علی بابا اور چالیس چوروں کی نئی پرانی کہانی

پرانے زمانے کا ذکر ہے کہ علی بابا نامی ایک بہت ہی غریب شخص ہوا کرتا تھا۔ وہ اتنا زیادہ غریب تھا کہ اس کے پاس صرف ایک گدھا تھا جس پر وہ جنگل سے سرکاری لکڑی چرا کر لاتا تھا اور ایک کنیز مرجینا تھی جس سے وہ عقل کی باتیں سیکھا کرتا تھا۔ کرنا خدا کا یہ ہوا کہ اسے چالیس چوروں کے طلسمی غار کا پتہ چل گیا اور اس نے چوری کا سارا مال اپنے گدھے پر لاد کر اپنے گھر پہنچا دیا اور عیش کرنے لگا۔ چوروں کے سردار کو پتہ چلا تو وہ ایک تاجر کے روپ میں علی بابا کا مہمان ہوا اور اپنے چالیس چوروں کو مٹکوں میں چھپا کر ساتھ لے آیا کہ ان مٹکوں میں شہد بھرا ہوا ہے۔ مرجینا کو شبہ ہوا تو اس نے علی بابا کو رپورٹ دے دی ہے کہ چوروں کا سردار بظاہر تنہا ہے، مگر اس کے پاس موجود مٹکوں میں چالیس چور چھپے ہوئے ہیں، ان سب کو پکڑا جائے۔

علی بابا نے اصرار کیا کہ نہیں، ہمیں صرف سردار سے خطرہ ہے، باقی چالیس چور جو مرضی کریں ہمیں ان سے مطلب نہیں ہے۔ بلکہ ان میں سے اگر کچھ ہماری غلامی میں آنا چاہیں تو ہم خوش ہوں گے اور ان کو خلعت دیں گے۔ اگر ہم نے سردار کو پکڑ لیا تو باقی سب چور خود بخود درویش بن جائیں گے اور اللہ سے لو لگا لیں گے۔ مرجینا پریشان ہوئی۔ کہنے لگی کہ چوروں کا سردار پکڑا بھی گیا تو انہی مٹکوں میں سے ایک دوسرا چور نکل کر چوروں کا سردار بن جائے گا۔ سب مٹکوں پر نظر رکھنی چاہیے۔ علی بابا نے مرجینا کے مسلسل اصرار سے تنگ آ کر اسے اجازت دی کہ وہ چاہیے تو مزید تحقیق کے لئے منیب نامی چلنے پھرنے سے قاصر فالج زدہ غلام کو اٹھا کر اس سے مٹکے چیک کروا لے۔ مرجینا اس پر علی بابا کے واری صدقے ہوئی۔ سردار کو مار دیا گیا۔ مٹکے یونہی پڑے رہے۔ ایک مٹکے سے ایک چور نکلا اور سرداری کرنے لگا۔

خیر یہ تو پرانی کہانی تھی۔ آج کی کہانی یہ ہے کہ عمران خان صاحب نے چوروں کے سردار کو پکڑنے کے لئے عدالت میں دعوی کیا۔ عدالت نے کرپشن پکڑنے کے ذمہ دار سرکاری کارندے بلائے۔ پھر ان کی کارکردگی سے مایوس ہو کر کہا کہ چیئرمین نیب نے اپنے اختیار کو دفن کر دیا اور یہ ادارے کے مفلوج ہونے کا آئیڈیل کیس ہے۔ اب جے آئی ٹی نے اسی آئیڈیل قسم کے مفلوج ادارے کو چور پکڑنے کا فرہضہ تفویض کرنے کی سفارش آئی ہے۔ عمران خان صاحب اس پر خوش ہیں۔

سوال یہ ہے کہ اگر سیاست سے کرپشن کا خاتمہ کرنا مقصود ہے، تو کیا کرپشن کے قوانین کا اپنوں اور غیروں پر یکساں عمل مفید رہے گا یا کسی ایک شخص کو ہی نشانہ بنانے سے اثر پڑے گا۔ فرض کیا کہ میاں نواز شریف اپنی کرسی سے ہٹ بھی گئے، تو وہ کیا اسی طرح اپنا کٹھ پتلی وزیراعظم مقرر کر کے حکمرانی جاری نہیں رکھیں گے جیسا آصف علی زرداری کرتے رہے ہیں؟ کیا الطاف حسین خود براہ راست الیکشن جیتتے ہیں اور وزارت پاتے ہیں یا ان کے غلام یہ کرتے ہیں؟ میاں صاحب کے پاس بھی ریموٹ کنٹرول کھلونوں کی کمی نہیں ہے۔ یقین نہیں آتا تو وہ وقت یاد کریں جب دوست محمد کھوسہ کو پنجاب کا عارضی وزیراعلی مقرر کیا گیا تھا۔ ہم خواہ جتنی بھی اعلی اخلاقی اقدار کے پرچارک ہوں مگر زمینی حقیقت یہی بدقسمتی ہے کہ عوام ووٹ دیتے وقت لیڈر کے کردار کو اہمیت نہیں دیتے ہیں۔

لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ کرپشن یا دھاندلی وغیرہ کے خلاف مہم کے نام پر کسی ایک فرد کو ہی نشانہ بنایا جائے اور چار برس سے واحد مطالبہ یہ ہو اسے سیٹ سے ہٹایا جائے، تو اس مہم کا مقصد کرپشن کو ٹارگیٹ کرنا نہیں لگتا ہے۔

احتساب اور کرپشن کے نام پر سیاسی مخالفین سے چھٹکارا پانے کی روایت بہت پرانی ہے۔ 1949 میں پروڈا (public and representative officer disqualified act) نامی قانون لایا گیا تھا جو کہ موثر بہ ماضی کر کے 1947 تک لاگو کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد ایوب خان کا ایبڈو آیا۔ آمروں نے سیاستدانوں کو کرپشن کے نام پر ہمیشہ بدنام کیا اور جمہوری اداروں کے اختیارات کو چھینا۔ سنہ نوے کی دہائی کی اقتداری میوزیکل چیئرز تو آپ کو یاد ہوں گی جن میں یہی نواز شریف اور بے نظیر کرپشن کے نام پر بار بار ہٹائے اور لائے جاتے تھے۔ میاں نواز شریف کا اپنا احتساب بیورو کون بھول سکتا ہے؟

معاملہ کرپشن نہیں ہے۔ ورنہ اپنے بیگانے تمام سیاستدان نشانہ بنتے، ہر قسم کے سرکاری افسران کے خلاف یہ مہم چلتی۔ قانون کی حکمرانی کی بات ہوتی کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں ہے۔ مگر ایسا نہیں ہے۔

علی بابا صرف سردار کو پکڑنا چاہتا ہے اور قوم کو یقین دلا رہا ہے کہ اس سے کرپشن ختم ہو جائے گی، مٹکوں میں چھپے چالیس چوروں کو سب نظرانداز کر رہے ہیں۔

تو کیا خیال ہے، اگر نواز شریف کے خاندان پر مکمل پابندی بھی لگا دی گئی، تو کیا وہ بھی لندن بیٹھ کر ریموٹ سے حکمرانی نہیں کریں گے؟ کیا اگلا وزیراعظم شہباز شریف کے خانوادے سے نہیں آ جائے گا جن کا نام اس کیس میں کہیں بھِی نہیں ہے؟ میں آپ کو زیادہ ڈرانا تو نہیں چاہتا مگر یاد رہے کہ عابد شیر علی بھی خاندانِ شریفاں کے ایک فرد ہیں اور وزیراعظم لگائے جا سکتے ہیں۔ تو پھر ایک فرد یا گھرانے کو ہٹانے کی اس بے مقصد مہم کا نتیجہ کیا نکلے گا؟ ہمیں اچھا لگے یا برا، مگر زمینی حقیقت یہی ہے کہ 1993 سے کرپشن کے الزاموں کی زد میں آنے والے نواز شریف کو عمران خان سے دگنے ووٹ ملتے ہیں۔

لاہور کے لوہاری دروازے کی زبان میں اس معاملے کو یوں بیان کرتے ہیں ”کھایا پیا کچھ نہیں، گلاس توڑا بارہ آنے“۔

اگر سب سیاستدانوں اور افسروں کو کرپشن کے شکنجے میں لانے کی مہم چلائی جائے تو میں جی جان سے اس کی حمایت کروں گا۔ لیکن اگر 1949 کے پروڈا سے شروع ہونے والی وہی پرانی کہانی دہرائی جا رہی ہے تو میں جی جان سے اس کی مخالفت کرنے پر مجبور ہوں۔

 

Comments - User is solely responsible for his/her words