یہ محبت نہیں منافقت ہے
انسانی رشتوں میں سب سے پر کشش رشتہ مرد اور عورت کی محبت کا ہے۔ دونوں اصناف کے درمیان کشش جبلی طور پہ پائی جاتی ہے۔ یہ ہمیشہ سے موجود ہے اور رہے گی۔ جہاں یہ تعلق بنتا ہے وہاں اس سے جڑے کچھ اور احساسات اور جذبات بھی پیدا ہوتے ہیں ان میں احساس ملکیت، اپنا ہونے کا احساس، اپنا حق رکھنے اور جتانے کا جذبہ عموما ایک طرح کا کنسرن سمجھا جاتا ہے۔ یہ احساس رشتے کی ابتدا میں خوش کن لگتا ہے کہ کوئی انسان کے متعلق اتنا سوچتا ہے کہ ہر سرگرمی پہ نظر رکھنا چاہتا ہے کہ کیا کھایا، کیا پہنا، کہاں گئے، کس سے ملے، حلقہ احباب میں کون کون ہے، کس کے ساتھ کتنا وقت صرف کیا۔ چھوٹی چھوٹی باتوں میں دلچسپی لینا ہر بات کا خیال رکھنا مسحور ہوتا ہے۔ ایک ایسا تعلق جو ہر رشتے سے منفرد اور ایک ایسا شخص جو ہر پل آپ کو سوچتا ہے انسان کو مسحور کرنے کے لیے کافی ہے۔ جانے اور جانے جانے کی خواہش اتنی ہی فطری ہے جتنی چاہے اور چاہے جانے کی خواہش۔ یہ اتنا اندھا تو ضرور ہی کر دیتی ہے کہ انجانے میں انسان خود کو قیدی کر بیٹھتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ احساس تو پیدا ہو جاتا ہے کہ یہ سب اتنا حسین اور خوش کن نہیں ہے لیکن تب تک اس سب سے نکلنا کافی مشکل ہوتا ہے۔
تعلق بنتے ہوئے یہی احساس ملکیت اور فکر کرنے کا انداز جو بہت حسین لگتا ہے۔ شادی کے بعد سوہان روح بن جاتا ہے وہی پوچھنا کہ کب کیا کیا، کہاں وقت گزارنا، جو پہلے محبت لگتی تھی وہ ذہنی کوفت میں مبتلا کرتا ہے۔ شک کی شکل اختیار کر جاتا ہے۔ دیکھا جائے تو یہ عدم اعتماد ہی ہے جو انسان میں وہ احساس پیدا کرتا ہے وہ محبوب کو انسان سمجھنے کی بجائے ملکیت سمجھنے لگتا ہے۔ اس جذبے میں فکر سے زیادہ ٹوہ لینے کی خواہش ہوتی ہے گو کہ ایسا کرنے والا اسے محسوس کر پاتا ہے اور نہ ہی وہ فرد جس پہ یہ سب بیت رہا ہوتا ہے سمجھ سکتا ہے۔ اسی احساس سے جڑا دوسرا جذبہ رقابت اور حسد کا ہے۔ یہ احساس کہ جسے چاہا گیا ہے وہ صرف میرا ہے رقابت کو ہوا دیتا ہے۔ دنیا میں منصف لوگ کم ہوتے ہیں وہ لوگ جو رشتوں میں توازن رکھنا جانتے ہوں یہ سمجھ سکتے ہوں کہ کسے کس جگہ پہ رکھنا ہے۔ اب حسد عقل کوماؤف کر دیتی ہے کہ انسان رشتوں کا توازن اور بعض صورتوں میں تقدس تک بھلا بیٹھتا ہے۔
اس دور کے لوگ جو ایک طرح کی ٹرانزیشن (transition) کے دور سے گزررہے ہیں دو متضاد اور تیزی سے بدلتے ہوئے معاشروں میں سانس لے رہے ہیں جہاں ایک طرف روایات کی وہ شکل ہے کہ ارینج میریج کرنا والدین کا معاملہ ہے نہ کے ان لوگوں کا جنہیں زندگی گزرانا ہے اور دوسری طرف ٹیکنالوجی کے باعث مرد او رخواتین کے درمیان گفتگو اور تعلق بنانا ایک کلک کے فاصلے پہ ہے یہ پریشانی بلکہ الجھن کے پوخر میں ڈوبے ہوئے ہیں جس سے وہ کوئی شعور اخذ نہیں کر سکتے۔ نہیں جانتے کہ رشتے کیا ہیں، بدلتے ہوئے جہان میں ان میں توازن کیسے رکھنا ہے۔ ایسی بد ترین صورتحال پیدا کرتے ہین جو ان کے اپنے لیے اور ان سے منسلک لوگوں کے لیے نہ صرف اذیت بلکہ شرمندگی کا باعث بھی ہوتی ہے۔ ایسا سماج کے منافقانہ رویے کی وجہ سے جہاں بدلتی دنیا اور اس کے تقاضوں سے انکار تو نہیں کیا جاتا لیکن کھل کے اپنایا بھی نہیں جاتا۔ روشن خیالی اور جدیدیت فیشن کے طور پہ تو اپنائے جاتے ہیں لیکن حقیقی زندگی میں ان کا اطلاق نہیں کیا جاتا کیونکہ سماج میں بقا کے لیے اس کی روایات کا لبادہ اوڑھنا ناگزیر ہے۔ مزید یہ کہ جو آزادی اپنے لیے پسند کی جاتی ہے اس کا عشر و عشیر بھی اپنے سے منسلک لوگوں کے لیے قابل قبول نہیں ہوتا۔ اس میں قصور فرد سے زیادہ اس تربیت کا ہے جو تقدس کے لبادے میں لپٹی ہر چیز کو سراہتی ہے چاہے حقیقت اس کے بر عکس ہی کیوں نہ ہو۔ تو سماج کی تبدیلی سے فائدہ تو اٹھانے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن اپنانے کی نہیں۔
یہیں سے بگاڑ پیدا ہوتا ہے ایک طرف روایتی محبوب کا تصور جو اپنے ساتھ شدید قسم کا احساس ملکیت لیے ہوئے ہے اور دوسری طرف اس آزادی کا خواب جو حسین ہے لیکن اس کے استعمال کا شعور نہیں ہے۔ وہ سماج جو عورت کو کبھی محض گھریلو کام کی سر انجامی کی مشین سمجھتا تھا آج مجبوراً اس کی قابلیت کی وجہ سے اس کے وجود کوسماج کے دیگر میدانوں میں اہمیت منانے پہ مجبور ہے لیکن اتنی ہمت نہیں کر پاتا کہ اپنے ذہن سے اس کا خود سے کمتر ہونے کا تصور نکال دے اسے ایک آزاد فرد کے طور پہ قبول کرے۔ یہ سمجھ سکے کہ وہ بغیر مرد کے حوالے کے بھی اتنی ہی لائق احترام ہے جتنا کہ اس معاشرے کا مرد۔ اس کی بجائے وہ اس عورت سے آزادی کے بدلے چاہتا ہے کہ اس کو احترام سے محروم کیا جائے گویا معاشرے کے جتنے مرد آزاد زندگی گزار رہے ہیں ان کا احترام، حقوق و فرائض نہیں ہیں۔ یعنی عورت آزادی چاہتی ہے حقوق کی بات کرتی ہے تو محترم نہیں ہے۔ وہ ایک نمبر، ایک سائز یا گفتگو رنگین بنانے کا سامان تو ہو سکتی ہے لیکن انسان نہیں ہے۔
اس الجھن کے جال میں پھنسے لوگ یہ نہیں سمجھ سکتے کہ رشتوں، تعلق اور دوستی کا صحیح مقام کیا ہے۔ قصور افراد کا نہیں ہے تیزی سے بدلتی دنیا کا بھی نہیں اس رفتار کا ہے جس سے ہم بدل رہے ہیں۔ دوغلے پن اور منافقت سے دل میں شدید خواہش لیے ہوئے کہ کھل کے جئیں لیکن ساتھ ہی یہ کینہ پالے ہوئے کہ دوسرے ایسا نہ کر سکیں۔ یہ میرے دور کے انسانوں کا المیہ ہے جن کے ہاتھ میں موبائل کی صورت جام جمشید ہے۔ جو دنیا کے کسی بھی کونے کسی بھی رنگ اور نسل سے تعلق رکھنے والے فرد تک رسائی تو دے سکتا ہے لیکن سوچ نہیں بدل سکتا رویے کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ وہ رویہ جو صدیوں میں پروان چڑھا ہے جو تہزیبوں کے تصادم کی وجہ سے وجود مین آیا ہے جس میں وجود کی بقا کے لیے ہر اس رنگ کو شامل کر لیا گیا جو اپنے ہی علاقے کے رہنے والوں سے خود کو منفرد ثابت کرنے کے لیے ضروری تھا نتیجہ منافقت اور جھوٹ ہے جس کی گرد ذہنو ں پہ اتنی گہری ہے کہ اسے ہٹا کہ کچھ دیکھنا یا سوچنا ممکن نہیں ہے۔ اسی صورتحال میں عدم اعتماد پیدا ہوتا ہے ڈھکی چھپی نفرتیں جنم لیتی ہیں، جدت کے سنگھاسن پہ بیٹھے اسی منافقت کی وجہ سے لوگ منہ کے بل گرتے ہیں لیکن سنبھلتے پھر بھی نہیں۔
سوچ کو بدلا جا سکتا ہے اگر دل اور ذہن میں کشادگی ہو وہ کشادگی جو صاف طور پہ راستہ سمجھ سکے کہ آیا کہ کھلے دل سے اس تبدیلی کو قبول کر کے اپنانا ہے یا پھر جھوٹ اور منافقت میں لپٹی روایت کو سینے سے لگا کے مزید ماضی میں سفر طے کرنا ہے۔ ہر دو صورتوں میں کم ازکم اتنا تو ہو گا کہ ہم سچ کو سمجھنا اور قبول کرنا تو سیکھ جائیں گے انسانی فکر اور جذبوں کی توہین سے بچ کے انسان کہلانے کے حق دار تو بن سکیں گے۔ گو دیکھنے میں بات معمولی ہے کم اہم ہے لیکن یہی سماج کی اکائی ہے جہاں سے باقی رویے اور سوچ پروان چڑھتی ہے۔ اگر اسی میں ٹیڑھ ہو تو باقی سب کیسے ٹھیک ہو سکتا ہے۔


