ہے نقصان دہ بھی ہو۔ مسعود محمود کو تسلی نہ ہوئی۔ تب میں خود اس کے گھر جو قریب ہی تھا چلا گیا۔ پھاٹک کے پاس اس کی بیوی اور دونوں بچے کھڑے تھے۔ مسعود محمود کو فوجی افسران دروازہ توڑ کر لے جا چکے تھے۔ میں نے مسعود محمود کی بیوی کو مناسب الفاظ میں تسلی دی اور بچوں کو حوصلہ بھی دیا۔ اگلے روز بڑے بچے کا میٹرک کا امتحان تھا۔ دیگر افسران بشمول ڈائریکٹر انٹیلی جینس سول، سیکرٹری وزیر اعظم، سیکرٹری کیبنیٹ، ڈی جی ایف آئی اے جو سابقہ ڈی جی انٹیلی جنس تھا، سب گرفتار ہو کر جی ایچ کیو اور وہاں سے مختلف مقامات پر پہنچا دئیے گئے جہاں ان سے تفصیلی پوچھ گچھ ہونی تھی۔

چیف جسٹس نے مشورہ دیا کہ اولا آئین کو بالکل نہ چھیڑا جائے، دوئم کوئی فوج عدالتیں نہ قائم کی جائیں، سوئم صدر پاکستان کو اپنے عہدے پر برقرار رکھا جائے، چہارم مارشل لا کی انتظامیہ سوائے امن برقرار رکھنے کے، بقیہ نظام حکومت میں دخل انداز نہ ہو اور اپنے مقرر کردہ نوے دن کے عرصے کے بعد اختیارات واپس سول انتظامیہ کو لوٹا کر مارشل لا ختم کر دے۔ اور فوج واپس اپنی بیرکوں میں چلی جائے۔ علاوہ بریں اگر اس نوے دن کے دوران کوئی فرد یا جماعت مارشل لا کو سپریم کورٹ میں چیلینج کرتی ہے تو یہ عدالت اپنے سابقہ فیصلے (عاصمہ جیلانی کیس) کی پابند ہے۔ جنرل ضیاالحق نے چیف جسٹس کو یقین دلایا کہ ان تمام مشوروں پر مارشل لا انتظامیہ سختی سے کاربند رہے گی۔ چیف جسٹس نے اس تمام گفتگو کو من و عن ریکارڈ کیا اور اس کی ایک ایک کاپی سپریم کورٹ کے ہر جج کو روانہ کر دی۔ اور ایک کاپی سپریم کورٹ کے ریکارڈ میں محفوظ کر دی۔
جنرل ضیا الحق اور جسٹس سپریم کورٹ کے درمیان یہ گفتگو صبح دس بجے کے قریب ہوئی، اس کے فورا بعد مجھے ٹیلیفون آیا۔ آواز جنرل ضیاالحق کی تھی۔ میں نے عرض کیا حکم دیں۔ بارہ بجے کا وقت طے ہوا اور میں جی ایچ کیو ٹھیک وقت پر پہنچ گیا۔ مجھے دیکھتے ہی چیف مارشل لا ایڈمینیسٹریٹر نے اپنا دایاں ہاتھ سینے پر رکھا اور کہا یہ اقدام میں نے نہایت ہی مجبوری اور دکھ سے کیا ہے۔ مزید کہا کہ میرا کوئی ارادہ اپنے آپ کو سول انتظامیہ کے بکھیڑوں میں ڈالنے کا نہیں ہے۔ میرا اپنا فوج کا کام ہی مجھے ہمہ وقت مصروف رکھتا ہے لہذا وزارت داخلہ کا سب کام میں خود ہی کرتا رہوں۔
پھر مجھ سے دریافت کیا کہ مارشل لا کے متعلق عوام کا کیا رد عمل ہو گا۔ میں نے جواب دیا کہ یہ پہلا مارشل لا تو ہے نہیں اس لیے عوام کا ردعمل بڑا سلجھا ہوا ہو گا۔ وہ یہ جاننا چاہیں گے کہ اس کا جواز کیا ہے، یہ کب تک رہے گا اور ملک کے آئین کے ساتھ مارشل لا انتظامیہ کیا سلوک کرے گی۔ انہوں نے بڑے اعتماد اور اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ کہا کہ میں اور میرے رفقا ان تمام باتوں کے متعلق پورے اتفاق رائے سے نہایت واضح موقف رکھتے ہیں۔ مارشل لا لگانے کا مقصد حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان کشیدگی کی فضا کو خوشگوار بنانا ہے۔ اس مقصد کے لیے تین ماہ کا عرصہ مقرر ہے اور اس عرصے میں ایک دن کا بھی اضافہ نہیں ہو گا۔ آئین کو ہرگز نہیں چھیڑا جائے گا صرف تین ماہ کے لیے معطل کیا جائے گا تاکہ امن عامہ برقرار رکھنے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔ چودھری فضل الہی بدستور پاکستان کے صدر رہیں گے۔ میں نے عرض کیا کہ اس صورت میں عوام کا ردعمل مخالفانہ نہیں ہو گا اور یہ بھی ممکن ہے کہ بہت سے لوگ اسے اطمینان کا باعث سمجھیں۔
بحوالہ: مارشل لا کا سیاسی انداز

