امت مسلمہ کو کوڑی کوڑی کا محتاج بنا دینے والی بھیانک مغربی سازش


یہ بات تو ہم جانتے ہی ہیں کہ امت مسلمہ کے خلاف یہود و ہنود مسلسل سازشیں کرتے ہیں کہ کہیں یہ ٹوٹا ہوا تارہ مہ کامل نہ بن جائے۔ مگر خدا بھی کفار کی چالیں انہی پر الٹ دیتا ہے۔ جب تین براعظموں پر پھیلی خلافت عثمانیہ کو مغربیوں نے اپنی سازشوں اور عربوں کی غداری کے ذریعے تباہ کیا تو ان کا خیال تھا کہ اب مسلمان بھوکے مریں گے۔ نہ ان کے پاس علم ہے، نہ صنعت و حرفت اور نہ ہی تجارت، اب روٹی کے ٹکڑے ٹکڑے کو محتاج ہو کر یہ مغرب کی غلامی کریں گے۔ مگر خدا کی قدرت کہ بے آب و گیاہ ریتلے صحرا کے نیچے تیل کے سوتے پھوٹ پڑے۔

اس پر اہل مغرب نے نئی سازش کی اور اسرائیل نامی ملک بنا ڈالا۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ دنیا بھر کی یہودی دولت اور اقتدار سے لڑ لڑ کر امت مسلمہ اپنی تیل کی دولت جنگ و جدل میں خرچ کرتی رہے اور پائی پائی کو محتاج ہو جائے۔ مگر ہوا کیا؟ 1973 کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد جب امت کے بطل جلیل شاہ فیصل شہید نے تیل کا بحران پیدا کیا تو وہی تیل جو کوڑیوں کے بھاؤ بکتا تھا، سونے سے بھی زیادہ مہنگا ہو گیا اور برادر اسلامی ملک پہلے سے کئی گنا زیادہ امیر ہو گئے۔

لیکن جگر تھام کر سنیے کہ اب یہود و ہنود نے امت مسلمہ کی اس امارت پر کاری ضرب لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے پچاس برس سر کھپانے کے بعد امت مسلمہ کے تیل کو کھارے پانی جیسا بیکار بنانے کا بھیانک منصوبہ تیار کر لیا ہے۔

فرانس نے اعلان کیا ہے کہ محض تئیس برس بعد یعنی 2040 میں اس کے ملک میں پیٹرول اور ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں پر مکمل پابندی عائد کر دی جائے گی۔ فرانسیسی شہریوں کو حکومت پیسے دے گی کہ وہ اپنی پیٹرول سے چلنے والی گاڑیوں کے بدلے بجلی سے چلنے والی نئی گاڑیاں خرید لیں۔ ہالینڈ اور ناروے پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ وہ 2025 تک پیٹرول اور ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں سے چھٹکارا پا لیں گے۔ جرمنی اور ہندوستان نے 2030 تک ایسا کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ یعنی ساری دنیا ہی امت مسلمہ کے خلاف اس صیہونی سازش میں شریک ہو چکی ہے۔

یاد رہے کہ اہل مغرب ان دنوں حیرت انگیز ایجادات کر رہے ہیں۔ امریکہ کے ہارپ نامی اس نہایت خفیہ ہتھیار کا ذکر تو آپ سن چکے ہوں گے جس کے ذریعے وہ کسی بھی ملک میں زلزلے اور سیلاب لا سکتا ہے۔ پاکستان میں آنے والے حالیہ خوفناک زلزلے اور سیلاب اسی ہتھیار کے تجربے کا نتیجہ کہے جاتے ہیں اور نصرت مرزا صاحب جیسے جید صحافی 2010 میں اپنے روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والے کالموں میں پاکستان پر ہونے والے اس امریکی حملے کی تصدیق کر چکے ہیں۔ ان ایجادات کا مقصد صرف امت مسلمہ کے خلاف تباہ کن حملے ہیں۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ کوئلے، ڈیزل، گیس اور پیٹرول وغیرہ کا مغربی ممالک بائیکاٹ کر رہے ہیں تو بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کے لئے وہ بجلی کہاں سے لائیں گے جبکہ فرانس کوئلے اور ایٹمی طاقت سے چلنے والے بجلی گھروں پر پابندی لگانے کی پالیسی بھی بنا چکا ہے۔ اب اندازہ ہو رہا ہے کہ اس نے توانائی پیدا کرنے کے ضمن میں بھی کوئی اہم ایجاد کر لی ہے۔ ہمارے خدشے کے مطابق یہودیوں نے ممتاز پاکستانی سائنسدان آغا وقار صاحب کی واٹر کٹ ٹیکنالوجی چوری کر لی ہے اور یوں تیلی مسلم ممالک پر شدید معاشی حملہ کرنا ممکن ہو گیا ہے۔

جب ساری دنیا ہی پیٹرول کی بجائے بجلی اور پانی سے چلنے والی گاڑیاں بنا رہی ہو گی تو مشرق وسطی کی مقدس سرزمین تلے موجود تیل کا سمندر اتنا ہی بیکار ہو گا جتنا کہ کھارا پانی ہوتا ہے۔ مشرق وسطی کے مال و زر سے لدے عرب ممالک جو امت کو تبلیغ اور جہاد کے لئے ہتھیار خریدنے کے لئے پیسے فراہم کرتے ہیں، اب خود کوڑی کوڑی کو اسی طرح محتاج ہو جائیں گے جیسے ہم انہیں 1950 سے پہلے دیکھتے تھے۔ پرانی کتابوں میں لکھا ہے کہ اس وقت تک عرب فقرا ہندوستان اور پاکستان میں بھیک مانگنے آیا کرتے تھے۔

جگر تھام کر سنیے کہ اگر برادر عرب ممالک کا تیل پانی ہو گیا تو شدید معاشی بحران کا شکار ہونے کے بعد وہ حج اور عمرے کے ریٹ بڑھانے کے ساتھ ساتھ اپنے غریب مسلم برادران یعنی پاکستانی، بنگلہ دیشی، بھارتی، اور فلپائینی شہریوں کو بھی اپنے ملک سے نکالنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ جو باقی بچیں گے ان کی تنخواہیں کاٹ لی جائیں گی۔ ان کی ملازمت یکلخت ختم کر دی جائے گی اور کئی کئی ماہ کی تنخواہ بھی دبا لی جائے گی اور جو شخص بھی اس کے خلاف احتجاج کرے گا اسے جیل میں سڑانے کے بعد ملک بدر کر دیا جائے گا۔ اس وقت بھی صیہونی میڈیا ایسا ہی ہونے کی خبریں دے رہا ہے مگر ہماری رائے میں یہ سب جھوٹ ہے۔ بھلا کوئی اپنے بھائی کے ساتھ بھی ایسا سلوک کر سکتا ہے؟ ہم نے تو برادر اسلامی ممالک کے دفاع کی قسم کھائی ہوئی ہے، وہ بھلا ہمارے ساتھ برا کیوں کریں گے۔ الٹا وہ تو ہمارے احسان تلے دبے ہوں گے اور کسی بھی پاکستانی کو دیکھتے ہی دیدہ و دل فرش راہ کرتے ہوں گے۔

بہرحال برادر تیلی ممالک کے خلاف اس سازش کا ہمیں ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے۔ سائنس و ٹیکنالوجی، علم و حرفت، صنعت و پیداوار میں اہل مغرب کا مقابلہ کرنا تو ہم شرفا کے لئے مناسب نہیں ہے مگر خوش قسمتی سے ہمارے پاس کفار کو منہ توڑ جواب دینے کا طریقہ موجود ہے۔ امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد اپنی اہم کتاب ”غبار خاطر“ میں بیان کرتے ہیں کہ امت پر جب بھی ایسا نازک وقت پڑا ہے تو علما نے اس کا ایک ہی حل پیش کیا ہے۔ جب زار روس نے بخارا پر اور نیپولین نے مصر پر حملہ کیا تھا تو علما کے مشورے پر حکمرانوں نے ختم خواجگان کرا کر کفار کی مہیب فوجوں کا مقابلہ کرنے کی کارگر دفاعی حکمت عملی وضع کی تھی۔ یہ ٹھیک ہے کہ وقتی طور پر امیر بخارا اور خدیو مصر کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، مگر آج آپ خود ہی دیکھ لیں کہ زار روس اور نیپولین بونا پارٹ دونوں مر چکے ہیں۔

ہمارا برادر اسلامی ممالک کو بھی یہی مشورہ ہے کہ کفار کی اس سازش کے جواب میں ختم خواجگان کرایا جائے اور دشمنوں کو شکست فاش دی جائے۔

July 8, 2017

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar