منٹو، گیلیلیو اور نواز شریف کی پاک بھارت پالیسی

"انسان ہی ابتدا ہے اور انسان ہی انتہا۔ انسان ہی سب کچھ ہے، سب کچھ انسان ہی کے لئے ہے۔ دنیا میں جو بھی اچھا ہے وہ انسان کے ہاتھوں کی پیداوار ہے یا انسانی ذہن کی تخلیق۔ انسان۔۔۔۔ اس لفظ ہی سے کیسی عظمت ٹپکتی ہے۔ انسان کی عزت کی جانی چاہیے۔ انسان پر ترس کھانے کی ضرورت نہیں، انسان احترام کئے جانے کا حق رکھتا ہے۔”
مجھ طالب علم کی کیا بساط کہ میکسم گورکی کی تشریح کروں لیکن ایک خیال سا ہے کہ گورکی یہاں محض ایک ڈرامائی مکالمہ نہیں لکھ رہا، بلکہ ایک فلسفہ بیان کر رہا ہے۔ انسان میں آخر ایسا کیا ہے کہ گورکی جیسے صناع نے توصیف کی انتہا کر دی۔ انسان نہ تو ہاتھی جیسا قوی الجثہ ہے، نہ چیتے جیسا برق رفتار، اس کے رگ پٹھے شیر جیسے توانا ہیں اور نہ وہ سانپ کی طرح دانت میں زہر کی تھیلیاں لئے پھرتا ہے۔ انسان بھیڑئے جیسا خونخوار نہیں، جسمانی قوت میں ہزاروں جاندار انسان سے بہتر قویٰ رکھتے ہیں۔ انسان تو ایک کمزور سا جاندار ہے۔ پیدا ہونے کے کئی برس بعد تک اپنا تحفظ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ قدرتی طور پر میسر آنے والے غذا کو قابل ہضم بنانے کے لئے 
سولہویں صدی میں پیدا ہونے والا گیلیلیو مشاہداتی سائنس کے بانیوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کے بے شمار سائنسی نظریات میں سب سے متنازع نظریہ یہ تھا کہ زمیں سورج کے گرد گھومتی ہے۔ گیلیلیو کوپرنیکس کے نظریات کی تائید کر رہا تھا۔ اس زمانے میں علم پر پادریوں کا اجارہ تھا۔ 1615 میں پوپ نے اسے کلیسا کی احتسابی عدالت میں طلب کر لیا۔ اس کے نظریات کو "احمقانہ اور لغو قرار دینے کے علاوہ مقدس صحائف کی مخالفت” کا مرتکب قرار دیا۔ گیلیلیو کو مجبور کیا گیا کہ وہ اپنے خیالات سے تائب ہونے کا اعلان کرے نیز باقی ماندہ زندگی اپنے گھر پر نظر بندی میں بسر کرے۔ گیلیلیو نے اپنے خیالات سے رجوع کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس کے حامیوں نے جب اسے کلیسا کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر ملامت کی تو دور اندیش گیلیلیو کا جواب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ اس نے کہا، "میرے اقرار کرنے یا انکار کرنے سے کیا فرق پڑتا ہے۔ زمیں سورج کے گرد گھومتی ہے اور گھومتی رہے گی۔”
گیلیلیو کا ذکر یہاں اس لئے چلا آیا کہ سات جولائی 2017 بروز جمعہ اسلام آباد میں نیشنل سیکورٹی کمیٹی کا اجلاس وزیر اعظم نواز شریف کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اس جلاس میں خواجہ آصف، چوہدری نثار علی، اسحاق ڈار، سرتاج عزیز، لیفٹنٹ جنرل ریٹائرڈ ناصر جنجوعہ کے علاوہ چیئرمیں جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات، فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ، بحریہ کے سربراہ ایڈمرل محمد ذکااللہ، فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل سہیل امان اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹنٹ جنرل نوید مختار بھی شریک ہوئے۔ اس اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے کا اہم ترین نکتہ وزیر اعظم سے منسوب یہ بیان تھا کہ مسئلہ کشمیر حل ہونے تک خطے میں امن کا قیام ممکن نہیں۔ یہ ایک نیم ملفوف اشارہ تھا کہ قومی پالیسی پر برسوں سے جاری کشمکش پر فیصلہ کن موقف اختیار کر لیا گیا ہے۔ وہ جو قرض رکھتے تھے جان پر، وہ حساب آج چکا دیا۔
یہ سطریں دس جولائی کی صبح لکھی جا رہی ہیں۔ عدالت عظمیٰ کے اس تاریخی اجلاس میں ابھی کچھ گھنٹے باقی ہیں جس میں جے آئی ٹی کو اپنی حتمی رپورٹ پیش کرنا ہے۔ ظاہر ہے کہ مجھ سمیت کوئی بھی آئندہ پیش رفت کے بارے میں پیش گوئی نہیں کر سکتا۔ تو اس وقفہ گل میں اختر حسین جعفری کی کچھ سطریں پڑھ لیتے ہیں۔ اس میں کہیں نہ کہیں گیلیلیو کا ذکر ضرور آیا ہے اگرچہ اس قدر مبہم کہ توہین عدالت کے زمرے میں نہیں آتا۔
مجھے چلنا نہیں آتا
شبِ ساکن کی خانہ زاد تصویرو! گواہی دو
فصیلِ صبحِ ممکن پر مجھے چلنا نہیں آتا
….
ندی رک رک کے چلتی ہے
تکلّم رہن رکھنے سے سفر آساں نہیں ہوتا
ہوا پسپا جہاں پانی
جہاں موجوں نے زنجیرِ وفا پہنی، سپر گرداب کی رکھ دی
عَلَم رکھے ، قلم رکھے
خفا بادل نے جن پایاب دریاؤں سے منہ موڑا
جہاں تاراج ہے کھیتی
جہاں قریہ اجڑتا ہے
طنابِ راہ کٹتی ہے، کہیں خیمہ اکھڑتا ہے
وہاں سے دور ہے ندی
وہاں سے دور ہے بچہ کہ اس کے پاو ¿ں
دریاؤں کے رستے سے ابھی نا آشنا ہیں
اور اس کا باپ گونگا ہے
اسے چلنا نہیں آتا
فصیلِ صبحِ ممکن پر اسے چلنا نہیں آتا
